Thursday, 5 July 2018

ہم سنا نہ سکے

ہم سنا نہ سکے
تم کو فرصت نہ ملی
من کی باتیں ، من میں رہ گئیں
اب کیا سنائیں
اب کون سنے گا
کون سنے گا خواب ادھورے
کون سنے گا ٹوٹی آسیں
کس سے کہوں
کیسے کہوں
ٹھنڈی آہیں بھرتے بھرتے
کیسے بیتی  عمر ہماری
کیا ہوئے وہ خواب ادھورے
کیسے سلگے ارماں اپنے
بولنا چاہا ، بول نہ پائے
سوچتے رہ گئے کہ بول ہی دیتے
اب تو دل بھی ساتھ نہیں ہے
سانسیں بھی اب روٹھنے لگ گئیں
ساری خواہشیں ٹوٹنے لگ گئیں
جانتے ہیں انجان نہیں ہیں
اک دردتم بھی رکھتے ہو
ہم تم کو یاد بھی آتے ہیں
اب تم بھی آہیں لیتے ہو
اب تم بھی بولنا چاہتے ہو
اب چند سانسوں کا کھیل ہے باقی
اب سن بھی لیا تو گیا ہوگا
اب بول بھی دیا تو کیا ہوگا
آزاد ھاشمی
٥ جولائی ٢٠١٨


No comments:

Post a Comment