" دعا کا طریقہ اور سلیقہ "
ہم اکثر دعائیں اس انداز سے کرتے ہیں ۔
" اللہ تجھے صحت کاملہ دے "
" اللہ تجھے لمبی عمر عطا کرے " وغیرہ وغیرہ
اگر اس پر غور کیا جائے ، تو اس میں اللہ سے التجا نہیں ہے بلکہ حکم ہے یا پھر ایک خواہش کا اظہار ہے ۔ التجا کا انداز نظر نہیں آتا ۔
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیشمار دعائیں سکھائیں ۔ انبیاء نے دعا کیسے مانگی اور ہمارے پیارے نبیؐ کا دعا کا طریقہ کیا تھا ۔ ہم نے ان دعاوں سے بہت کم استفادہ کیا ہے ۔ ایسا انداز اپنا لیا ہے جو آسان ترین ہو بھلے اصل مدعا بیان نہ ہو ۔
ہمیں قرآن کے آغاز میں دعا مانگنے کا احسن ترین طریقہ اور ترتیب بیان کر دی گئی ۔
" الحمد للہ رب العلمین " اقرار کیا جائے کہ ہر تعریف صرف کائنات کے نظام کو چلانے والے کی ہے ۔ جو ہوا ، جو ہو رہا ہے اور جو کچھ ہوگا ، سب کا سب اسی کی شان اور اختیار ہے ۔
" الرحمن الرحیم " رحم کرتا ہے ، بے انتہا کرتا ہے اور کرتا ہی رہتا ہے ۔ کافر اور مشرک کی حاجات کا بھی خیال رکھتا ہے اور پوری کرتا ہے اور مسلسل کرتا ہے ۔ اپنے ماننے والوں کو بھی عطا فرماتا ہے اور اپنے ہر وعدے کے مطابق دیتا ہے ۔ یہ ہے رحمٰن اور رحیم کی شان ۔
" مالک یوم الدین " حساب و کتاب پر اختیار رکھتا ہے ۔ پکڑنے پر بھی قادر ہے اور معاف کر دینے پر بھی مختار ہے ۔
گویا دعا مانگنے سے پہلے رب کائنات کی تمحید و تقدیس بیان کرنا ، دعا کا کلیہ اور قاعدہ ہے ، دعا کا طریقہ اور سلیقہ ہے ۔
" ایاک نعبد و وایاک نستعین "
عبادت اور صرف اللہ کیلئے عبادت ۔ ریا ، مطلب اور خود غرضی سے پاک عبادت ہی اللہ کیلئے کی جانے والی عبادت ہے ۔ اقرار کرنا ہوگا اپنی عبدیت کا ، اللہ سے مدد مانگنے کیلئے ۔ دعا سے پہلے اپنی عبدیت کا یقین دلانا ہو گا ۔
پھر دعا اور مدعا بیان کیا جائے ۔ دعا کیسی ہو ؟ کیا مانگا جائے ؟ کیا طلب کیا جائے ؟
" اھد نا الصراط المستقیم "
وہی مانگا جائے ، جو سیدھے راستے کیطرف لے جاتا ہو ۔ بہکنے والی کوئی غرض سامنے نہ رکھی جائے ۔ اللہ پر فیصلہ چھوڑ دیا جائے کہ وہ جو ہمارے لئے صالح اور طیب سمجھے ، ہمیں عطا کرے ۔ اگر دعا مانگنے میں ، طلب کرنے میں کوئی جھول ہے ، تو اللہ سبحانہ تعالیٰ کے فیصلے پر چھوڑ دیا جائے ۔
" صراط الذین انعمت علیھم ۔
غیر الغضوب علیھم و لا الضالین "
ایسی دعاوں کی قبولیت کی التجا کی جائے ، جو اللہ کے انعام یافتہ کا معمول تھا ۔ ایسا کچھ نہ طلب کیا جائے جو گمراہوں اور مغضوب مانگتے رہے ۔
یعنی دعا کا قاعدہ ہے کہ جو بھی مانگا جائے ، وہ ایسا نہ ہو کہ جس سے گمراہوں کے راستے کی طلب نظر آئے ، ایسا ہو جو انعام پانے والے صالحین کی دعاوں کیطرح ہے ۔
آسان لفظوں میں اگر ہم اپنے کسی بھائی کیلئے کچھ مانگ رہے ہوں تو الفاظ کا چناو بہت لازم ہے ۔ جیسے ہم اپنے کسی بیمار بھائی کیلئے دعا کریں تو یوں کہا جائے ۔
" اے شفاء اور صحت و تندرستی پر قدرت رکھنے والے مالک ! تیرے سوا کون ہے جو میرے بھائی کو صحت دے سکتا ہے ۔ اپنے رحم کو کرم سے میرے بھائی کو صحت و تندرستی عطا فرما دے ۔ اے اللہ ہم تیرے بندے ہیں ، ہماری دعا سن لے ۔ قبول فرما لے ۔ "
صرف یہ کہہ دینا کہ
" اللہ صحت کاملہ عطا فرمائے " دعا کا مناسب سلیقہ نہیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ مارچ ٢٠١٩
Thursday, 21 March 2019
دعا کا طریقہ اور سلیقہ
علیؑ کی ولادت
" علیؑ کی ولادت "
عظمت کے نشان کیلئے حسب اور نسب کی اپنی اہمیت ہے ۔ کچھ ایسے امور اور ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جو تمام خاندانی ، قبائلی اور معاشرتی روایات سے ہٹ کر کسی بھی فرد کو مزید ممتاز کر دیتے ہیں ۔ کچھ ایسے اچنبھے بھی ہو جاتے ہیں ، جنہیں معجزات کا نام دے لیں ، کوئی مخصوص نشان کہہ لیں یا کوئی خاص انعام کہیں ، جو صرف ایک بار ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ تاریخ کبھی نہیں دہراتی ۔ کعبہ کی تعمیر سے لیکر صدیوں کی تاریخ میں اعداد و شمار سے ماوراء نفوس نے اپنے اپنے ایمانی جذبے سے " اللہ کے اس گھر " کا طواف کیا ۔ طہارت اور پاکیزگی کا ہر ممکن اہتمام کیا ۔ کیونکہ اس جگہ کو اللہ نے زمین پر اپنا گھر قرار دیا ۔ اللہ کے گھر میں جو بھی آتا ہے ، اللہ کا مہمان ہوتا ہے ۔ مگر اس گھر کی تاریخ میں ایک بار ، صرف ایک بار ایسا ہوا ۔ ایک اور صرف ایک ایسا وجود ہے ، جو یہاں مہمان بن کر نہیں آیا بلکہ گھر کے مکین کی شکل میں آیا ۔ کیونکہ دنیا کی روایت ہے کہ جو جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کا مکین کہلاتا ہے وہ وجود ، قریش کے سردار کا بیٹا " علیؑ " ہے ۔ حیران ہوں کہ بچے کی پیدائش پر الائش کا ہونا لازم ہے ۔ کسی ولادت کے وقت اور مخصوص وقت تک طہارت نہیں رہتی ۔ پھر " علیؑ " کی ولادت پر اللہ نے ، علیؑ کی ماں کو کعبے میں بلایا بھی ، کعبے کی دیوار سے ٹیک لگانے کی اجازت بھی دی ، ولادت کے وقت کی کسی بھی الائش کو طہارت کے متضاد بھی نہیں سمجھا اور ولادت کے بعد کعبے کو غسل دینے کا بھی نہیں کہا ۔ تعجب یہ بھی ہے کہ قریش اور دوسرے قبائل میں سے کسی ایک کو عذر تک نہیں ہوا کہ علیؑ کی ماں بچے کی ولادت کے وقت کعبہ کیوں آئی ۔ گویا پوری کائنات کو تسلیم تھا کہ علیؑ کی ولادت دنیا کے ہر بچے کی ولادت سے الگ ہے ۔
یہ وہ اعزاز ہے جس نے ابوطالب کے بچے کو " علی " کیا ۔ یہ وہ بچہ تھا ، جو کائنات میں زمانہ طفلی میں " نبوت اور رسالت " کی گواہی دینے والا تھا ۔ دنیا میں نابالغ کی عام گواہی بھی مستند نہیں ہوتی مگر علیؑ کی گواہی ، نبوت اور رسالت کی ناقابل تردید اور ناقابل شک گواہی ہونے والی تھی ۔
طرہ امتیاز یہ بھی ہے ، کعبہ والے نے جس کٹھن پر کوئی دوسرا موزوں نہ ہوا ، رسولؐ کو حکم دیا کہ مولود کعبہ کو بلا لو ۔ اللہ کے دین کو جہاں بھی ضرورت ہوئی " آل رسولؐ اور اولاد علیؑ " نے اپنے سر حاضر کر دئیے ۔ گویا علیؑ کے مولود کعبہ ہونے کا ہر ہر حق ادا کیا ۔
آزاد ھاشمی
٢١ مارچ ٢٠١٩
Monday, 18 March 2019
پیسے کا کیا کروں گا
" پیسے کا کیا کروں گا؟ "
" بابا جی ! آپ کا کبھی دل نہیں چاہا کہ آپ کے پاس بھی ڈھیر ساری دولت ہو ؟ "
پوری بستی میں ، مجھ سے زیادہ بابا جی کے قریب کوئی دوسرا نہیں تھا ۔ ہم عمر کے فرق کے باوجود اچھے اور بے تکلف دوست تھے ۔ دس سال کی طویل مدت سے آشنا تھے ۔ جب انہوں نے پہلی بار پکوڑے بنائے تو میں انکا پہلا گاہک تھا ۔ میں اکثر ذاتی سوال پوچھ لیا کرتا ہوں اور وہ ہمیشہ خوشدلی سے جواب دیتے ہیں ۔ مگر آج اس سوال پر خاموشی تھی ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ بابا جی نے میرا سوال سنا ہی نہیں ۔
" اگر میں آپ ایک خطیر رقم دوں کہ آپ اچھا سا ریسٹورنٹ بنا لیں " میں آفر کی تو بابا مسکرائے ۔ پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھا ۔ میں سمجھا کہ آفر قبول ہوئی ہے ۔
" بیٹا ! ایک وقت تھا کہ میں اس دولت کے حصول میں رات دن بھاگتا تھا ۔ ہر ممکن جتن کیا ہے میں نے ۔ پھر یہ دولت میرے گھر میں آکر بیٹھ گئی ۔ جیسے جیسے دولت آتی رہی ، عزیز رشتے دار بڑھتے رہے ۔ دوستوں کی ایک قطار بن گئی ۔ میں تکبر کا مریض ہو گیا ۔ " بابا جی نے سٹول میری طرف کیا اور خود ٹوٹی دیوار پر بیٹھ گئے ۔
" یہ پیسے کی ریل پیل ، حقیقی اور مخلص رشتوں سے دور کر دیتی ہے ، خودغرض اور خوشامدی لوگوں کے قریب کر دیتی ہے ۔ یہی میرے ساتھ ہوا ۔ میرا سکون مجھ سے دور چلا گیا "
بابا جی کی پلکیں بوجھل ہو گئیں
" میں اللہ سے دور ہوگیا اور پیسے سے قربت بنا لی ۔ پیسہ کوٹھے والی رنڈی کیطرح ہوتا ہے ۔ جو اسکی پوجا کرے اسی کے پاس چلا جاتا ہے ۔ ایک دن میں ، میں ہوا میں اڑتے اڑتے ، زمین پہ آن گرا ۔ اللہ بہت کریم ہے ، پتہ نہیں اسے مجھ پر کیسے رحم آگیا کہ پیسہ چلا گیا اور میں اللہ کیطرف بڑھنے لگا "
بابا جی کا جملہ میری سمجھ سے باہر تھا ۔
" بیٹا جو دولت اللہ سے دور کردے ، وہ شیطان کا وار ہوتا ہے ۔ ایسی دولت کو چلا ہی جانا چاہئیے ۔ بس دولت چلی گئی اور میں پھر سے اللہ کیطرف بڑھنے لگا ۔ اب میرے لئے دولت بے معنی ہو گئی ہے ۔ اس لئے کیا کروں گا اسکا ۔ جو سکون میرے پاس ہے ، وہ صرف اللہ والوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ دنیا والوں کو تو پیسے کی گنتی ہی بے سکون رکھتی ہے ۔ "
آزاد ھاشمی
١٧ مارچ ٢٠١٩
بت پرستی
" بت پرستی "
اللہ سبحانہ تعالی نے اسلام کو عقل و دانش اور حقیقی روشنی کا دین بنایا ۔ بت پرستی جہالت تھی اور ابتدا سے جاری تھی ۔ اسکی جگہ روشنی اور ہدایت کی شمع جلانے کیلئے انبیاء کو آگ میں کودنا پڑا ، جانیں دینا پڑیں ، ہزار ہا سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر انبیاء کے سردار حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔ تا کہ اللہ کے گھر سے بتوں اور گمراہی کو دور کر کے ، پوری دنیا میں ہدایت اور روشنی پھیلا دی جائے ۔ جہالت کی سر زمین پر علم کی شمع جل اٹھی ۔ جہالت سکڑ کر ایک مخصوص خطہ کا دین بن گئی ۔ یہ روشنی قرآن کی صورت میں اور اسوہ حسنہ کی عملی شکل میں امت مسلمہ کو نصیب ہوئی ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ اللہ کے حبیبؐ کی امت ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس روشنی کو دنیا میں متعارف کرانے کی ذمہ داری نبھاتے مگر مسلمان قرآن اور اسوہ حسنہ کو مضبوطی سے تھامنے کی بجائے ، اپنی تحقیق میں ایسے لگے کہ اسلام کی اصل تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ۔ سب نے اپنے اپنے راستے بنا لئے یا یوں کہہ لیں کہ سب نے اپنی اپنی سمتیں ، بتوں کی طرح متعین کر لیں ۔ لوگ اللہ کی مساجد کو اپنے مسالک کے نام پر تعمیر کرنے لگے ۔ قرآن کی تعلیم کی بجائے اپنے اپنے فلسفے ، فقہ ، اجتہاد اور تفاسیر پر توجہ مرکوز کر لی گئی ۔ اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنے اپنے امام بنا لئے ۔ پیروں کے قدموں پر سر ٹیکنے لگے ، مزاروں سے حاجات مانگنے لگے ، یہی وہ سوچ اور تعلیم ہے جس نے آج بھی ہمارے اندر کی بت پرستی کو ختم نہیں ہونے دیا ، ہم اسی جہالت میں پڑے رہے جس سے نکالنے کیلئے قرآن اور اسوہ حسنہ کافی تھے ۔ اور پھر سے اپنے اپنے رخ غیر اللہ کی طرف موڑے بیٹھے ہیں ۔ کافروں کے سامنے دو زانو حکمران بت پرست ہیں ۔ علماء مسالک کی پٹی باندھے دین کی اصل تعلیم سے نا بلد ہو گئے ۔ دولت کی ہوس اور طاقت کا خوف ہمارے مذہبی رحجان پر غالب آگیا ۔ یہ بھی تو بت پرستی ہی کی شکل ہے ۔بت پرستی صرف پتھر کی مورتی کو پوجنا نہیں ، اغراض کے حصول کیلئے کسی بھی غیر اللہ کے سامنے جھک جانا بت پرستی ہے ۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم نے سیاست کے سحر میں دین کی حقانیت کو فراموش کر دیا ۔
اقتدار کے پجاریوں کو اپنا رہنما اور مسیحا مان لیا ، کہ گھروں میں ، جہاں قرآنی آیات آویزاں ہونا چاہئیے تھیں وہاں سیاسی لیڈروں کی تصویریں لٹک رہی ہیں ۔ وہ قائدین جو بتوں کے سامنے دئیے جلاتے ہیں ، جو مزاروں کی چوکھٹ پر جبین ٹیک دیتے ہیں ۔ یہی بت پرستی ہے ۔
آج مندر وہاں بن رہے ہیں ، جہاں سے مندر اکھاڑنے کی ابتداء ہوئی تھی ۔ آج پھر ہمارے اندر کا کفر با اعلان باہر نکل آیا ۔ ہم جو سر اللہ کے سامنے جھکانے پر فخر کرتے تھے اب بتوں کے سامنے جھکانے کی ذلت سے دوچار ہوگئے ہیں ۔ شیطان کی فتح کو ہم اپنی صلح جوئی اور سیکولر سوچ کہنے لگے ہیں ۔ اس ساری بد بختی کی وجہ کیا ہے ؟ نہ سوچیں گے اور نہ سمجھیں گے تاوقتیکہ رات کے اندھیرے میں یا دن کی روشنی میں کوئی آفت نہ آ پکڑے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہو ، ہم ذلت اور رسوائی سے نکل آئیں ۔ تو ہمیں بت پرستی ، شخصیت پرستی ، پیر پرستی سے الگ ہو کر وحدانیت کیطرف لوٹنا ہو گا ۔ یہی فلاح کی راہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٩ فروری ٢٠١٩
خیرات اور وسوسے
" خیرات اور وسوسے "
زکوٰة کیلئے اسلام نے ایک پیمانہ قائم کر دیا اور اسکے تصرف کی بھی حد بندی کردی ۔ خیرات اور صدقہ کیلئے کوئی پیمانہ نہیں اور کوئی حد بندی بھی نہیں ۔ خیرات کیلئے یہ بھی حکم ہے کہ اسطرح کی جائے کہ داہنے ہاتھ سے دیا جائے تو باہنے ہاتھ کو پتہ نہ ہو ۔ خیرات کا دوسرا اصول یہ بھی ہے کہ جسے خیرات دی جائے اسے ستایا نہ جائے ۔
خیرات کا بہت واضع کلیہ ہے کہ انسان کا ضمیر اسے آواز دیتا ہے ۔
" فلاں شخص کی مدد کرنی چاہئیے ،"
یہ مدد مالی بھی ہو سکتی اور دیگر امور میں بھی ، جس پر خیرات کرنے والا قادر ہے ۔
یہ آواز دراصل اللہ کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے جو اچانک اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے ۔ جسے دل بھی تسلیم کرتا ہے اور دماغ بھی تائید کرتا ہے ۔ اگر یہ آواز کسی شخص کو ملتی ہے تو عین اسی وقت شیطان شامل ہو جاتا ہے ۔ وہ وسوسے ڈالنے لگتا ہے کہ جس شخص کی مدد کا ارادہ کر رہے ہو ، وہ اس مدد کا مستحق نہیں ۔ یا یہ ذہن میں ڈال دیتا ہے کہ جو خیرات کرنے جارہے ہو ، تمہارے وسائل اسکی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ وہ وسوسہ ہے جو انسان کو رب کی رضا سے دور کرنے لگتا ہے اور انسان اس ارادے کو پس پشت ڈال دیتا ہے ۔
ہماری خیرات بسا اوقات مشروط ہوتی ہے کہ
" اگر اللہ نے میری یہ خواہش پوری کی ، اگر مجھے اتنے پیسے مل گئے ، اگر مجھے یہ کامیابی ملی ، اگر میرا کاروبار اسقدر بڑھ گیا تو میں یہ خیرات کروں گا ، یہ اللہ کے نام پر خرچ کروں گا "
یہ مشروط خیرات "تجارت " ہے ۔ اللہ سے سودے بازی ہے اور شیطان کی طرف سے ذہن میں ڈالی گئی حجت ہے ۔ تا کہ انسان کا وہ عمل جو نیکی کی طرف لے جارہا تھا ، وہ ارادہ تبدیل ہو جائے اور اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ارادہ تبدیل ہو جاتا ہے ۔
اللہ کو شیطان نے ایک چیلنج کیا تھا کہ میں تیرے بندوں کو بہکاوں گا ۔ اور جب بندہ بہک جاتا ہے ، وسوسوں میں پڑ کے نیکی کا موقع ضائع کر لیتا ہے تو اللہ سے دور ہو جاتا ہے ۔ دولت کی ہوس اس کے ذہن پر غالب ہو جاتی ہے اور وہ خیرات نہ کرنے کے حیلے بہانے تلاش کرنے لگتا ہے ۔
سیدھا سا اصول ہے کہ اگر ضمیر آواز دے کہ مجھے کسی شخص کی مدد کرنی چاہئے تو اس پر عمل کر دینا چاہئے کیونکہ کہ یہ اللہ کی رضا ہے جو دل میں ڈالی گئی ہے ۔ اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہئے کہ وہ یہ نیکی آپ سے کروانا چاہتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٣ مارچ ٢٠١٩