" خیرات اور وسوسے "
زکوٰة کیلئے اسلام نے ایک پیمانہ قائم کر دیا اور اسکے تصرف کی بھی حد بندی کردی ۔ خیرات اور صدقہ کیلئے کوئی پیمانہ نہیں اور کوئی حد بندی بھی نہیں ۔ خیرات کیلئے یہ بھی حکم ہے کہ اسطرح کی جائے کہ داہنے ہاتھ سے دیا جائے تو باہنے ہاتھ کو پتہ نہ ہو ۔ خیرات کا دوسرا اصول یہ بھی ہے کہ جسے خیرات دی جائے اسے ستایا نہ جائے ۔
خیرات کا بہت واضع کلیہ ہے کہ انسان کا ضمیر اسے آواز دیتا ہے ۔
" فلاں شخص کی مدد کرنی چاہئیے ،"
یہ مدد مالی بھی ہو سکتی اور دیگر امور میں بھی ، جس پر خیرات کرنے والا قادر ہے ۔
یہ آواز دراصل اللہ کی طرف سے اشارہ ہوتا ہے جو اچانک اللہ سبحانہ تعالیٰ اپنے بندے کے دل میں ڈال دیتا ہے ۔ جسے دل بھی تسلیم کرتا ہے اور دماغ بھی تائید کرتا ہے ۔ اگر یہ آواز کسی شخص کو ملتی ہے تو عین اسی وقت شیطان شامل ہو جاتا ہے ۔ وہ وسوسے ڈالنے لگتا ہے کہ جس شخص کی مدد کا ارادہ کر رہے ہو ، وہ اس مدد کا مستحق نہیں ۔ یا یہ ذہن میں ڈال دیتا ہے کہ جو خیرات کرنے جارہے ہو ، تمہارے وسائل اسکی اجازت نہیں دیتے ۔ یہ وہ وسوسہ ہے جو انسان کو رب کی رضا سے دور کرنے لگتا ہے اور انسان اس ارادے کو پس پشت ڈال دیتا ہے ۔
ہماری خیرات بسا اوقات مشروط ہوتی ہے کہ
" اگر اللہ نے میری یہ خواہش پوری کی ، اگر مجھے اتنے پیسے مل گئے ، اگر مجھے یہ کامیابی ملی ، اگر میرا کاروبار اسقدر بڑھ گیا تو میں یہ خیرات کروں گا ، یہ اللہ کے نام پر خرچ کروں گا "
یہ مشروط خیرات "تجارت " ہے ۔ اللہ سے سودے بازی ہے اور شیطان کی طرف سے ذہن میں ڈالی گئی حجت ہے ۔ تا کہ انسان کا وہ عمل جو نیکی کی طرف لے جارہا تھا ، وہ ارادہ تبدیل ہو جائے اور اکثر ایسا ہو جاتا ہے کہ ارادہ تبدیل ہو جاتا ہے ۔
اللہ کو شیطان نے ایک چیلنج کیا تھا کہ میں تیرے بندوں کو بہکاوں گا ۔ اور جب بندہ بہک جاتا ہے ، وسوسوں میں پڑ کے نیکی کا موقع ضائع کر لیتا ہے تو اللہ سے دور ہو جاتا ہے ۔ دولت کی ہوس اس کے ذہن پر غالب ہو جاتی ہے اور وہ خیرات نہ کرنے کے حیلے بہانے تلاش کرنے لگتا ہے ۔
سیدھا سا اصول ہے کہ اگر ضمیر آواز دے کہ مجھے کسی شخص کی مدد کرنی چاہئے تو اس پر عمل کر دینا چاہئے کیونکہ کہ یہ اللہ کی رضا ہے جو دل میں ڈالی گئی ہے ۔ اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہئے کہ وہ یہ نیکی آپ سے کروانا چاہتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٣ مارچ ٢٠١٩
Monday, 18 March 2019
خیرات اور وسوسے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment