Monday, 18 March 2019

پیسے کا کیا کروں گا

" پیسے کا کیا کروں گا؟ "
" بابا جی ! آپ کا کبھی دل نہیں چاہا کہ آپ کے پاس بھی ڈھیر ساری دولت ہو ؟ "
پوری بستی میں ، مجھ سے زیادہ بابا جی کے قریب کوئی دوسرا نہیں تھا ۔ ہم عمر کے فرق کے باوجود اچھے اور بے تکلف دوست تھے ۔ دس سال کی طویل مدت سے آشنا تھے ۔ جب انہوں نے پہلی بار پکوڑے بنائے تو میں انکا پہلا گاہک تھا ۔ میں اکثر ذاتی سوال پوچھ لیا کرتا ہوں اور وہ ہمیشہ خوشدلی سے جواب دیتے ہیں ۔ مگر آج اس سوال پر خاموشی تھی ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ بابا جی نے میرا سوال سنا ہی نہیں ۔
" اگر میں آپ ایک خطیر رقم دوں کہ آپ اچھا سا ریسٹورنٹ بنا لیں " میں آفر کی تو بابا مسکرائے ۔ پیار بھری نظروں سے میری طرف دیکھا ۔ میں سمجھا کہ آفر قبول ہوئی ہے ۔
" بیٹا ! ایک وقت تھا کہ میں اس دولت کے حصول میں رات دن بھاگتا تھا ۔ ہر ممکن جتن کیا ہے میں نے ۔ پھر یہ دولت میرے گھر میں آکر بیٹھ گئی ۔ جیسے جیسے دولت آتی رہی ، عزیز رشتے دار بڑھتے رہے ۔ دوستوں کی ایک قطار بن گئی ۔ میں تکبر کا مریض ہو گیا ۔ " بابا جی نے سٹول میری طرف کیا اور خود ٹوٹی دیوار پر بیٹھ گئے ۔
" یہ پیسے کی ریل پیل ، حقیقی اور مخلص رشتوں سے دور کر دیتی ہے ،  خودغرض  اور خوشامدی لوگوں کے قریب کر دیتی ہے ۔ یہی میرے ساتھ ہوا ۔ میرا سکون مجھ سے دور چلا گیا "
بابا جی کی پلکیں بوجھل ہو گئیں
" میں اللہ سے دور ہوگیا اور پیسے سے قربت بنا لی ۔ پیسہ کوٹھے والی رنڈی کیطرح ہوتا ہے ۔ جو اسکی پوجا کرے اسی کے پاس چلا جاتا ہے ۔ ایک دن میں ، میں ہوا میں اڑتے اڑتے ، زمین پہ آن گرا ۔ اللہ بہت کریم ہے ، پتہ نہیں اسے مجھ پر کیسے رحم آگیا کہ پیسہ چلا گیا اور میں اللہ کیطرف بڑھنے لگا "
بابا جی کا جملہ میری سمجھ سے باہر تھا ۔
" بیٹا جو دولت اللہ سے دور کردے ، وہ شیطان کا وار ہوتا ہے ۔ ایسی دولت کو چلا ہی جانا چاہئیے ۔ بس دولت چلی گئی اور میں پھر سے اللہ کیطرف بڑھنے لگا ۔ اب میرے لئے دولت بے معنی ہو گئی ہے ۔ اس لئے کیا کروں گا اسکا ۔ جو سکون میرے پاس ہے ، وہ صرف اللہ والوں کو نصیب ہوتا ہے ۔ دنیا والوں کو تو پیسے کی گنتی ہی بے سکون رکھتی ہے ۔ "
آزاد ھاشمی
١٧ مارچ ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment