Monday, 18 March 2019

بت پرستی

" بت پرستی "
اللہ سبحانہ تعالی نے اسلام کو عقل و دانش اور حقیقی روشنی کا دین بنایا ۔ بت پرستی جہالت تھی اور ابتدا سے جاری تھی ۔ اسکی جگہ روشنی اور ہدایت کی شمع جلانے کیلئے انبیاء کو آگ میں کودنا پڑا ، جانیں دینا پڑیں ، ہزار ہا سال کی جدوجہد کے بعد بالآخر انبیاء کے سردار حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ۔ تا کہ اللہ کے گھر سے بتوں اور گمراہی کو دور کر کے ، پوری دنیا میں ہدایت اور روشنی پھیلا دی جائے ۔ جہالت کی سر زمین پر علم کی شمع جل اٹھی ۔ جہالت سکڑ کر ایک مخصوص خطہ کا دین بن گئی ۔  یہ روشنی قرآن کی صورت میں اور اسوہ حسنہ کی عملی شکل میں امت مسلمہ کو نصیب ہوئی ۔ ہونا تو یہ چاہئیے تھا کہ اللہ کے حبیبؐ کی امت ہونے کا دعویٰ کرنے والے اس روشنی کو دنیا میں متعارف کرانے کی ذمہ داری نبھاتے مگر مسلمان قرآن اور اسوہ حسنہ کو مضبوطی سے تھامنے کی بجائے ، اپنی تحقیق میں ایسے لگے کہ اسلام کی اصل تعلیم کو پس پشت ڈال دیا ۔ سب نے اپنے اپنے راستے بنا لئے یا یوں کہہ لیں کہ سب نے اپنی اپنی سمتیں ، بتوں کی طرح متعین کر لیں ۔ لوگ اللہ کی مساجد کو اپنے مسالک کے نام پر تعمیر کرنے لگے ۔ قرآن کی تعلیم کی بجائے اپنے اپنے فلسفے ، فقہ ، اجتہاد اور تفاسیر پر توجہ مرکوز کر لی گئی ۔ اسوہ حسنہ کو چھوڑ کر اپنے اپنے امام بنا لئے ۔ پیروں کے قدموں پر سر ٹیکنے لگے ، مزاروں سے حاجات مانگنے لگے ، یہی وہ سوچ اور تعلیم ہے جس نے آج بھی ہمارے اندر کی بت پرستی کو ختم نہیں ہونے دیا ،  ہم اسی جہالت میں پڑے رہے جس سے نکالنے کیلئے قرآن اور اسوہ حسنہ کافی تھے ۔  اور پھر سے اپنے اپنے رخ غیر اللہ کی طرف موڑے بیٹھے ہیں ۔ کافروں کے سامنے دو زانو حکمران بت پرست ہیں ۔ علماء مسالک کی پٹی باندھے دین کی اصل تعلیم سے نا بلد ہو گئے ۔ دولت کی ہوس اور طاقت کا خوف ہمارے مذہبی رحجان پر غالب آگیا ۔ یہ بھی تو بت پرستی ہی کی شکل ہے ۔بت پرستی صرف پتھر کی مورتی کو پوجنا نہیں ، اغراض کے حصول کیلئے کسی بھی غیر اللہ کے سامنے جھک جانا بت پرستی ہے ۔ حالت یہ ہوگئی ہے کہ ہم نے سیاست کے سحر میں دین کی حقانیت کو فراموش کر دیا ۔
اقتدار کے پجاریوں کو اپنا رہنما اور مسیحا مان لیا ،  کہ گھروں میں ، جہاں قرآنی آیات آویزاں ہونا چاہئیے تھیں وہاں سیاسی لیڈروں کی تصویریں لٹک رہی ہیں ۔ وہ قائدین جو بتوں کے سامنے دئیے جلاتے ہیں ، جو مزاروں کی چوکھٹ پر جبین ٹیک دیتے ہیں ۔ یہی بت پرستی ہے ۔
آج مندر وہاں بن رہے ہیں ، جہاں سے مندر اکھاڑنے کی ابتداء ہوئی تھی ۔ آج پھر ہمارے اندر کا کفر با اعلان باہر نکل آیا ۔ ہم جو سر اللہ کے سامنے جھکانے پر فخر کرتے تھے اب بتوں کے سامنے جھکانے کی ذلت سے دوچار ہوگئے ہیں ۔ شیطان کی فتح کو ہم اپنی صلح جوئی اور سیکولر سوچ کہنے لگے ہیں ۔ اس ساری بد بختی کی وجہ کیا ہے ؟ نہ سوچیں گے اور نہ سمجھیں گے تاوقتیکہ رات کے اندھیرے میں یا دن کی روشنی میں کوئی آفت نہ آ پکڑے ۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اللہ کی نصرت ہمارے ساتھ ہو ، ہم ذلت اور رسوائی سے نکل آئیں ۔ تو ہمیں بت پرستی ، شخصیت پرستی ، پیر پرستی سے الگ ہو کر وحدانیت کیطرف لوٹنا ہو گا ۔  یہی فلاح کی راہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٩ فروری ٢٠١٩

No comments:

Post a Comment