" علیؑ کی ولادت "
عظمت کے نشان کیلئے حسب اور نسب کی اپنی اہمیت ہے ۔ کچھ ایسے امور اور ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جو تمام خاندانی ، قبائلی اور معاشرتی روایات سے ہٹ کر کسی بھی فرد کو مزید ممتاز کر دیتے ہیں ۔ کچھ ایسے اچنبھے بھی ہو جاتے ہیں ، جنہیں معجزات کا نام دے لیں ، کوئی مخصوص نشان کہہ لیں یا کوئی خاص انعام کہیں ، جو صرف ایک بار ہوتے ہیں اور پھر دوبارہ تاریخ کبھی نہیں دہراتی ۔ کعبہ کی تعمیر سے لیکر صدیوں کی تاریخ میں اعداد و شمار سے ماوراء نفوس نے اپنے اپنے ایمانی جذبے سے " اللہ کے اس گھر " کا طواف کیا ۔ طہارت اور پاکیزگی کا ہر ممکن اہتمام کیا ۔ کیونکہ اس جگہ کو اللہ نے زمین پر اپنا گھر قرار دیا ۔ اللہ کے گھر میں جو بھی آتا ہے ، اللہ کا مہمان ہوتا ہے ۔ مگر اس گھر کی تاریخ میں ایک بار ، صرف ایک بار ایسا ہوا ۔ ایک اور صرف ایک ایسا وجود ہے ، جو یہاں مہمان بن کر نہیں آیا بلکہ گھر کے مکین کی شکل میں آیا ۔ کیونکہ دنیا کی روایت ہے کہ جو جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کا مکین کہلاتا ہے وہ وجود ، قریش کے سردار کا بیٹا " علیؑ " ہے ۔ حیران ہوں کہ بچے کی پیدائش پر الائش کا ہونا لازم ہے ۔ کسی ولادت کے وقت اور مخصوص وقت تک طہارت نہیں رہتی ۔ پھر " علیؑ " کی ولادت پر اللہ نے ، علیؑ کی ماں کو کعبے میں بلایا بھی ، کعبے کی دیوار سے ٹیک لگانے کی اجازت بھی دی ، ولادت کے وقت کی کسی بھی الائش کو طہارت کے متضاد بھی نہیں سمجھا اور ولادت کے بعد کعبے کو غسل دینے کا بھی نہیں کہا ۔ تعجب یہ بھی ہے کہ قریش اور دوسرے قبائل میں سے کسی ایک کو عذر تک نہیں ہوا کہ علیؑ کی ماں بچے کی ولادت کے وقت کعبہ کیوں آئی ۔ گویا پوری کائنات کو تسلیم تھا کہ علیؑ کی ولادت دنیا کے ہر بچے کی ولادت سے الگ ہے ۔
یہ وہ اعزاز ہے جس نے ابوطالب کے بچے کو " علی " کیا ۔ یہ وہ بچہ تھا ، جو کائنات میں زمانہ طفلی میں " نبوت اور رسالت " کی گواہی دینے والا تھا ۔ دنیا میں نابالغ کی عام گواہی بھی مستند نہیں ہوتی مگر علیؑ کی گواہی ، نبوت اور رسالت کی ناقابل تردید اور ناقابل شک گواہی ہونے والی تھی ۔
طرہ امتیاز یہ بھی ہے ، کعبہ والے نے جس کٹھن پر کوئی دوسرا موزوں نہ ہوا ، رسولؐ کو حکم دیا کہ مولود کعبہ کو بلا لو ۔ اللہ کے دین کو جہاں بھی ضرورت ہوئی " آل رسولؐ اور اولاد علیؑ " نے اپنے سر حاضر کر دئیے ۔ گویا علیؑ کے مولود کعبہ ہونے کا ہر ہر حق ادا کیا ۔
آزاد ھاشمی
٢١ مارچ ٢٠١٩
Thursday, 21 March 2019
علیؑ کی ولادت
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment