" آیت الکرسی ٤ "
" من ذالذی یشفع عندہُ الا باذنہِ"
کون ہے ایسا جو اسکی اجازت کے بغیر اسکے سامنے سفارش کرے ۔
اسکے حاکم مطلق ہونے کا یہی تقاضا ہے ، کہ اسکے سامنے بولنے سے پہلے اسکی رضا لے لی جائے ۔ انبیاء ہوں ، اولیاء ہوں ، صوفی ہوں ، صالحین ہوں ، سب اللہ کی ربوبیت کے تابع ہیں ۔ کسی کو مجاز نہیں کہ کسی کی سفارش کر سکے ۔ سوائے اسکے کہ اس درجے تک پہنچ ہو جہاں اللہ سفارش کی اجازت عطا فرما دے ۔
اس درجے تک پہنچنے کیلئے کہ اللہ سے سفارش کی اجازت طلب کی جائے ۔ اللہ سے قرب خاص لازم ہے اور اس قرب خاص کیلئے اس امتحان کو پورا کرنا شرط ہے ، جس سے اللہ سبحانہ تعالی اتنا راضی ہو کہ سفارش قبول فرما لے ۔ جیسے انبیاء پر سخت سے سخت آزمائشیں آئیں ۔ اولاد کی قربانی تک کے امتحان سے گذرنا پڑا ۔ یقینی طور پر جو ہستیاں اللہ کے امتحان پر اس حد تک پوری اتریں کہ اپنی جان ، اپنا مال ، اپنی اولاد اور نفس کی ہر آواز اللہ کے حکم پر قربان کر دی ۔ وہی اللہ سے کسی کی شفارش کرنے کا اذن مانگنے کے درجے پر پوری اتریں گی ۔ گویا سفارش کا حق ملے گا ، یہ امر واضع ہوتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 19 January 2018
آیت الکرسی 4
اسلامی نظام پر ابہام
" اسلامی نظام پر ابہام "
ایک زیرک دوست کافی تردد کے بعد اس بات پہ قائل ہوئے کہ اسلامی نظام کی ہیئت موجود ہے ۔ مگر جو ابہام ہے وہ کچھ یوں ہے کہ جس کا حل نظر نہیں آتا ۔ محترم پوچھتے ہیں ۔
" مجوزہ اسلامی نظام میں شوری کا انتخاب کرے گا کون ؟ اور اس کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟ اس ایک سوال کے تسلی بخش اور واضع جواب پر ہی اسلامی نظام سلطنت کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے ۔"
شوری بنیادی ضرورت ہے ، مانتا ہوں کہ ہمارے ملک میں مسائل بہت گھمبیر ہیں ۔ چند صادق اور امین بندوں کی تلاش بھی معمہ بن گئی ہے ۔ تجویز کے دو رخ ہیں ۔
١ ۔ تمام مسالک کو انکے اوسط تناسب کے ساتھ چند افراد کی نامزدگی کا کہا جائے ۔ جو کردار کے اعتبار سے صالح ہوں ۔ اس سے مسالک کا ممکنہ تناو ختم ہو گا ۔ فوج ، عدلیہ ، اساتذہ ، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے چند افراد لئے جائیں ، جس کو محکمہ تجویز کرے ۔اقلیتوں کے نمائندے بھی شامل ہوں ۔ اس ساری شوری کا کام حکمران کا انتخاب ہوگا ۔ جسے امیر کہا جائے ، صدر کہا جائے یا جو بھی نام دیا جائے ۔ اسکے بعد تمام حکومتی انتظامات کی ذمہ داری اس منتخب فرد پر ہو گی اور یہ ہر ضروری معاملے میں شوری سے مشورہ بھی کرے گا اور جوابدہ بھی ہوگا ۔
٢- کسی بھی نظام حکومت کے چند اساسی شعبے ہوتے ہیں ، جیسے معیشت ، عدل ، قوم کی حفاظت وغیرہ ۔ اس کیلئے پہلے سے پورا قانون واضع ہے ۔ حدود اور تعزیرات واضع ہیں ۔ انکو لاگو کرنا باقی ہے ۔ ان بنیادی شعبوں پر وہی حدود و قیود نافذ کر دی جائیں ۔ یہاں مسالک اور فقہی مسائل کا آسان حل ہے کہ ہر مسلک پر اسکے فقہ کے مطابق حدود لاگو ہو جائیں ۔
نمائندگی کیلئے مروجہ طریق کار سے ہٹ کر دوسرا طریقہ یہ ہے ، کہ ہر حلقہ انتخاب کے لوگ اپنی رائے سے ، اپنی مرضی سے ، صاحبان کردار تجویز کریں ، ان میں جس کے حق میں زیادہ رائے ہوں ، اسے شوری میں لے لیا جائے ۔ یہی اسمبلی ہوگی ، جو حقیقی رائے پر ہو گی ۔ شوری کی امیدواری کیلئے کوئی بھی شخص خود کو پیش نہیں کرے گا ۔ یہ عوام کی صوابدید پہ ہو گا ۔ کوئی انتخابی معرکہ نہیں ہوگا ۔ کوئی ملکی خزانے پر اضافی بوجھ نہیں ہوگا ۔ معیشت بہتر ہو گی ۔ عوام میں کشیدگی کم ہو جائے گی ۔ احتجاج کی رسم دم توڑ دے گی ۔ پوری قوم یک سو ہو کر ترقی کی طرف گامزن ہو گی ۔
یہ ایک رائے ہے ۔ اس سے بہتر آراء بھی آ سکتی ہیں ۔
ازاد ھاشمی
Thursday, 18 January 2018
سو جاو ! مظلوم بچو
" سو جاو ! مظلوم بچو "
جب تک کالے کوٹوں میں کالے کرتوت والے وکیل ، سہمے سہمے رشوت خور قاضی ، فرعونیت کے پیکر راشی پولیس والے ، جاہل ملا ، بدکردار حکمران اور بے حس عوام زندہ ہے ۔ کسی مظلوم کو انصاف کا سوچنا نہیں چاہئیے ۔ جو قتل ہوا ، جس کی عصمت لٹی ، جس کے ٹکڑے کر کے کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکا ۔ اسے اپنا مقدر مان لو اور منوں مٹی کے نیچے سوئے رہو ۔ جو تم کے ساتھ ہوا اور جن لوگوں نے کیا ۔ ہم تمہارے اس درد اور کرب کی مذمت بھی کریں گے ، تمہاری قبروں پر آآ کر رویا بھی کریں گے ۔ مگر تمہارے قاتلوں کے ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ ہم بے حس اور منافق لوگ ہیں ۔ ہم بزدل ہیں ۔ ہم اندھے قانون کے پابند ہیں ۔ ہم دہشت کے پیامبر ہیں ۔
تم سو جاو ۔ یہاں تم محفوظ ہو ۔ تمہیں کوئی خوف نہیں ۔ ہم انتظار کرتے رہیں گے کہ تم سب کو کب انصاف ملے گا ۔ ہم تیار رہیں گے کسی دوسرے بے بس بچے کی قبر کھودنے کیلئے ۔ ہماری آنکھوں میں منافقت اور بیغیرتی کے بے بہا آنسو ہیں ۔ اگر معاشرے کے ہر پھول کو بھی کچلا گیا ، ہم رو لیں گے ۔
تم سو جاو ! ہم بھی سوئے ہوئے ہیں ۔ ہم تمہارے جنازے پڑھنے کیلئے اٹھتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں ۔ ہم ہاتھ پاوں باندھے اللہ سے تمہاری بخشش مانگتے رہیں گے ۔ اور تمہارے قاتلوں کی بربادی کی بد دعا بھی کیا کریں گے ۔ تم سو جاو ۔ تم سب شہید ہو ۔ اور ہم سب نے تمہاری شہادت کا بھی راستہ کھول رکھا تھا ۔ آئیندہ بھی بند کرنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔ ہم وعدہ کرتے ہیں حکومت کو گالیاں بھی دیں گے اور انکی ہر برائی پہ انکا ساتھ بھی نہیں چھوڑیں گے ۔ آخر ہم زندہ اور بہادر لوگ ہیں ۔ کبھی باغیرت بھی ہوا کرتے تھے ۔ تم سو جاو ۔ ہم الیکشن کی تیاری کر لیں ۔ دیکھنا ہمارا لیڈر کتنی حمایت کرے گا تم ننھے شہیدوں کی ۔
ازاد ھاشمی
بچوں کا قتل کیوں
" بچوں کا قتل کیوں "
اللہ سبحانہ تعالی اپنے بندوں سے بے پناہ محبت فرماتا ہے ۔ ہدایت کیلئے بار بار یاد دہانی فرماتا ہے ۔ کئی وسیلے فراہم کرتا ہے کہ انسان گمراہی سے بچ جائے ۔ جب سرکشی اور ہٹ دھرمی کی حد ہو جاتی ہے ، تو چھوٹی چھوٹی آزمائشیں ، پھر ہلکے ہلکے جھٹکے اور جب بھی انسان باز نہیں آتا تو بتدریج سختی بڑھتی جاتی ہے ۔
ہم نے غور ہی نہیں کیا ، کہ کئی بار ہلکے ہلکے جھٹکے ملتے رہے ۔ کبھی کراچی میں قتل و غارتگری ، کبھی زلزلے ، کبھی معاشی نقصانات ، کبھی سیلاب اور کبھی بم دھماکے ۔ ہم نے ہر سدباب کر کے دیکھ لیا ۔ قابل ترین ایجنسیاں ناکامی کے کنارے پر پہنچ گئیں ، مگر حل نہیں مل پایا ۔ عدالتیں ناکام ، ملکی سلامتی کے تمام ذمہ دار ناکام ، حکومت ناکام ، عوام بے بس ۔ اسلئے کہ اللہ نے ایک واضع قانون دیا تھا ، جس کے لاگو کرنے کو ایک خطہ بھی دیا ۔ مگر ہم نے اللہ کے انعام کی قدر نہیں کی ۔ اللہ کے قانون لاگو کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا ۔ اللہ کی قائم کردہ حدود توڑ ڈالیں ۔ گناہوں کی دلدل کو تہذہب بنا ڈالا ۔ بے حیائی کو عام کر دیا ۔ ہر وہ برائی اپنا لی جس سے اللہ نے روکا ۔ زانی اور بدکار لوگوں کو رہبر مان لیا ۔ اس سب کی سزا اب ہمارے بچوں کو ملنے لگی ہے ۔ اللہ کی گرفت کی سختی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اپنے سامنے بے آبرو ہوتے اور موت کے گھاٹ اترتے دیکھ رہے ہیں ۔ ہم نے اللہ کے نظام عدل سے بغاوت کی ، اپنا نظام عدل قائم کیا ۔ آج یہی اپنا بنایا ہوا نظام عدل ، مجرم کی پناہ گاہ ہے ۔
اگر ہمیں اب بھی سمجھ نہیں آتی تو تیار رہنا چاہئیے کہ اس سے اگلی سختی کتنی عبرت ناک ہو گی ۔
ازاد ہاشمی
عبادت کا بلاوا
" عبادت کا بلاوا "
اللہ سبحانہ تعالی کی عبادت ، میرا اور آپکا ایمان ہے , کہ لازم ہے ۔ یہی ایک فعل ہے جس سے ہم اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار کرتے ہیں ۔ اگر ہم مشاہدہ کریں تو بہت سارے لوگ نماز سے گریز کرتے نظر آئیں گے ۔ کچھ بہانے تلاش کرتے ہیں ۔ کچھ سرکشی کرتے ہیں ۔ کچھ کاہلی سے کام لیتے ہیں اور کچھ انکاری بھی ہو جاتے ہیں ۔ اسی طرح حج بیت اللہ ہر صاحب استطاعت پر فرض ہے ، مگر کتنے صاحبان استطاعت ہیں جو اس فریضہ کو ادا کرنے کی سعی نہیں کرتے بلکہ سیر و سیاحت کے شوق میں دنیا گھوم لیتے ہیں ۔ زکواة بھی ہر صاحب حیثیت پر فرض ہے ۔ مگر ہم ٹیکس کی مد میں ، اپنا فرض سمجھتے ہوئے یا حکومت کے جبر کے تحت ٹیکس دیتے ہیں ، انسان کا خوف اللہ کے خوف پر حاوی ہو جاتا ہے ۔
ایسا کیوں ہوتا ہے ۔ یہ سب اللہ سے دوری کے باعث ہے ۔ چونکہ ہم عملی زندگی میں اللہ کے احکام سے دور جاتے ہیں ۔ اللہ کی محبت پر دنیا کی محبت کو ترجیح دینے لگتے ہیں ۔ اللہ سبحانہ تعالی جو ستر ماوں سے زیادہ پیار اپنے بندے سے فرماتا ہے ۔ ہم اس پیار اور محبت سے دوری اختیار کر لیتے ہیں ۔ پس یہی سبب ہے کہ ہمیں نماز ، روزہ ، حج اور دیگر عبادات پر بلانا کم کر دیا جاتا ہے ، یا پھر بالکل بند کر دیا جاتا ہے ۔
ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئیے اور بخوبی باور ہونا چاہئیے کہ اگر ہم نماز سے ، حج سے ، روزے سے ، زکواة سے فرارہو رہے ہیں تو اللہ سے دوری کے سبب ہے ۔ اسے بد بختی سمجھنا چاہئیے اور اللہ سے گریہ و زاری کرنی چاہئیے ۔ تاکہ اللہ سبحانہ تعالی بلاتا رہے اور ہم اسکی آواز پر لبیک کہتے بھاگ بھاگ کر جاتے رہیں ۔ تاکہ اللہ کیطرف قربت ملتی رہے ۔ عبادت کا بلاوا اللہ سبحانہ تعالی کی محبت کا اظہار ہے ۔ اسے ہی بلایا جاتا ہے جس کے دل میں اللہ کی محبت ہو ۔ اپنی اپنی ذات کا محاسبہ کریں کہ ہم سے اللہ کی عبادات کی کوتاہی کیوں ہے ۔ اس کے ازالے کی کوشش میں لگ جائیں ۔
ازاد ھاشمی
کیا آپ جانتے ہیں
ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟
-1 ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﻮﺗﮯ ﻭﮦ ﭘﮩﻠﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﻧﻔﯿﺲ ﺟﻮﺗﮯ
ﭘﮩﻨﻮ ۔
-2 ﺍﮔﺮﺁﭖ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﮔﮭﻨﭩﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ
ﻟﯿﮟ ﮐﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﻓﯿﺼﺪ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﺁﭖ ﺩﻭ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﻮ
ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔
-3 ﮐﻢ ﺍﺯﮐﻢ ﭼﮫ ﻟﻮﮒ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﻢ ﺷﮑﻞ ﻣﻮﺟﻮﺩ
ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﻭﺭ ﻧﻮ ﻓﯿﺼﺪ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ
ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ
-4 ﺗﮑﯿﮯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺳﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻤﺮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﮨﻮﺗﯽ
ﮨﮯ ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﺮ ﺩﺭﺩ ﺳﮯ ﺁﺭﺍﻡ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ
-5ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻗﺪ ﻋﻤﻮﻣﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﻮ
ﮔﺎ ۔ ﺍﻭﺭ ﻭﺯﻥ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ
-6 ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﺗﯿﻦ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﭘﺮ ﻓﻮﺭﺍ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ۔
ﮐﮭﺎﻧﺎ ، ﺩﻟﮑﺶ ﻟﻮﮒ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺮﮦ
-7ﺩﺍﯾﺎﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﻃﺮﻑ
ﭼﺒﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
-8 ﺧﺸﮏ ﭨﯽ ﺑﯿﮓ ﻭﺭﺯﺵ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﺑﻮﺩﺍﺭ ﺟﻮﺗﻮﮞ
ﺳﮯ ﺑﺪﺑﻮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻼﺣﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
-9 ﺍﻟﺒﺮﭦ ﺁﺋﻦ ﺳﭩﺎﺋﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺍﮔﺮ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺷﮩﺪ ﮐﯽ
ﻣﮑﮭﯽ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ
ﺗﻮ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﭼﺎﺭ ﺩﻥ ﻣﯿﮟ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ۔
-10 ﺳﯿﺐ ﮐﯽ ﺍﺗﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺍﯾﮏ
ﻧﺌﯽ ﻗﺴﻢ ﮐﺎ ﺳﯿﺐ ﺁﭖ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ۔ ﺗﻮ ﺑﯿﺲ
ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ ۔
-11ﺁﭖ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮦ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﻧﯿﻨﺪ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺻﺮﻑ ﮔﯿﺎﺭﮦ ﺩﻥ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮦ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ۔
-12ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﺧﺸﮏ ﻣﺰﺍﺝ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ
ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺻﺤﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
-13ﺳﺴﺘﯽ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻼﮎ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ
ﺳﮕﺮﯾﭧ ﻧﻮﺷﯽ ۔
-14 ﺍﯾﮏ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ ﺩﻣﺎﻍ ﻭﮐﯽ ﭘﯿﮉﯾﺎ ﺳﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﮔُﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ
ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔
-15 ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﻣﺎﻍ ﺩﺱ ﻭﺍﭦ ﮐﮯ ﺑﺠﻠﯽ ﮐﮯ ﺑﻠﺐ ﺟﺘﻨﯽ ﻃﺎﻗﺖ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ۔
-16 ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺟﺴﻢ ﺗﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺮﺍﺭﺕ ﭘﯿﺪﺍ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ
ﮐﮧ ﮈﯾﮍﮪ لیٹر ﭘﺎﻧﯽ ﺍُﺑﺎﻻ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ۔
-17 ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﭘﯿﺪﻝ ﭼﻠﻨﺎ ﭼﺎﮨﺌﯿﮯ ۔ ﻣﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﮈﭘﺮﯾﺸﻦ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
Wednesday, 17 January 2018
آیت الکرسی 3
" آیت الکرسی ٣ "
" لہُ ما فی السموات و ما فی الارض "
آسمانوں کی وسعتوں میں اور زمین کی تہوں میں ، جو کچھ بھی ہے ۔ اسی پاک ذات کا ہے اور اسی پاک ذات کیلئے ہے ۔ جب زمین اللہ کی ، اسکی تمام رعنائیاں اللہ کی ، اسکے تمام خزانے اللہ کے ، اسکی تمام وسعتیں اللہ کی ۔ پھر اس پر اللہ کے احکامات کے لاگو کرنے پر انسان کا تردد کیوں ؟ یہی وہ انکار ہے جو ہم ارادی یا غیر ارادی طور پر کرتے ہیں ۔ اللہ نے تمام انبیاء کو اسی لئے مبعوث فرمایا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کر دی جائے ۔ ابن آدم نے اللہ کا احسان بھلا دیا کہ اسے اللہ نے شعور دیا ، سمجھ دی ، علم دیا اور نعمتوں کے خزانے عطا کر دئیے ۔ انسان نے اللہ کی زمین پر شیطان کی برتری کیلئے عمل شروع کیا ۔ جس پر کبھی تو غفور و رحیم نے درگذر فرمایا اور کبھی عذاب مسلط کر دیا ۔ فرعونیت اور نمرودیت نے انسان کو بہکا دیا کہ زمین پر تیرا اختیار ہے ۔ یہ فرعون اور نمرود خدا بن بیٹھے ۔ احکامات ربی سے فرار کیا اور اپنے احکامات لاگو کر دئیے ۔ قران میں اللہ نے واضع فرما دیا کہ زمین و آسمان اللہ کے ہیں اور اللہ کیلئے ہیں ۔ ہمارا فرض بن گیا کہ ہم اس حکم کو من و عن تسلیم کریں اور اللہ کے احکامات کے نفاذ کیلئے عملی اقدام کریں ۔
ازاد ھاشمی
قاتل یا چھلاوا
" قاتل یا چھلاوہ "
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی سرکردہ لوگ قتل ہوئے ، قاتل نہیں ملے ، چند ایک میں قاتل ملا تو قتل کیا ہوا ۔ پولیس قاتل تک پہنچنے کے کئی گر آزما لیتی ہے ، مگر قاتل کبھی نہیں ملا ۔ کیوں ؟ ۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے کل بھی حل نہیں ہوا اور جو آج بھی حل نہیں ہو رہا ۔ ابھی تازہ تازہ واقعہ معصوم بچی کا ہے ۔ جس کے قاتل کے روز نئے خاکے پبلش ہو رہے ہیں ۔ ایک ہی سی سی ٹی وی بدل بدل کر عکس دے رہا ۔ کون جانے پہلے والی درست تھی یا نئی والی ۔ ایک بہادر نے تو قاتل کو کراچی جا پکڑا ہے ۔ خوب درگت کے بعد پورے وثوق سے کہہ دیا کہ یہ اصل قاتل ہے ۔ جبکہ اصل پولیس والے قصور میں جتن کر رہے ہیں ۔ یوں لگ رہا ہے کہ مجرم یا تو چھلاوہ ہے یا پھر بہت طاقتور ۔ اب قانون کے محافظ ادارے مل کر گردن ناپ رہے ہیں ، کہ کونسی موٹی گردن ہے جو پھندے کیلئے موزوں ہے ۔ کچھ بعید نہیں کہ کوئی لاوارث قیدی مجرم بنا کر عوام کے سامنے رکھ دیا جائے کہ اگر پریشر برقرار رہتا ہے تو اسکے گلے میں پھندہ ڈال کر کروڑ کا انعام بانٹ لیا جائے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شک کا فائدہ اٹھا کر مجرم کو بچا لیا جائے ۔ جو یقینی طور پر سیاسی تعلقات والا ہو گا ۔ ہو سکتا ہے علاقے کا بڑا پولیس افسر اسی قاتل کی آشیرباد سے اس سیٹ پر بیٹھا ہو ۔ ایسے میں مجرم کا پکڑا جانا کیسے ممکن ہو گا ۔
یہ بھی خبر ہے کہ اسی طرح کے گیارہ قتل ہوئے ہیں ، اور ڈی این اے ٹیسٹ کے اعتبار سے ایک ہی قاتل ہے ۔ اس کا یہ ھی مطلب ہے کہ گیارہ گذشتہ قتل کے مجرم نہیں پکڑے گئے ۔ اب ذہین پولیس سوچ رہی ہے کہ کوئ ایک فرضی قاتل پکڑو اور گذشتہ گیارہ قتل کا معاملہ نپٹا دو ۔ عوام کو کونسی عقل ہے ۔
ازاد ھاشمی
آیت الکرسی 2
" آیت الکرسی ٢ "
(لا تاخذہ سنتہ و لا نوم )
عیسائی عقیدے کے مطابق ، اور جو تحریف بائیبل میں کی گئی ، اسکے باب میں ، اللہ سبحانہ تعالی نے کائنات کی تخلیق بتدریج کی ، جس میں چھ دن لگ گئے ۔ جب تخلیق مکمل ہوگئی تو ساتویں دن اللہ پاک نے آرام فرمایا ۔ یہی عقیدہ یہودیت کا ہے ۔
اس خیال کی نفی کرتے ہوئے ، قران پاک میں واضع الفاظ میں بتا دیا گیا کہ اللہ سبحانہ تعالی اس نیند ، آرام یا سستانے کے عمل سے پاک ہے ۔
کائنات کی تخلیق میں اللہ کی ذات کو کسی کوشش ، کسی محنت یا کسی منصوبے کی ضرورت نہیں ۔ وہ قادر ہے ، جب چاہے ، جیسے چاہے ، صرف " کن " فرماتا ہے تو " فیکون " پس وہ عمل پورا ہو جاتا ہے ۔ کائنات میں پوشیدہ اور ظاہری تمام حکمتیں اللہ کی برتری کے نشان ہیں ۔
اللہ کی ذات کا احاطہ کسی بھی انداز میں ممکن نہیں ، اسکی ہستی کو سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ ہمارے فہم و ادراک سے بلند ذات ہے ۔
ازاد ہاشمی
آیت الکرسی 1
" آیت الکرسی ١ "
اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم ۔
آیت الکرسی کے فضائل اپنی جگہ مسلم ہیں ۔ پیغام کیا ہے یہ جاننا بھی اشد ضروری ہے ۔ جس پر بہت کم توجہ رہتی ہے ۔ اللہ نے قران ہدایت ، روشنی اور علم و بصیرت کیلئے نازل فرمایا ۔ اسے وظائف اور مسائل تک محدود کر دینا ، نہ عقلمندی ہے اور نہ قران کی عظمت کا موزوں اقرار ۔ آیت الکرسی کی ابتدا میں کہا گیا کہ اللہ کی ذات " الہ " ہے اور اسکے سوا کوئی " الہ " نہیں ۔ " الہ " کا معنی اور مفہوم " معبود " تک محدود نہیں ۔ یہ اللہ سبحانہ تعالی کی لا متناہی شان ہے ، جس پر کوئی دوسرا نہ شریک ہے اور نہ شریک ہو سکتا ۔ جو کلی اقتدار و اختیار کا مالک ہے کہ اسکی عبدیت کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی عبدیت کا تصور عبث ہے ، بھلے یہ عبودیت کسی بھی رنگ میں ہو ۔ جب عبودیت اسی کی ہے تو ہر حکم بھی اسی کا لاگو ہے ۔
" ھوالحی القیوم " اسی کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ اقرار لازم ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا کسی دوسرے کو ہمیشہ ثبات نہیں ۔ کوئی دوسری چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ۔ اور اسی کی ذات کو ہمیشہ کا قیام ہے ۔ وہ قیوم ہے کہ خود ہمیشہ کیلئے قائم رہنے والا ، اور ہر شے کو قیام دینے والا بھی وہی ہے ۔ اسکے علاوہ کوئی نہیں کہ کائنات کو قائم رکھ سکے ۔ گویا اسکے کلی مالک و مختار ہونے کا اعلان ہے ۔ آیتہ الکرسی کی ابتدا میں اللہ کی یہ تین صفات کائنات پر کلی مالک و مختار کی آگہی دے رہی ہیں ۔ انکو دل اور دماغ سے تسلیم کر لینا انسان کو توکل اور اللہ پر ایمان کو پختگی دیتا ہے ۔ اس ایمان کے بعد مانگنے والے کا اللہ سے قرب بڑھ جاتا ہے ۔ اور طلب قبول ہوتی ہے ۔ اصل مدعا ایمان ہے ۔ دعا کی قبولیت اس ایمان کا انعام ہے ۔ جس سے ہم بے خبر ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Monday, 15 January 2018
کرکٹ مت کھیلو
" کرکٹ مت کھیلو "
عمران خان سے چند باتیں ۔
ستم رسیدہ قوم ، ہر نئے آنے والے کو مسیحا سمجھ لیتی ہے ۔ امیدیں لگا لی جاتی ہیں کہ اب کے حالات ضرور بدلیں گے ۔ قوم کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ کرکٹ کا یہ کھلاڑی بد دیانت نہیں ، کھرا اور ستھرا انسان ہے ۔ وطن اور قوم کی محبت سے سرشار ہے کیونکہ کینسر جیسے مرض کیلئے ہسپتال بنا لینا ، پسماندہ علاقے میں یونیورسٹی بنانا ، اپنی عائلی زندگی کو قوم کیلئے قربان کرنا ، کسی عام انسان کا کام نہیں ۔ یقینی کسی مسیحا کا ورود ہے ۔
یہ وہ ساری مثبت خوبیاں ہیں جو آپ کو لیجنڈ بناتی ہیں ۔ وقت بہت ظالم ہے آہستہ آہستہ ان پردوں کو اٹھا دیتا ہے جو حقیقت کو چھپائے ہوتے ہیں ۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو، جو لوگ سمجھے بیٹھے ہیں اور جو تصویر اپنے ذہنوں میں نقش کر چکے ہیں ۔
مگر اب آپ کی شخصیت کے کچھ نقوش دھندلے ہونا شروع ہو رہے ہیں ۔ شادی کرنا برائی نہیں ، اگر اپنے مذہب کے قواعد و ضوابط کے مطابق کی جائے ۔ ازدواجی زندگی میں ٹوٹ پھوٹ بھی عیب نہیں ۔ کسی کو پسند کرنا اور شادی کی دعوت دینا بھی برائی نہیں ۔ مگر یاد رہے کہ شادی کی دعوت یا ترغیب کسے شادی شدہ عورت کو دینا ، نہ صرف معیوب ہے بلکہ بدترین فعل ہے ۔ اگر ایسا ہے تو اس سے بڑا دھوکہ قوم کے ساتھ کوئی نہیں ۔ پھر ہسپتال اور یونیورسٹی بھی کسی سازش کا پیش خیمہ ہے ۔ کیونکہ یہ فعل تمام خوبیوں پر پانی پھیر دے گا ۔
ایک سادہ لوح انسان کیسے مان لے ، کہ کوئی خاتون تصوف کے اس مقام پہ پہنچی ہوئی ہے ، جہاں اسکی بیعت کر لی جائے ۔ اسلام کی پوری تاریخ میں حضرت رابعہ بصری ، ایک ایسی خاتون گذری ہیں ، جو تصوف کے درجے پہ فائز تھیں اور انہوں نے کبھی کسی مرد کو ملنا پسند نہیں کیا ۔ آپ کو روحانی فیض ملا ہو گا ، پھر روحانی فیض سے جسمانی فیض کی رغبت سمجھ نہیں آرہی ۔ اور اس جسمانی فیض کیلئے طلاق یا خلع کی نوبت آ جانا ، خاتون کو ازدواجی تعلقات استوار کرنے کا سوچنا ، یقینی طور پر معاملات کو پیچیدہ بنا رہا ہے ۔
آپ مہربانی فرمائیں ، جو من میں آئے کریں ، مگر مذہب پر رحم کھائیں ۔ ہم تو پہلے ہی بیشمار الجھنیں پالنے والی قوم ہیں ۔ کرکٹ کھیلیں ، خوب کھیلیں مگر قوم سے نہیں ۔ اگر آپ وزیراعظم بنتے ہیں تو اسے بیوی کی عطا نہ سمجھ لینا ، اللہ کی آزمائش سمجھنا ۔ کیونکہ اقتدار اللہ کا انعام نہیں اللہ کی آزمائش سمجھنے سے راستہ درست رہتا ہے ۔
ازاد ھاشمی
Sunday, 14 January 2018
اتنا تعصب
" اتنا تعصب ؟ "
کمال ہو گیا ، وطن عزیز کا بچہ بچہ زینب کی موت پر دکھ کا عجیب سا درد اپنے اندر محسوس کر رہا ۔ جس دل میں بھی انسانیت کی ایک رمق باقی ہے ، وہ دکھی ہے ۔ کسی نے نہیں سوچا ، کسی نے نہیں پوچھا ، کسی نے تحقیق نہیں کی کہ زینب کے والدین کا کیا دین ہے ، کس مسلک سے تعلق ہے ، کونسی پارٹی سے رابطے ہیں ۔ سب انسانیت کے نام پر دکھی ہیں ۔ ایک مثبت یکجہتی نے جنم لیا ہے ۔ اسے برقرار رکھ لیا جائے تو اس طرح کے مزید سانحات رک سکتے ہیں ۔
بہت دکھ ہوا جب مقتولہ کے والد نے ایک انسان کو اسکے عقیدے کی بنا پر اس دکھ کا حصہ دار بننے سے روک دیا ۔ کیونکہ وہ قادیانی ہے ۔
قادیانیوں کے عقیدے کا حساب اللہ کا معاملہ ہے ۔ یہ موقع بھی ایسا نہیں تھا کہ تعصب کی دیوار اٹھا دی جائے ۔ اور انکے عقیدے کی بنا پر انہیں اچھوت بنانے کی کوشش میں لگ جائیں ۔ ایک نئی بحث چھیڑ کر ایک دیانتدار افسر کو اپنا حصہ ڈالنے سے منع کر دینا نہ قرین قیاس ہے ، نہ ایمان کا اعلی درجہ ہے اور نہ مہذب معاشرے میں پسندیدہ ۔ زینب کے اہل خاندان کا دکھ سب کا دکھ ہے ۔ اس میں عقیدہ ، علاقہ ، زبان ، رنگ اور سیاست کی بنیاد پر تضاد زیب نہیں دیتا ۔ کتنے بچے اس سفاکیت کی بھینٹ چڑھے ، کیا ہوا ۔ تدارک کیوں نہیں ہوا ۔ اگر پہلے سانحے پر قوم اٹھ کھڑی ہوتی تو آج زینب بھی باپ کے سینے سے چپٹی ہوتی ۔ اس وطن کی اساس میں قادیانیوں کا بھی حصہ ہے ، جس سے کسی کو انکار نہیں ۔ پھر انکو کونے میں لگانا ، نہ اسلام کی خدمت ہے ، نہ وطن کی اور نہ قوم کی ۔ (اللہ کرے ان چند سطور کو میرے ایمان کا پیمانہ نہ بنا لیا جائے ۔) اسلام امن اور سلامتی ہے ۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کا مساوی خیال رکھنے کا نام ہے ۔ شر اور فساد کو روکنے کا پیغام ہے ۔ دوسروں کی عزت نفس کو مجروع کرنا اسلام کی قطعی خدمت نہیں ۔ حیرانی ہوئی کہ زینب کے والد نے ایسا فیصلہ کیوں اور کس بنیاد پہ کیا ۔
اللہ کے واسطے وطن کو اتحاد کی ضرورت ہے ۔ نفاق کی نہیں ۔ خیال کریں ۔
ازاد ھاشمی
رانا ثناء اللہ کے نام
" رانا ثناء اللہ کے نام "
پتہ نہیں کیوں ۔ مجھے آپکو محترم لکھنے میں تامل ہوا ہے ۔ جبکہ میری کوئی ذاتی مخاصمت بھی نہیں آپ سے ۔ آپکو اتنا بڑا لیڈر بھی نہیں سمجھتا کہ آپ پر لکھتا ۔ پتہ نہیں کیوں لکھنے کو دل چاہ رہا ہے ۔ آپ کو باور کرانے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں ۔ آپ کا مشورہ ہے قوم کو کہ " لوگ خود اپنے بچوں کی حفاظت کریں "
ایسے لگا جیسے کسی بڑے سے گیٹ پر لکھا ہو " گھر میں کتا ہے ، احتیاط کریں " ۔ ایسے لگا کہ آپ نے خونخوار کتے چھوڑ رکھے ہیں ۔ آپ کا فرض کتوں کو باندھنا نہیں تھا صرف اگاہ کرنا تھا ۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ کیڑے مکوڑے ، جو خود کو عوام کہلاتے ہیں اور آپ جیسے سیاستدانوں کی نعرے لگانے کو عبادت سمجھتے ہیں تاکہ جمہوریت نام کا مذہب ترقی کر سکے ۔ ارے رانا صاحب ، آپ سیاستدان اور وزیر بعد میں ہیں ، پہلے آپ راجپوت ہیں ۔ ایک بہادر اور جنگجو قوم ۔ جبر کے سامنے کھڑی ہونے والی قوم ۔ یہ بات تو ہیجڑے بھی نہیں کرتے جو آپ نے کردی ۔ جناب یہ جو مراعات آپ کو ملتی ہیں یہ اسی قوم کے ٹیکس سے ملتی ہیں ، کسی سیاسی حکمران کے باپ کے اثاثوں سے نہیں ملتیں ۔ یہ پولیس ، جو صرف پروٹوکول پر لگا رکھی ہے ، عوام کی حفاظت کی تنخواہ لیتی ہے ۔ وزیر قانون ہونے کے ناطے قانون بھی جانتے ہونگے ۔ اور بخوبی واقف ہونا چاہئیے کہ حکومت ضامن ہے ہر شہری کی جان ، مال اور عزت کی حفاظت کی ۔ اپنی کرسی ، اپنی خاندانی روایات اور اخلاقیات ہی کا خیال رکھتے ہوئے بیان بازی اچھی لگتی ہے ۔ ایسے بیان سے آپ میں اور شہر کے کن ٹٹے غنڈے میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا ۔
اللہ آپ کی سوچ اور فکر کو وسعت دے ۔ آمین
ازاد ھاشمی