" آیت الکرسی ٢ "
(لا تاخذہ سنتہ و لا نوم )
عیسائی عقیدے کے مطابق ، اور جو تحریف بائیبل میں کی گئی ، اسکے باب میں ، اللہ سبحانہ تعالی نے کائنات کی تخلیق بتدریج کی ، جس میں چھ دن لگ گئے ۔ جب تخلیق مکمل ہوگئی تو ساتویں دن اللہ پاک نے آرام فرمایا ۔ یہی عقیدہ یہودیت کا ہے ۔
اس خیال کی نفی کرتے ہوئے ، قران پاک میں واضع الفاظ میں بتا دیا گیا کہ اللہ سبحانہ تعالی اس نیند ، آرام یا سستانے کے عمل سے پاک ہے ۔
کائنات کی تخلیق میں اللہ کی ذات کو کسی کوشش ، کسی محنت یا کسی منصوبے کی ضرورت نہیں ۔ وہ قادر ہے ، جب چاہے ، جیسے چاہے ، صرف " کن " فرماتا ہے تو " فیکون " پس وہ عمل پورا ہو جاتا ہے ۔ کائنات میں پوشیدہ اور ظاہری تمام حکمتیں اللہ کی برتری کے نشان ہیں ۔
اللہ کی ذات کا احاطہ کسی بھی انداز میں ممکن نہیں ، اسکی ہستی کو سمجھنے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ ہمارے فہم و ادراک سے بلند ذات ہے ۔
ازاد ہاشمی
Wednesday, 17 January 2018
آیت الکرسی 2
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment