" رانا ثناء اللہ کے نام "
پتہ نہیں کیوں ۔ مجھے آپکو محترم لکھنے میں تامل ہوا ہے ۔ جبکہ میری کوئی ذاتی مخاصمت بھی نہیں آپ سے ۔ آپکو اتنا بڑا لیڈر بھی نہیں سمجھتا کہ آپ پر لکھتا ۔ پتہ نہیں کیوں لکھنے کو دل چاہ رہا ہے ۔ آپ کو باور کرانے کی ضرورت محسوس کر رہا ہوں ۔ آپ کا مشورہ ہے قوم کو کہ " لوگ خود اپنے بچوں کی حفاظت کریں "
ایسے لگا جیسے کسی بڑے سے گیٹ پر لکھا ہو " گھر میں کتا ہے ، احتیاط کریں " ۔ ایسے لگا کہ آپ نے خونخوار کتے چھوڑ رکھے ہیں ۔ آپ کا فرض کتوں کو باندھنا نہیں تھا صرف اگاہ کرنا تھا ۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ کیڑے مکوڑے ، جو خود کو عوام کہلاتے ہیں اور آپ جیسے سیاستدانوں کی نعرے لگانے کو عبادت سمجھتے ہیں تاکہ جمہوریت نام کا مذہب ترقی کر سکے ۔ ارے رانا صاحب ، آپ سیاستدان اور وزیر بعد میں ہیں ، پہلے آپ راجپوت ہیں ۔ ایک بہادر اور جنگجو قوم ۔ جبر کے سامنے کھڑی ہونے والی قوم ۔ یہ بات تو ہیجڑے بھی نہیں کرتے جو آپ نے کردی ۔ جناب یہ جو مراعات آپ کو ملتی ہیں یہ اسی قوم کے ٹیکس سے ملتی ہیں ، کسی سیاسی حکمران کے باپ کے اثاثوں سے نہیں ملتیں ۔ یہ پولیس ، جو صرف پروٹوکول پر لگا رکھی ہے ، عوام کی حفاظت کی تنخواہ لیتی ہے ۔ وزیر قانون ہونے کے ناطے قانون بھی جانتے ہونگے ۔ اور بخوبی واقف ہونا چاہئیے کہ حکومت ضامن ہے ہر شہری کی جان ، مال اور عزت کی حفاظت کی ۔ اپنی کرسی ، اپنی خاندانی روایات اور اخلاقیات ہی کا خیال رکھتے ہوئے بیان بازی اچھی لگتی ہے ۔ ایسے بیان سے آپ میں اور شہر کے کن ٹٹے غنڈے میں کوئی فرق باقی نہیں رہ جاتا ۔
اللہ آپ کی سوچ اور فکر کو وسعت دے ۔ آمین
ازاد ھاشمی
Sunday, 14 January 2018
رانا ثناء اللہ کے نام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment