" آیت الکرسی ٣ "
" لہُ ما فی السموات و ما فی الارض "
آسمانوں کی وسعتوں میں اور زمین کی تہوں میں ، جو کچھ بھی ہے ۔ اسی پاک ذات کا ہے اور اسی پاک ذات کیلئے ہے ۔ جب زمین اللہ کی ، اسکی تمام رعنائیاں اللہ کی ، اسکے تمام خزانے اللہ کے ، اسکی تمام وسعتیں اللہ کی ۔ پھر اس پر اللہ کے احکامات کے لاگو کرنے پر انسان کا تردد کیوں ؟ یہی وہ انکار ہے جو ہم ارادی یا غیر ارادی طور پر کرتے ہیں ۔ اللہ نے تمام انبیاء کو اسی لئے مبعوث فرمایا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کر دی جائے ۔ ابن آدم نے اللہ کا احسان بھلا دیا کہ اسے اللہ نے شعور دیا ، سمجھ دی ، علم دیا اور نعمتوں کے خزانے عطا کر دئیے ۔ انسان نے اللہ کی زمین پر شیطان کی برتری کیلئے عمل شروع کیا ۔ جس پر کبھی تو غفور و رحیم نے درگذر فرمایا اور کبھی عذاب مسلط کر دیا ۔ فرعونیت اور نمرودیت نے انسان کو بہکا دیا کہ زمین پر تیرا اختیار ہے ۔ یہ فرعون اور نمرود خدا بن بیٹھے ۔ احکامات ربی سے فرار کیا اور اپنے احکامات لاگو کر دئیے ۔ قران میں اللہ نے واضع فرما دیا کہ زمین و آسمان اللہ کے ہیں اور اللہ کیلئے ہیں ۔ ہمارا فرض بن گیا کہ ہم اس حکم کو من و عن تسلیم کریں اور اللہ کے احکامات کے نفاذ کیلئے عملی اقدام کریں ۔
ازاد ھاشمی
Wednesday, 17 January 2018
آیت الکرسی 3
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment