" آیت الکرسی ١ "
اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم ۔
آیت الکرسی کے فضائل اپنی جگہ مسلم ہیں ۔ پیغام کیا ہے یہ جاننا بھی اشد ضروری ہے ۔ جس پر بہت کم توجہ رہتی ہے ۔ اللہ نے قران ہدایت ، روشنی اور علم و بصیرت کیلئے نازل فرمایا ۔ اسے وظائف اور مسائل تک محدود کر دینا ، نہ عقلمندی ہے اور نہ قران کی عظمت کا موزوں اقرار ۔ آیت الکرسی کی ابتدا میں کہا گیا کہ اللہ کی ذات " الہ " ہے اور اسکے سوا کوئی " الہ " نہیں ۔ " الہ " کا معنی اور مفہوم " معبود " تک محدود نہیں ۔ یہ اللہ سبحانہ تعالی کی لا متناہی شان ہے ، جس پر کوئی دوسرا نہ شریک ہے اور نہ شریک ہو سکتا ۔ جو کلی اقتدار و اختیار کا مالک ہے کہ اسکی عبدیت کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی عبدیت کا تصور عبث ہے ، بھلے یہ عبودیت کسی بھی رنگ میں ہو ۔ جب عبودیت اسی کی ہے تو ہر حکم بھی اسی کا لاگو ہے ۔
" ھوالحی القیوم " اسی کی ذات ہمیشہ رہنے والی ہے ۔ اقرار لازم ہے کہ اللہ کی ذات کے سوا کسی دوسرے کو ہمیشہ ثبات نہیں ۔ کوئی دوسری چیز ہمیشہ رہنے والی نہیں ۔ اور اسی کی ذات کو ہمیشہ کا قیام ہے ۔ وہ قیوم ہے کہ خود ہمیشہ کیلئے قائم رہنے والا ، اور ہر شے کو قیام دینے والا بھی وہی ہے ۔ اسکے علاوہ کوئی نہیں کہ کائنات کو قائم رکھ سکے ۔ گویا اسکے کلی مالک و مختار ہونے کا اعلان ہے ۔ آیتہ الکرسی کی ابتدا میں اللہ کی یہ تین صفات کائنات پر کلی مالک و مختار کی آگہی دے رہی ہیں ۔ انکو دل اور دماغ سے تسلیم کر لینا انسان کو توکل اور اللہ پر ایمان کو پختگی دیتا ہے ۔ اس ایمان کے بعد مانگنے والے کا اللہ سے قرب بڑھ جاتا ہے ۔ اور طلب قبول ہوتی ہے ۔ اصل مدعا ایمان ہے ۔ دعا کی قبولیت اس ایمان کا انعام ہے ۔ جس سے ہم بے خبر ہیں ۔
آزاد ھاشمی
Wednesday, 17 January 2018
آیت الکرسی 1
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment