" اسلامی نظام پر ابہام "
ایک زیرک دوست کافی تردد کے بعد اس بات پہ قائل ہوئے کہ اسلامی نظام کی ہیئت موجود ہے ۔ مگر جو ابہام ہے وہ کچھ یوں ہے کہ جس کا حل نظر نہیں آتا ۔ محترم پوچھتے ہیں ۔
" مجوزہ اسلامی نظام میں شوری کا انتخاب کرے گا کون ؟ اور اس کا طریقہ کار کیا ہو گا ؟ اس ایک سوال کے تسلی بخش اور واضع جواب پر ہی اسلامی نظام سلطنت کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے ۔"
شوری بنیادی ضرورت ہے ، مانتا ہوں کہ ہمارے ملک میں مسائل بہت گھمبیر ہیں ۔ چند صادق اور امین بندوں کی تلاش بھی معمہ بن گئی ہے ۔ تجویز کے دو رخ ہیں ۔
١ ۔ تمام مسالک کو انکے اوسط تناسب کے ساتھ چند افراد کی نامزدگی کا کہا جائے ۔ جو کردار کے اعتبار سے صالح ہوں ۔ اس سے مسالک کا ممکنہ تناو ختم ہو گا ۔ فوج ، عدلیہ ، اساتذہ ، صحافی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے چند افراد لئے جائیں ، جس کو محکمہ تجویز کرے ۔اقلیتوں کے نمائندے بھی شامل ہوں ۔ اس ساری شوری کا کام حکمران کا انتخاب ہوگا ۔ جسے امیر کہا جائے ، صدر کہا جائے یا جو بھی نام دیا جائے ۔ اسکے بعد تمام حکومتی انتظامات کی ذمہ داری اس منتخب فرد پر ہو گی اور یہ ہر ضروری معاملے میں شوری سے مشورہ بھی کرے گا اور جوابدہ بھی ہوگا ۔
٢- کسی بھی نظام حکومت کے چند اساسی شعبے ہوتے ہیں ، جیسے معیشت ، عدل ، قوم کی حفاظت وغیرہ ۔ اس کیلئے پہلے سے پورا قانون واضع ہے ۔ حدود اور تعزیرات واضع ہیں ۔ انکو لاگو کرنا باقی ہے ۔ ان بنیادی شعبوں پر وہی حدود و قیود نافذ کر دی جائیں ۔ یہاں مسالک اور فقہی مسائل کا آسان حل ہے کہ ہر مسلک پر اسکے فقہ کے مطابق حدود لاگو ہو جائیں ۔
نمائندگی کیلئے مروجہ طریق کار سے ہٹ کر دوسرا طریقہ یہ ہے ، کہ ہر حلقہ انتخاب کے لوگ اپنی رائے سے ، اپنی مرضی سے ، صاحبان کردار تجویز کریں ، ان میں جس کے حق میں زیادہ رائے ہوں ، اسے شوری میں لے لیا جائے ۔ یہی اسمبلی ہوگی ، جو حقیقی رائے پر ہو گی ۔ شوری کی امیدواری کیلئے کوئی بھی شخص خود کو پیش نہیں کرے گا ۔ یہ عوام کی صوابدید پہ ہو گا ۔ کوئی انتخابی معرکہ نہیں ہوگا ۔ کوئی ملکی خزانے پر اضافی بوجھ نہیں ہوگا ۔ معیشت بہتر ہو گی ۔ عوام میں کشیدگی کم ہو جائے گی ۔ احتجاج کی رسم دم توڑ دے گی ۔ پوری قوم یک سو ہو کر ترقی کی طرف گامزن ہو گی ۔
یہ ایک رائے ہے ۔ اس سے بہتر آراء بھی آ سکتی ہیں ۔
ازاد ھاشمی
Friday, 19 January 2018
اسلامی نظام پر ابہام
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment