" آیت الکرسی ٤ "
" من ذالذی یشفع عندہُ الا باذنہِ"
کون ہے ایسا جو اسکی اجازت کے بغیر اسکے سامنے سفارش کرے ۔
اسکے حاکم مطلق ہونے کا یہی تقاضا ہے ، کہ اسکے سامنے بولنے سے پہلے اسکی رضا لے لی جائے ۔ انبیاء ہوں ، اولیاء ہوں ، صوفی ہوں ، صالحین ہوں ، سب اللہ کی ربوبیت کے تابع ہیں ۔ کسی کو مجاز نہیں کہ کسی کی سفارش کر سکے ۔ سوائے اسکے کہ اس درجے تک پہنچ ہو جہاں اللہ سفارش کی اجازت عطا فرما دے ۔
اس درجے تک پہنچنے کیلئے کہ اللہ سے سفارش کی اجازت طلب کی جائے ۔ اللہ سے قرب خاص لازم ہے اور اس قرب خاص کیلئے اس امتحان کو پورا کرنا شرط ہے ، جس سے اللہ سبحانہ تعالی اتنا راضی ہو کہ سفارش قبول فرما لے ۔ جیسے انبیاء پر سخت سے سخت آزمائشیں آئیں ۔ اولاد کی قربانی تک کے امتحان سے گذرنا پڑا ۔ یقینی طور پر جو ہستیاں اللہ کے امتحان پر اس حد تک پوری اتریں کہ اپنی جان ، اپنا مال ، اپنی اولاد اور نفس کی ہر آواز اللہ کے حکم پر قربان کر دی ۔ وہی اللہ سے کسی کی شفارش کرنے کا اذن مانگنے کے درجے پر پوری اتریں گی ۔ گویا سفارش کا حق ملے گا ، یہ امر واضع ہوتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
Friday, 19 January 2018
آیت الکرسی 4
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment