" بچوں کا قتل کیوں "
اللہ سبحانہ تعالی اپنے بندوں سے بے پناہ محبت فرماتا ہے ۔ ہدایت کیلئے بار بار یاد دہانی فرماتا ہے ۔ کئی وسیلے فراہم کرتا ہے کہ انسان گمراہی سے بچ جائے ۔ جب سرکشی اور ہٹ دھرمی کی حد ہو جاتی ہے ، تو چھوٹی چھوٹی آزمائشیں ، پھر ہلکے ہلکے جھٹکے اور جب بھی انسان باز نہیں آتا تو بتدریج سختی بڑھتی جاتی ہے ۔
ہم نے غور ہی نہیں کیا ، کہ کئی بار ہلکے ہلکے جھٹکے ملتے رہے ۔ کبھی کراچی میں قتل و غارتگری ، کبھی زلزلے ، کبھی معاشی نقصانات ، کبھی سیلاب اور کبھی بم دھماکے ۔ ہم نے ہر سدباب کر کے دیکھ لیا ۔ قابل ترین ایجنسیاں ناکامی کے کنارے پر پہنچ گئیں ، مگر حل نہیں مل پایا ۔ عدالتیں ناکام ، ملکی سلامتی کے تمام ذمہ دار ناکام ، حکومت ناکام ، عوام بے بس ۔ اسلئے کہ اللہ نے ایک واضع قانون دیا تھا ، جس کے لاگو کرنے کو ایک خطہ بھی دیا ۔ مگر ہم نے اللہ کے انعام کی قدر نہیں کی ۔ اللہ کے قانون لاگو کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا ۔ اللہ کی قائم کردہ حدود توڑ ڈالیں ۔ گناہوں کی دلدل کو تہذہب بنا ڈالا ۔ بے حیائی کو عام کر دیا ۔ ہر وہ برائی اپنا لی جس سے اللہ نے روکا ۔ زانی اور بدکار لوگوں کو رہبر مان لیا ۔ اس سب کی سزا اب ہمارے بچوں کو ملنے لگی ہے ۔ اللہ کی گرفت کی سختی ہے کہ ہم اپنی نسلوں کو اپنے سامنے بے آبرو ہوتے اور موت کے گھاٹ اترتے دیکھ رہے ہیں ۔ ہم نے اللہ کے نظام عدل سے بغاوت کی ، اپنا نظام عدل قائم کیا ۔ آج یہی اپنا بنایا ہوا نظام عدل ، مجرم کی پناہ گاہ ہے ۔
اگر ہمیں اب بھی سمجھ نہیں آتی تو تیار رہنا چاہئیے کہ اس سے اگلی سختی کتنی عبرت ناک ہو گی ۔
ازاد ہاشمی
Thursday, 18 January 2018
بچوں کا قتل کیوں
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment