Thursday, 18 January 2018

سو جاو ! مظلوم بچو

" سو جاو ! مظلوم بچو "
جب تک کالے کوٹوں میں کالے کرتوت والے وکیل ، سہمے سہمے رشوت خور قاضی ، فرعونیت کے پیکر راشی پولیس والے ، جاہل ملا ، بدکردار حکمران اور بے حس عوام زندہ ہے ۔ کسی مظلوم کو انصاف کا سوچنا نہیں چاہئیے ۔ جو قتل ہوا ، جس کی عصمت لٹی ، جس کے ٹکڑے کر کے کوڑے کے ڈھیر پہ پھینکا ۔ اسے اپنا مقدر مان لو اور منوں مٹی کے نیچے سوئے رہو ۔ جو تم کے ساتھ ہوا اور جن لوگوں نے کیا ۔ ہم تمہارے اس درد اور کرب کی مذمت بھی کریں گے ، تمہاری قبروں پر آآ کر رویا بھی کریں گے ۔ مگر تمہارے قاتلوں کے ہاتھ نہیں کاٹیں گے کیونکہ ہم بے حس اور منافق لوگ ہیں ۔ ہم بزدل ہیں ۔ ہم اندھے قانون کے پابند ہیں ۔ ہم دہشت  کے پیامبر ہیں ۔
تم سو جاو ۔ یہاں تم محفوظ ہو ۔ تمہیں کوئی خوف نہیں ۔ ہم انتظار کرتے رہیں گے کہ  تم سب کو کب انصاف ملے گا ۔ ہم تیار رہیں گے کسی دوسرے بے بس بچے کی قبر کھودنے کیلئے ۔ ہماری آنکھوں میں منافقت اور بیغیرتی کے بے بہا آنسو ہیں ۔ اگر معاشرے کے ہر پھول کو بھی کچلا گیا ، ہم رو لیں گے ۔
تم سو جاو ! ہم بھی سوئے ہوئے ہیں ۔ ہم تمہارے جنازے پڑھنے کیلئے اٹھتے ہیں اور پھر سو جاتے ہیں ۔ ہم ہاتھ پاوں باندھے اللہ سے تمہاری بخشش مانگتے رہیں گے ۔ اور تمہارے قاتلوں کی بربادی کی بد دعا بھی کیا کریں گے ۔ تم سو جاو ۔ تم سب شہید ہو ۔ اور ہم سب نے تمہاری شہادت کا بھی راستہ کھول رکھا تھا ۔ آئیندہ بھی بند کرنے کی کوئی کوشش نہیں کریں گے ۔ ہم وعدہ کرتے ہیں حکومت کو گالیاں بھی دیں گے اور انکی ہر برائی پہ انکا ساتھ بھی نہیں چھوڑیں گے ۔ آخر ہم زندہ اور بہادر لوگ ہیں ۔ کبھی باغیرت بھی ہوا کرتے تھے ۔ تم سو جاو ۔ ہم الیکشن کی تیاری کر لیں ۔ دیکھنا ہمارا لیڈر کتنی حمایت کرے گا تم ننھے شہیدوں کی ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment