" چیف جسٹس کا خبط "
مسلمان ملک کا سب سے بڑا قاضی پوچھتا ہے ۔
" حکومت آبادی میں اضافہ کیوں نہیں روکتی "
ایک با شعور شخص ، جو قانون کا سب سے بڑا رکھوالا ، اتنا بے خبر ہو گا ۔ مجھے کبھی وہم بھی نہیں ہوا تھا ۔ مسلمان ہو کر اسقدر لبرل سوچ رکھے گا ، عجیب سا لگا ۔ جناب جسٹس صاحب آبادی کا اضافہ اللہ کا حکم ہے ، اسے روکنے کی کوشش اللہ سے محاذ آرائی ہے ۔ اللہ فرماتا ہے کہ افلاس کے خوف سے اپنی اولاد کو مت قتل کرو ، انکو رزق انکا رب دیتا ہے ۔ جسٹس صاحب کیا آپ کو اللہ کے وعدے پہ یقین نہیں ۔ آپکی قانونی ذمہ داری بھی نہیں کہ اس طرف حکومت کو متوجہ کرو ۔ اپنے فرائض سے اتنے بے خبر ہو کہ عدالتوں میں لاکھوں کیس التوا کا شکار ہیں ۔ کسی کو انصاف نہیں مل رہا اور کسی پر عنایات کی بارش ہے ۔ کئی بےگناہ موت کی کوٹھڑیوں میں بند ہیں اور کئی قاتل دندناتے پھرتے ہیں ۔ اپنے فرض سے اسقدر غافل ہو اور اللہ کے نظام سے ٹکر لینے پر حکومت کو اکسا رہے ہو ۔ کیا سوچ لیا ہے کہ یہ بڑی سی کرسی آپکی عاقبت سنوار رہی ہے ۔ کیا خیال ہے " می لارڈ " ہی بنے رہو گے ۔ اس کرسی پر اللہ کی مرضی سے بٹھائے گئے ہو ، وگرنہ آپ سے بڑے بڑے قابل اور تعلیم یافتہ ، کلرکوں کی کرسیوں پر زندگی گزار دیتے ہیں ۔
اگر کرسی کا زعم دماغ سے اتر جائے تو اللہ کے حضور توبہ کر لو ۔ اللہ کے فیصلوں میں ٹانگ اڑانے والوں انجام اچھا نہیں ہوا کرتا ۔
ازاد ھاشمی
Sunday, 14 January 2018
چیف جسٹس کا خبط
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment