" اتنا تعصب ؟ "
کمال ہو گیا ، وطن عزیز کا بچہ بچہ زینب کی موت پر دکھ کا عجیب سا درد اپنے اندر محسوس کر رہا ۔ جس دل میں بھی انسانیت کی ایک رمق باقی ہے ، وہ دکھی ہے ۔ کسی نے نہیں سوچا ، کسی نے نہیں پوچھا ، کسی نے تحقیق نہیں کی کہ زینب کے والدین کا کیا دین ہے ، کس مسلک سے تعلق ہے ، کونسی پارٹی سے رابطے ہیں ۔ سب انسانیت کے نام پر دکھی ہیں ۔ ایک مثبت یکجہتی نے جنم لیا ہے ۔ اسے برقرار رکھ لیا جائے تو اس طرح کے مزید سانحات رک سکتے ہیں ۔
بہت دکھ ہوا جب مقتولہ کے والد نے ایک انسان کو اسکے عقیدے کی بنا پر اس دکھ کا حصہ دار بننے سے روک دیا ۔ کیونکہ وہ قادیانی ہے ۔
قادیانیوں کے عقیدے کا حساب اللہ کا معاملہ ہے ۔ یہ موقع بھی ایسا نہیں تھا کہ تعصب کی دیوار اٹھا دی جائے ۔ اور انکے عقیدے کی بنا پر انہیں اچھوت بنانے کی کوشش میں لگ جائیں ۔ ایک نئی بحث چھیڑ کر ایک دیانتدار افسر کو اپنا حصہ ڈالنے سے منع کر دینا نہ قرین قیاس ہے ، نہ ایمان کا اعلی درجہ ہے اور نہ مہذب معاشرے میں پسندیدہ ۔ زینب کے اہل خاندان کا دکھ سب کا دکھ ہے ۔ اس میں عقیدہ ، علاقہ ، زبان ، رنگ اور سیاست کی بنیاد پر تضاد زیب نہیں دیتا ۔ کتنے بچے اس سفاکیت کی بھینٹ چڑھے ، کیا ہوا ۔ تدارک کیوں نہیں ہوا ۔ اگر پہلے سانحے پر قوم اٹھ کھڑی ہوتی تو آج زینب بھی باپ کے سینے سے چپٹی ہوتی ۔ اس وطن کی اساس میں قادیانیوں کا بھی حصہ ہے ، جس سے کسی کو انکار نہیں ۔ پھر انکو کونے میں لگانا ، نہ اسلام کی خدمت ہے ، نہ وطن کی اور نہ قوم کی ۔ (اللہ کرے ان چند سطور کو میرے ایمان کا پیمانہ نہ بنا لیا جائے ۔) اسلام امن اور سلامتی ہے ۔ اپنے اور دوسروں کے حقوق کا مساوی خیال رکھنے کا نام ہے ۔ شر اور فساد کو روکنے کا پیغام ہے ۔ دوسروں کی عزت نفس کو مجروع کرنا اسلام کی قطعی خدمت نہیں ۔ حیرانی ہوئی کہ زینب کے والد نے ایسا فیصلہ کیوں اور کس بنیاد پہ کیا ۔
اللہ کے واسطے وطن کو اتحاد کی ضرورت ہے ۔ نفاق کی نہیں ۔ خیال کریں ۔
ازاد ھاشمی
Sunday, 14 January 2018
اتنا تعصب
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment