" اسلامی سزا اور جرم "
سزا کا تصور جرم ہونے تک محدود نہیں ہوا کرتا ۔ سزا جرم کو روکنے کا ایک موثر حل ہوتا ہے ۔ سزا کا اصل مقصد یہ ہے کہ جرم کا ارتکاب رک جائے ۔ جب کسی بھی معاشرے میں سزا پر مصلحت اختیار کرنے کا رواج بن جائے تو جرم بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ اسلام ایک ایسا نظام ہے کہ جس کی تمام سزائیں ، جرم کی جڑ کاٹنے کے فلسفے پر قائم ہیں ۔ جو جرم جسقدر معاشرتی زندگی میں تکلیف دہ ہو گا ، اسکے لئے اتنی ہی سخت سزا درکار ہو گی تاکہ اسکا تسلسل رک جائے ۔ شیطان کبھی نہیں چاہتا کہ جرم رکے اور وہ اسے برقرار رکھنے کے راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے ۔ طاغوت نے ہمیشہ یہی کوشش کی کہ سزا جرم دیکھ کر نہ دی جائے ، بلکہ درجہ بندی کر کے دی جاتی ۔ طاقتور اور اشرافیہ پر سزا کی گرفت نہ ہونا یا برائے نام ہونا ، تمام اشرافیہ کی صوابدید ہوتا ہے ۔ مگر اسلام صرف جرم کو دیکھتا ہے اور اسی اعتبار سے سزا لاگو کرتا ہے ۔ قاتل کوئی بھی ہو سزا قتل کا بدلہ قتل ہی رہتی ہے ۔ عادی چور کو ہاتھ کاٹے بغیر چوری سے باز رکھنا ، ممکنات میں سے نہیں ۔ آج ہمارے قوانین میں چور سے اسکے چوری کئے ہوئے مال سے مخصوص حصے کی واپسی پر اسکی چوری جائز ہو جاتی ہے ۔ جیسا کہ مسلسل ہو رہا ہے ۔ اسلام اسے قبول نہیں کرتا ۔ اس حقیقت میں کوئی شائبہ نہیں کہ اگر ایک چوری کے مرتکب اشرافیہ کا ہاتھ کاٹا جاتا تو چوری کی روایت دم توڑ دیتی ۔
اشرافیہ اپنے وسائل سے حکمرانی کرتی ہے اور اپنی مرضی کے قوانین ترتیب دے لیتی ہے ۔ جس وجہ سے جرائم کی شرح میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔
ہمیں اسلامی سزاوں کا خوف اسلئے نہیں کہ یہ ظالمانہ ہیں ، اسلئے ہے کہ یہ بلا تفریق لاگو ہوتی ہیں ۔ سزا ہمدردانہ ہو تو سزا نہیں رہتی ، مفاہمت بن جاتی ہے ۔ اور جرائم مفاہمت سے رکنے کی امید حماقت ہے ۔ ہمیں اپنے سکون اور امن کیلئے اسلامی قوانین جزا اور سزا کو اپنانا ہوگا ۔ امن کا واحد حل یہی ہے ۔
ازاد ھاشمی
Sunday, 14 January 2018
اسلامی سزا اور جرم
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment