Wednesday, 17 January 2018

قاتل یا چھلاوا

" قاتل یا چھلاوہ "
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کئی سرکردہ لوگ قتل ہوئے ، قاتل نہیں ملے ، چند ایک میں قاتل ملا تو قتل کیا ہوا ۔ پولیس قاتل تک پہنچنے کے کئی گر آزما لیتی ہے ، مگر قاتل کبھی نہیں ملا ۔ کیوں ؟ ۔ یہ ایک ایسا معمہ ہے کل بھی حل نہیں ہوا اور جو آج بھی حل نہیں ہو رہا ۔ ابھی تازہ تازہ واقعہ معصوم بچی کا ہے ۔ جس کے قاتل کے روز نئے خاکے پبلش ہو رہے ہیں ۔ ایک ہی سی سی ٹی وی بدل بدل کر عکس دے رہا ۔ کون جانے پہلے والی درست تھی یا نئی والی ۔ ایک بہادر نے تو قاتل کو کراچی جا پکڑا ہے ۔ خوب درگت کے بعد پورے وثوق سے کہہ دیا کہ یہ اصل قاتل ہے ۔ جبکہ اصل پولیس والے قصور میں جتن کر رہے ہیں ۔ یوں لگ رہا ہے کہ مجرم یا تو چھلاوہ ہے یا پھر بہت طاقتور ۔ اب قانون کے محافظ ادارے مل کر گردن ناپ رہے ہیں ، کہ کونسی موٹی گردن ہے جو پھندے کیلئے موزوں ہے ۔ کچھ بعید نہیں کہ کوئی لاوارث قیدی مجرم بنا کر عوام کے سامنے رکھ دیا جائے کہ اگر پریشر برقرار رہتا ہے تو اسکے گلے میں پھندہ ڈال کر کروڑ کا انعام بانٹ لیا جائے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ شک کا فائدہ اٹھا کر مجرم کو بچا لیا جائے ۔ جو یقینی طور پر سیاسی تعلقات والا ہو گا ۔ ہو سکتا ہے علاقے کا بڑا پولیس افسر اسی قاتل کی آشیرباد سے اس سیٹ پر بیٹھا ہو ۔ ایسے میں مجرم کا پکڑا جانا کیسے ممکن ہو گا ۔
یہ بھی خبر ہے کہ اسی طرح کے گیارہ قتل ہوئے ہیں ، اور ڈی این اے ٹیسٹ کے اعتبار سے ایک ہی قاتل ہے ۔ اس کا یہ ھی مطلب ہے کہ گیارہ گذشتہ قتل کے مجرم نہیں پکڑے گئے ۔ اب ذہین پولیس سوچ رہی ہے کہ کوئ ایک فرضی قاتل پکڑو اور گذشتہ گیارہ قتل کا معاملہ نپٹا دو ۔ عوام کو کونسی عقل ہے ۔
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment