Thursday, 23 November 2017

گنتی تو یاد ہو گی

" گنتی تو یاد ہوگی "
مشرقی پاکستان بننے جا رہا تھا , تو ہمارے پاس ایک دلیل باقی تھی کہ ہم یہ جنگ کبھی نہیں ہارتے , اگر پاکستان سے دوری نہ ہوتی . مکتی باہنی کی کامیابی ہماری کمزوری نہیں تھی , یہ مقامی لوگوں کی غداری تھی , جس نے ہمیں جنگ ہارنے پر مجبور کیا . پاکستان کی بہادر افواج کی قابلیت اور ذہانت کی پوری دنیا مداح رہی . عوام کے دلوں کی محبت کا تصور بھی ممکن نہیں , جو پاک فوج سے اسوقت تھی . مجھے یاد ہے کہ مجھے اپنے ایک ساتھی افسر کے ساتھ , جنگ رکنے کے بعد تیسرے روز لاہور شہر میں داتا صاحب کے ایریا میں آنا پڑا . ہم دونوں محاذ پر کیما فلاج کی  حالت میں ہی شہر آ گئے . لوگ دیوانہ وار  پھولوں کے ہار لا لا کر ہمارے گلے میں ڈالتے رہے . مجھے وہ بوڑھی ماں بہت یاد آتی ہیں جو ہم دونوں کو بار بار گلے لگاتی رہیں اور دعائیں دیتی رہیں . کبھی ماتھا چومتیں , کبھی گال اور کبھی وردی . پھر پاکستان کی شرمناک شکست کے بعد , کبھی وردی میں شہر کیطرف آنے کی جرات نہیں ہوئی .
اب پاکستان کی ان حدود کے اندر , جہاں نہ مکتی باہنی ہے , نہ زمینی فاصلے وجہ ہیں . جہاں چپہ چپہ پاکستانی فوج کی دسترس میں ہے . مٹھی بھر دہشت گرد , جن کے وسائل کسی طور ہماری فوج کے برابر نہیں . سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہر دوسرے تیسرے روز کسی نہ کسی افسر کی شہادت کی خبر مل جاتی ہے . اسے کیا کہنا چاہیئے . میرے بہادر فوج کے سالاروں کو ان شہداء کی گنتی تو یاد ہو گی . اس دہشت گردی کو طول ملنے کا کوئی تو سبب ہوگا . میری اور آپکی بہنیں , بیٹیاں کب تک سہاگ لٹاتی رہیں گی . مائیں کب تک اپنی اجڑتی کھوکھ پر روتی رہیں گی . معصوم بچے کب تک یتیم ہوتے رہیں گے . اس کھیل کا آخری راونڈ کھیلنے میں تردد کیوں . آج فوج پر قوم کو کتنا بھروسہ باقی  رہ گیا ہے . اب  کتنے افسروں اور جوانوں کے گلے میں قوم ہار ڈالتی ہے . کبھی وقت ملے تو ضرور سوچیں . کبھی خیال آئے تو اس کھیل کو آخری بار کھیل جائیں . قوم کے تھکنے کا انتظار نہ کریں .
ازاد ھاشمی

متحدہ مجلس عمل

" متحدہ مجلس عمل "
ایک بات تو دل کو لگتی ہے کہ چلو , کوئی تو وجہ ایسی ہے جس نے اسلام کی چھتری تلے جمہوریت کی آبیاری کرنے والوں کو اکٹھا کیا . قوم کو ایک خوبصورت موضوع دے دیا , خصوصی طور پر اسلام کے نظام سے وابستہ ذہن کچھ دن اچھے اچھے خواب دیکھ لیں گے . وہ سب لوگ جو عام حالات میں ایک دوسرے کو مسلمان ماننے کو تیار نہیں ہوتے . اور جن کے پاس ایک دوسرے کو کافر ثابت کرنے کی بے شمار دلیلیں بھی ہیں . اسی مسالک کی جنگ نے ایک دوسرے سے اتنا دور کر رکھا ہے کہ متحدہ ہو کر مجلس اور عمل کی ضرورت آن پڑی . کتنا اچھا ہوتا اگر یہی لوگ جمہوریت کی چھتری چھوڑ دیتے . چند سیٹوں کے حصول کا جہاد کرنے کی بجائے , صرف اسلامی نظام کی بات کریں . ریفرنڈم کی آواز اٹھائیں کہ چلو پوچھ لیتے ہیں , اکثریت اسلامی نظام کے ساتھ ہے یا جمہوریت کے ساتھ . اگر اتنی جرات نہیں تو کم از کم قوم کو جمہوریت کی اصلیت سے اگاہ کریں . اگر یہ بھی مشکل ہے تو جمہوریت کا بائیکاٹ کر دیں . اگر اتنی بھی جرات نہیں تو اللہ  کے اس فیصلے کا انتظار کریں . جو اللہ نے دو رخ والے لوگوں کے بارے میں ہمیشہ کیا ہے .
الیکشن کیلئے اتحاد , کچھ عجیب سی روایت ہے . نظام اسلام کے نفاذ کیلئے اتحاد قابل تحسین ہے . مگر نظام
اسلام قطعی جمہوریت کی ضد ہے . اس پر سوچنا بھی لازم و ملزوم ہے .
ازاد ھاشمی

بیمار سیاستدان

" بیمار سیاست دان "
عجیب سی مضحکہ خیز صورت حال ہے . جتنے بھی سیاست کے کھلاڑی ہیں . سب کے سب بیمار ہیں . بیماری کی تشخیص کا وقت اور بھی شرمناک ہے کہ بیماری کا پتہ ہی اسی وقت چلتا ہے , جب کوئی گرفت آنے والی ہوتی ہے . اس سے پہلے وہ ہر میدان کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں .
بیماری کی تشخیص اور علاج , وہ  اس آقا سے کراتے ہیں , جن سے لاکھوں قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی تھی . قوم کو یاد ہو گا کہ قائد اعظم محمد علی جناح ٹی بی کے مرض کی آخری سٹیج پہ تھے . جسکا  قوم کو اسوقت پتہ چلا , جب آپ کو ازل نے بلا لیا . کیوں چھپائے رکھا . کیا مصلحت تھی , یہ ایک دوسری کہانی ہے . دنیا میں ایسے بیشمار قائدین گزرے ہیں , جو قوم کی خاطر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے مشن کو تکمیل تک لے گئے .
چلیں , سیاسی لوگ تو شعبدہ بازی میں ماہر ہوا کرتے ہیں . حیرانی ہے کہ فوج کا سپہ سالار بھی بیمار نکلا . وہ بھی اسوقت جب اسے یقین ہو گیا کہ شکنجہ تیار کیا جا رہا ہے .
سوال یہ ہے کہ ان تمام مریضوں کو , اگر کوئی یقین دلا دے کہ وہ اپنا کھیل کھل کر کھیلیں ,کوئی گرفت نہیں ہو گی تو  کل ہی سب کے سب ہٹے کٹے دکھائی دیں گے .
دل کی بیماری تو دو چار ماہ میں نہیں ہوتی . اسے ایک عرصہ لگتا ہے . وہ غرباء جن کے پاس وسائل نہیں ہوتے کہ چیک اپ کرا سکیں , ان کی بات مانی جا سکتی  ہے کہ انہیں خبر ہونے تک بہت دیر ہو جاتی ہے . علاج کے وسائل
نہ ہونے کے باعث لہسن اور ادرک کھانے لگتے ہیں , جب تمام شریانیں بند ہونے کے قریب ہوتی ہیں . مگر ان سیاستدانوں کو تو نزلہ زکام پر بھی ڈاکٹروں کے پینل چیک کرنے بھاگے آ جاتے ہیں . پھر ان سب کو بیماری سے بے خبری ناقابل فہم ہے . یہ تماشہ بذات خود صداقت پر سوال ہے . ایسے بیمار خصلت لوگوں کی تقلید کرنے والوں کی حماقت بھی مصدقہ ہے .
کیا قوم اس حقیقت پر غور کرے گی . اگر نہیں تو پوری دماغی بیماریوں کا شکار ہے .
ازاد ھاشمی

سموسے بیچنے والا فلاسفر

" سموسے بیچنے والا فلاسفر "
مغرب زدہ نوجوان , عمر کا لحاظ کئے بغیر , پوری رعونت کے ساتھ , بابا جی پر برس رہا تھا .
" سموسے بیچو بڈھے فلسفہ مت پڑھاو . سارا دن پیٹ بھرنے کیلئے آگ پر بیٹھے رہتے ہو . یہ خوشحالی محنت سے آتی ہے محنت سے . مسجد میں ٹکریں مارنے سے آتی تو سارے ملا کروڑ پتی ہوتے . یہ سب ڈھکوسلے ہیں . اللہ کا تعلق اسکی عبادت کے سوا کچھ نہیں . اگر پیسہ ہے تو مسجد بنا دو , سارے نمازیوں کے سجدوں کا ثواب مل جاتا ہے . ایک حج کرلو , ساری گذشتہ عمر کے گناہ دھل جاتے ہیں . یہ ایک ایک سجدے کا رواج غریبوں کی ضرورت ہے . ہماری نہیں .. "
بابا جی بت بنے اس نوجوان کی باتیں سنے جا رہے تھے . ارد گرد سے لوگ بھی ایک ایک کر کے جمع ہو چکے تھے . نوجوان لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ مچل رہا تھا . بیہودگی بتا رہی تھی کہ اسکی تربیت میں بہت کمی رہ گئی ہے .
" بھائی ! بابا جی کی عمر کا خیال نہیں تو کم از کم اپنے مذیبی فرائض کا تو احترام کرو "
ایک صاحب نے لقمہ دیا . نوجوان اور پنک گیا اور اول فول بکنے لگا . بابا جی کا پیمانہ صبر بھی بھر چکا تھا .
" بس نوجوان . جو تم بول سکتے تھے تم نے بول لیا . سجدہ وہی کام آتا ہے جو تم خود کرتے ہو . نماز وہی قبول ہوتی ہے جو تم اللہ کے خوف سے پڑھتے ہو . بھیک اللہ سے مانگی  جائے تو اللہ خوش ہوتا ہے . مسجد بنا کر ثواب کی امید ,تجارت ہے . حج سے گذشتہ زندگی  کے گناہ اسی کے دھلتے ہیں , جسکا حج قبول ہو جاتا ہے . حج اسی کا قبول ہوتا ہے تو صدق دل سے توبہ کیطرف لوٹتا ہے . پیسوں سے اللہ کی خوشنودی کا خواب دیکھنا چھوڑو . اللہ کو عجز پسند ہے , تکبر نہیں . تیری میری اوقات کیا ہے . کبھی سوچا . تیرے میرے سب چاہنے والے , سانس چلنے تک ساتھ ہیں . سانس رکی تو منوں مٹی اوپر ڈال دیں گے . "
بابا جی کے بدلے تیور دیکھ کر نوجوان ٹھٹک گیا .
" تیرا باپ زندہ ہے . ماں زندہ ہے "
بابا جی نے سوال کیا . جواب نہیں میں تھا .
" تم نے اپنے ہاتھوں سے انکی نعشوں پر مٹی ڈالی ہو گی . اسکے بعد کی خبر کسے معلوم . انکے ساتھ کیا ہوا . ایسا ہی تیرے اور میرے ساتھ ہو گا . دولت کا نشہ اتار دے . یہ نشہ بد بختی ہے . مسجد میں ماری ہوئی کوئی ایک ٹکر بھی قبول ہو گئی تو مٹی کے نیچے اذیت سے بچ جاو گے . میرا آگ پہ بیٹھے رہنا , اگر دوزخ کی آگ سے بچا لے تو کوئی برا سودا نہیں . مجھے اتنا ہی ملتا رہے کہ کسی کے سامنے حاجت نہ رکھنی پڑے . میں خوش ہوں . بس اپنے رب کو خوش دیکھنا میری آرزو ہے . اللہ کے ہر مقبول بندے کی یہی آرزو ہوتی ہے "
نوجوان بولنے کیلئے الفاظ کی تلاش کرتا رہ گیا . سموسے بیچنے والا فلاسفر اپنے الفاظ سے اسے ہدایت کی راہ دکھا رہا تھا . اور سننے والے کتنے اپنی اصلاح کی راہ پا رہے تھے .
ازاد ھاشمی

پاکستان کس نے لوٹا

"پاکستان کس نے لوٹا "
ایک دوست کی تحقیق جو درج ذیل ہے . اس سے اندازہ کرنا ممکن ہے کہ قوم کو سیاستدانوں نے کیا دیا اور فوجی حکمرانوں نے کیا دیا . قوم آنکھیں کھلی رکھتی تو ان پیشہ ور سیاستدانوں کا کردار واضع ہو جاتا . ملاحظہ فرمائیے .
قیام پاکستان سے ایوب خان کے مارشل لاء تک پاکستان پر کل قرضہ ۔۔۔۔ تقریباً 350 ملین ڈالر تھا , جو پاکستان کو اپنے قیام کے ساتھ ہی قرضہ لینے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔

ایوب خان کے دور میں
پاکستان پر کل قرضہ تقریباً  170 ملین ڈالر تھا , کیونکہ ایوب خان نے تقریباً 180 ملین ڈالر  قرضہ ادا کر دیا تھا ۔

بھٹو کے دور  میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 6341 ملین ڈالر تھا .
جنرل ضیاء الحق کے دور میں
کل بیرونی قرضہ 12913 ملین ڈالر
لیکن جنرل ضیاء مسلسل گیارہ سال تک روس جیسی سپر پاور کے خلاف جنگ کرتا رہا، ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی اور ایف 16 طیارے خریدنے کے علاوہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھوٹے ڈیم بنائے۔ یوں بظاہر ان قرضوں کا جواز نظر آتا ہے۔ 
بے نظیر اور نواز شریف کے دور
میں کل بیرونی قرضہ  39000 ملین ڈالر  ہو گیا .
پرویز مشرف کے دور
میں کل بیرونی قرضہ  34000 ملین ڈالر  ہو گیا . قرضوں میں ریکارڈ کمی ہوئی۔
آصف زرداری کے دور
میں کل بیرونی قرضہ 48100 ملین ڈالر ہوگیا . آصف زرداری نے صرف پانچ سال میں 14100 ملین ڈالر کا قرضہ لے کر پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔
نواز شریف کے موجودہ دور
کل بیرونی قرضہ  تقریبا 84000 ملین ڈالر ہو چکا ہے .نواز شریف اب تک صرف چار سال کے قلیل عرصے میں 35900 ملین ڈالر کا کمر توڑ قرضہ لے چکے ہیں جو پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں لیے گئے  کل قرضے کے برابر ہے۔ بظاہر اس سوائے 700 ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والے میٹرو کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

یوں آمرانہ ادوار میں کل 6772 ملین ڈالر کا قرضہ لیا گیا جبکہ 5180 ملین ڈالر کا قرضہ چکتا کیا گیا۔ یوں آمروں نے پاکستان کو کل 1592 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔
جبکہ جمہوری حکمرانوں نے پاکستان کو کل 82408 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔
جمہوری ادوار میں لیے گئے قرضوں کا محض سود ہی آمروں کے کل لیے گئے قرضوں سے زیادہ ہے۔ ابھی چند ماہ بعد پاکستان کو صرف سود کی مد میں 11000 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں۔
اب بھی قوم جمہوریت کی دلدادہ ہے تو ایسی قوم پر .....
ازاد ہاشمی

ڈکٹیٹر کون

" ڈکٹیٹر کون "
ڈکٹیٹر , وہ عام اصطلاح ہے جو خصوصی طور پر فوجی جرنیلوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے . پہلے یہ سمجھنا لازم ہے کہ ڈکٹیٹر سے کیا مراد لی جاتی ہے . عام فہم لفظوں میں , جو شخص اپنی بات زور زبردستی منوائے . کسی دوسرے کی نہ سنے اور بے لگام ہو کر فیصلے کرتا رہے . قانون اور اصولوں کو خاطر میں نہ لائے , ڈکٹیٹر کہلاتا ہے .
جو لوگ فوج کے نظم و ضبط کے طریقوں سے اگاہ ہیں . وہ جانتے ہیں کہ فوج کا کوئی افسر طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا . آرمی چیف کو بھی اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے ایک ضابطے سے گذرنا ہوتا ہے . کوئی فوجی , وہ اعلی افسر ہو یا ایک سپاہی اپنی اپنی حدود و قیود کا پابند رہتا ہے .
مارشل لاء کیوں لگے , سیاسی وزراء اعظم بار بار کیوں معطل ہوئے . یہ ایک الگ بحث ہے . مگر جو بھی فوجی حکمران آیا , وہ فوجی قواعد و ضوابط سے کبھی منحرف نہیں ہوا . رہ گیا ریاست کا دستور یا قانون تو وہ کبھی بھی فعال نہیں تھا . اس قانون اور دستور سے کبھی نہ انصاف ملا نہ عدل . 
اگر ہم سیاسی سربراہان کی عملی زندگی دیکھیں تو وہ ہمیشہ ڈکٹیٹر بن   کے رہے . بھٹو کسی کی نہیں سنتا تھا , تمام وزیر اور ممبران اسمبلی بھٹو کے سامنے دم نہیں مار سکتے تھے . اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بھٹو اپنے فیصلوں میں ہمیشہ آزاد رہا . بے نظیر کی کیفیت بھی چنداں مختلف نہیں تھی . زرداری کے بارے میں بھی یہی تاثر قائم ہے . اگر نواز شریف کو دیکھا جائے تو وہ پاکستان کو مغلیہ ریاست کیطرح استعمال کرتا رہا . جو من میں آیا  کیا . جب قانون کو بڑے جتن سے متحرک کیا گیا تو اس نے قانون ماننے سے انکار کر دیا . پوری قوم کے فیصلے کرنے والے جج کرپٹ قرار دے دئے . اسٹیبلشمنٹ کا رونا رونے لگا . کیا اس خود سری کو کیا نام دیا جائے گا .
جو بھی سربراہ مملکت صرف اطاعت کو پسند کرے اور تنقید کرنے والے کو عبرت ناک بنا دے . اس سے بڑا ڈکٹیٹر کون ہو گا . سندھ , بلوچستان , پنجاب , پختونخواہ میں مقتدر سیاسی پارٹیاں کیا کرتی ہیں . اس سے کون اگاہ نہیں . کیا یہ خود سری فوجی حکمرانوں کے ادوار میں بھی قائم رہی .
فوجی حکمران بھی فرشتے نہیں تھے . ان میں بھی برائیاں تھیں . مگر انکے فیصلوں میں ایک وقار رہتا ہے .
طاقت کا بے جا استعمال فرعونیت کی علامت ہے .  اگر یہ استعمال کمرزوروں پر ہو . اگر یہ استعمال مجرموں پر ہو تو عدل ہے . مارشل لاء میں اکثر گرفت عادی مجرموں پر رکھی گئی ہے .
ازاد ھاشمی

ماں جی سے باتیں

" ماں جی سے باتیں "
ماں جی کو اللہ پاک جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے . آمین .
" ایک سال ہونے کو ہے آپ کو رخصت ہوئے . اس ایک سال کا ایک ایک دن , آپکی باتیں کرتا ہوں . کوئی نہ کوئی موضوع ڈھونڈھتا ہوں , جس میں آپ کا ذکر آ جائے . ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ کو اتنی جلدی کیا تھی اس جہان سے رخصت ہونے کی . آپ کے دم سے میرے آنگن میں رونق تھی . میرا دل زندہ تھا . اللہ کی رحمتیں برستی تھیں . ایک سال ہونے کو ہے , وہ سب مجھے بھول گئے , جن کیلئے میری جان بھی حاضر تھی . آپ مجھے ہی کہا کرتی تھیں  کہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی لا پرواہی پر غصہ مت کیا کرو . انہیں کبھی نہیں کہتی تھیں کہ بڑے بھائی کا حال پوچھ لیا کرنا . آج ایک سال میں کئی بار موت  کو آنکھوں کے سامنے دیکھ چکا ہوں . نہ اعصاب باقی ہیں نہ ہمت ساتھ ہے . ماضی کیطرح بہادری بھی نہیں رہی . آپ کی وجہ سے سب کچھ برقرار تھا . اب کچھ باقی نہیں . لفظوں سے کھیلتا رہتا ہوں . بہلنے کا ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے . پہلے آپ کے فون اور ڈانٹ ڈپٹ کا انتظار کرتا تھا . جی اداس ہوتا تھا , فون کر لیا کرتا تھا . دل بہل جاتا تھا  . اب نہ کسی فون کا انتظار ہوتا ہے نہ امید . بیماری زور پکڑتی ہے تو بستر پہ لیٹ جاتا ہوں . طبیعت بہتر ہوتی ہے تو مزدوری کرنے میں جت جاتا ہوں . اب تھکن بھی ہونے لگی ہے . دل بھی اداس رہتا ہے . آپ کو خواب میں دیکھا تو درخواست کی تھی کہ مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے . آپ ناراض ہوگئیں کہ یہاں اپنے فرائض پر نظر کرو . اور چلی گئیں . ماں جی ! بہت دن ہوگئے ہیں جی بھر کے رویا بھی نہیں . وہ کندھا ہی نہیں جس پر سر رکھ کے رو لیتا . مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ تنہائی صرف میرے لئے تھی .
کبھی کبھی باجی خاور کی ہلکی پھلکی ڈانٹ سننے کو مل جاتی ہے . آپکا عکس دکھائی دے جاتا ہے . کئی روز تک دل بہل جاتا ہے . آپ کے کہنے پر کسی سے بھی نہ شکوہ کرتا ہوں نہ گلہ . سب کے سب اجنبی سے لگنے لگے ہیں . کسی کو مجھ سے کام باقی نہیں رہا . کسی کو میری ضرورت نہیں شاید . آپ کو اداس نہیں کرنا چاہتا . اور کچھ نہیں بولوں گا "
ازاد ھاشمی

اسمبلیوں کے ممبران کی مراعات

" اسمبلیوں کے ممبران کی مراعات "
وہ سب شاطر جو قوم کو طرح طرح کے خواب دکھا کر بیوقوف بنا رہے ہیں . کچھ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم لیکر آئے ہیں . ایک نیا پاکستان دیں گے . کچھ کہتے ہیں روٹی کپڑے اور مکان کی ضمانت ہم دیتے ہیں . کچھ کا اعلان تھا کہ قرضے کی بھیک کا کاسہ توڑ دیں گے . کچھ کہتے ہیں کہ وطن میں خلافت راشدہ کا دور لے کے آئیں گے . سب کے پاس اپنی اپنی بنسری اور اپنا اپنا راگ ہے . کرتوت یہ ہے کہ سب کے سب عوام کی رگوں سے خون نچوڑ نچوڑ کر پی رہے ہیں . عوام بھوکی رہے , ننگی رہے , قلاش رہے , انہیں کوئی سروکار نہیں . عوام ٹیکس دے گی اور یہ اپنی عیاشیاں مراعات کے نام پر جاری رکھیں گے . یاد رہے پاکستان میں سانس لینے والا ہر انسان ٹیکس ادا کر رہا ہے . جینے کا ٹیکس , پانی کا ٹیکس , سانس لینے کا ٹیکس . اور یہ ٹیکس سیاستدان , اسمبلیوں میں بیٹھے ممبران مراعات کے نام پہ ہڑپ کر جاتے ہیں . ایک محترم فرماتے ہیں کہ انکے امراء اسمبلی سے ملنے والی تنخواہ جماعت میں جمع کرا دیتے ہیں . کیا عوام کا فرض ہے کہ جماعت کیلئے وسائل ٹیکس سے ادا کرے . غریب سے لیا گیا تمام پیسہ , خواہ کسی بھی شکل میں وصول کر کے اپنی آسائش کا سامان کیا جائے , حرام ہے . صرف وہ مراعات جائز ہیں , جن کے برابر خدمات دی گئی ہوں . باقی سب حرام ہے . جبر ہے اور جبر سے لیا گیا ایک ایک پیسہ ذاتی استعمال پر قطعی جائز نہیں . یہی سبق ہے میرے اور آپکے دین کا .
جن کو عوام کی خدمت کا جنون ہوتا ہے . انہیں مراعات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی . وہ اپنے وسائل بھی اسی خدمت پہ لگا دیتے ہیں . اسکی کئی ایک مثالیں موجود ہیں . انکے بنک بیلنس اور اثاثے نہیں ہوتے .
اے کاش ! قوم سمجھ جائے , کہ یہ سب مداری ہیں , بہروپئے ہیں , خون چوسنے والی جونکیں ہیں .
ازاد ھاشمی 

توکل کی بھیک

" توکل کی بھیک "
ایک سجدہ کرتا ہوں اور  اللہ کے سامنے حاجات کا رجسٹر کھول کر بیٹھ جاتا ہوں . گویا عبادت کو تجارت بنائے بیٹھا ہوں . سمجھتا ہوں کہ ایک سجدے کے بعد میرا حق ہے کہ جو مانگوں , ملنا چاہئے . جب تک کوئی مصیبت سر پر آن کھڑی نہیں ہوتی , صدقے کا خیال بھی نہیں آتا . جو مانگا اگر نہیں ملا تو تصور باندھ لیا کہ اللہ میری دعائیں نہیں سنتا . کسی کو کچھ اچھا حاصل ہو گیا اس پر حاسد ہو جاتا ہوں . تنقید کرنے کو حق سمجھنے پر بضد اور تنقید سننے سے سیخ پا ہو جاتا ہوں . حج کی تیاری کرتا ہوں , یہ سوچ کر کہ زندگی کے سارے گناہ بھی دھو لوں گا  اور حاجی کے نام سے پہچان بھی بن جائے گی . اپنا احتساب کرتا ہوں تو اپنے آپ سے گھن آنے لگتی ہے . اعمال کا پلڑا آسمان کیطرف اٹھا ہوا ہے , گناہوں کی گٹھڑی والا پلڑا بھاری ہے . بے شمار نعمتوں سے نوازنے والے رب کی یاد اسی وقت آتی ہے جب بدنی تکلیف جھنجھوڑنے لگتی ہے . قبر کا سوچ کر تھوڑی دیر سہم جاتا ہوں اور پھر دنیا کی چکاچوند میں کھو جاتا ہوں . حیوانی جبلت کو زیر کرنے کی نہ کبھی کوشش کی نہ کبھی خیال آیا , کہ میں تو اشرف المخلوقات تھا . اپنے اس اعزاز کو کیوں برقرار نہیں رکھا .
دنیا مانگی , زندگی مانگی , اولاد مانگی , عزت مانگی اور بہت کچھ مانگا . سب کچھ ملا . غفور و رحیم نے میرے ماتھے کی سیاہی کو چھپائے رکھا اور میں سمجھ بیٹھا کہ میں  مقبول ہوں . ایک دعا کی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ اللہ سے مانگنا ہی تھا تو اسکی رضا مانگ لیتا . توکل کی بھیک مل جاتی تو انسان ہونے کا بھرم رہ جاتا . مگر کبھی نہ خیال آیا , نہ کسی نے باور کرایا کہ جب مانگو تو توکل کی بھیک مانگو . جب سیکھو تو اللہ کے ہر فیصلے پر راضی ہونا سیکھو . توکل وہ نعمت جس سے دل بھی مطمئن اور منزل بھی آسان .
ازاد ھاشمی

بچی ہوئی ہڈیاں

" بچی ہوئی ہڈیاں "
ہم لوگ عجیب مزاج کے عادی ہو گئے ہیں . سڑک پہ بھیک مانگنے والے کی ہتھیلی پہ چند سکے رکھنے سے پہلے اسکا پورا معائنہ کرتے ہیں کہ آیا وہ ہماری خیرات کا مستحق ہے یا نہیں . کبھی نہیں سوچتے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں جو ایک انسان کو ہاتھ پھیلانے کی حالت تک لے آیا . اگر معاشرے کے مخیر اور متوسط لوگ سوچیں تو انکے ارد گرد صرف چند لوگ ہونگے جن کو مانگنے کا خبط ہوگا یا ضرورت ہو گی . ایک قصبے یا ایک شہر میں ان مانگنے والوں کا تناسب  ایک فیصد سے بھی کم بنے گا . آخر ہم اسقدر بے حس کیوں ہوگئے ہیں کہ سو انسان مل کر بھی ایک انسان کی لازم ضروریات کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے . گویا گدا گری کا اصل محرک معاشرہ ہے . میں ہوں آپ ہیں . جہاں تک پیشہ ور بھکاریوں کی بات ہے , اگر ہم لوگ اپنے اپنے حلقہ میں متحرک ہو کر ضرورت مند بھکاریوں کی ضروریات پورا کرنا اپنا فرض بنا لیں . تو پیشہ ور بھکاری از خود ختم ہو جائیں گے . ثواب کمانے کی ایک نئی روایت جنم لے رہی ہے کہ آپ اپنے گھر کا بچا ہوا کھانا " کھانا بینک " میں جمع کرا دیں . جہاں سے بھوکے افراد کھانا لیکر شکم سیری کریں گے . ایک بات تو بہتر ہے کہ کھانا ضائع نہیں ہوگا اور ضرورت مند تک پہنچ جائیگا . مگر اس سے بہتر ہے کہ ہر ضرورت مند کی کفالت لیکر ہم گھر گھر میں بندوبست کر دیں . اپنے دروازے ہر بھوکے پر کھول دیں , جہاں عزت اور احترام کے ساتھ , کسی کی عزت نفس کو مجروح کئیے بغیر شکم سیری کی سہولت مل جائے . ریسٹورنٹ کے باہر بھوکے لوگوں کی قطار گننے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ بھوکے اپنے اپنے دستر خوان سجانے کے قابل ہو جائیں . ہمارے دین کی تعلیم ہے کہ جب خیرات کرو تو اپنی بہترین چیز سے خیرات کرو اور اسطرح خیرات کرو کہ داہنے ہاتھ سے دی گئی خیرات کا باہنے ہاتھ کو پتہ نہ چلے . پیشہ ور بھکاری اسوقت بنتا ہے جب اسکے عزت نفس مر جاتی ہے . اور اسکے ذمہ دار ہم ہیں . بچی ہوئی ہڈیاں بانٹنے سے ثواب تو مل جاتا ہو گا , مگر بھیک کی عادت نہیں روکی جا سکتی .
بیشتر اس سے کہ کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہو جائے اسکی حاجت پوری کرنا اصل نیکی ہے . معاشرہ پر احسان ہے اور اللہ کی رضا کا حصول ہے .
ازاد ھاشمی

اپنا وقت ضائع مت کریں

" اپنا وقت مت ضائع کریں "
سیاسی معاملات نہ کبھی سمجھ آئے ہیں , نہ کبھی سمجھ آئیں گے . سیاست کوئی علم نہیں , مکاری کی بچھائی ہوئی بساط ہے . وہی کھیلے گا , جسے مکاری کے گر آتے ہوں . بات کرنا , اسے بھول جانا اور جب ضرورت محسوس ہو اس سے پلٹ جانا جسے
" یو ٹرن "
کہتے ہیں . عام سی بات ہے . اقتدار تک رسائی کیلئے اپنے قریبی اور خون کے رشتوں پر بھی مشق ستم کر گذرنا معیوب نہیں سمجھا جاتا . سیاست دانوں کی گھٹی میں پڑا ہوتا ہے کہ
  "جنگ اور محبت میں سب جائز ہے " .
ہم ان سیاستدانوں پر تنقید کریں , دلائل دیں , ثبوت لے آئیں , کچھ فرق نہیں پڑتا . یہ صرف مفاد کی زبان جانتے ہیں , وہی زبان سمجھتے ہیں اور وہی زبان بولتے ہیں . انکی نظر میں انکے مفاد کے خلاف بولنا , ناقابل معافی گناہ ہے . کسی شریف شہری کی عزت اچھال دینا , سیاست کا کارگر حربہ ہوتا ہے . انکے عجیب عجیب بہروپ ہیں . نہ جانے آج کیا چہرہ سجائے بیٹھے ہیں اور کل کونسا سجا لیں گے . یہ گندگی کا وہ ڈھیر ہیں جن کے پاس بیٹھو گے تو چند دنوں میں وہی بدبو آپ سے بھی آنے لگے گی . ان کے مفادات کیلئے لڑنا نہ قوم کی خدمت ہے اور نہ وطن کی بھلائی کا کوئی امکان ہے . اپنا اپنا وقت مت ضائع کریں . اس سے کہیں بہتر ہے کہ انکی تعریفوں کے پل باندھنے کی بجائے خالق و مالک کی کی تسبیح و تمحید میں وقت گذارا جائے . انکو قائد ماننے سے کوئی فلاح کا راستہ نہیں کھلے گا . اس قائد کی طرف لوٹ جانا , فلاح ہے جو پوری کائنات کا قائد و رہنماء ہے . جو عالمین کیلئے رحمت ہے . اس رستے آ جاو , زندگی کی ہر مشکل آسان , ہر راستہ بھلائی کی راہ بن جائیگا . وقت مت ضائع کریں , اپنی منزل پہچاننے میں لگ جائیں .
ازاد ھاشمی