Thursday, 23 November 2017

توکل کی بھیک

" توکل کی بھیک "
ایک سجدہ کرتا ہوں اور  اللہ کے سامنے حاجات کا رجسٹر کھول کر بیٹھ جاتا ہوں . گویا عبادت کو تجارت بنائے بیٹھا ہوں . سمجھتا ہوں کہ ایک سجدے کے بعد میرا حق ہے کہ جو مانگوں , ملنا چاہئے . جب تک کوئی مصیبت سر پر آن کھڑی نہیں ہوتی , صدقے کا خیال بھی نہیں آتا . جو مانگا اگر نہیں ملا تو تصور باندھ لیا کہ اللہ میری دعائیں نہیں سنتا . کسی کو کچھ اچھا حاصل ہو گیا اس پر حاسد ہو جاتا ہوں . تنقید کرنے کو حق سمجھنے پر بضد اور تنقید سننے سے سیخ پا ہو جاتا ہوں . حج کی تیاری کرتا ہوں , یہ سوچ کر کہ زندگی کے سارے گناہ بھی دھو لوں گا  اور حاجی کے نام سے پہچان بھی بن جائے گی . اپنا احتساب کرتا ہوں تو اپنے آپ سے گھن آنے لگتی ہے . اعمال کا پلڑا آسمان کیطرف اٹھا ہوا ہے , گناہوں کی گٹھڑی والا پلڑا بھاری ہے . بے شمار نعمتوں سے نوازنے والے رب کی یاد اسی وقت آتی ہے جب بدنی تکلیف جھنجھوڑنے لگتی ہے . قبر کا سوچ کر تھوڑی دیر سہم جاتا ہوں اور پھر دنیا کی چکاچوند میں کھو جاتا ہوں . حیوانی جبلت کو زیر کرنے کی نہ کبھی کوشش کی نہ کبھی خیال آیا , کہ میں تو اشرف المخلوقات تھا . اپنے اس اعزاز کو کیوں برقرار نہیں رکھا .
دنیا مانگی , زندگی مانگی , اولاد مانگی , عزت مانگی اور بہت کچھ مانگا . سب کچھ ملا . غفور و رحیم نے میرے ماتھے کی سیاہی کو چھپائے رکھا اور میں سمجھ بیٹھا کہ میں  مقبول ہوں . ایک دعا کی توفیق ہی نہیں ہوئی کہ اللہ سے مانگنا ہی تھا تو اسکی رضا مانگ لیتا . توکل کی بھیک مل جاتی تو انسان ہونے کا بھرم رہ جاتا . مگر کبھی نہ خیال آیا , نہ کسی نے باور کرایا کہ جب مانگو تو توکل کی بھیک مانگو . جب سیکھو تو اللہ کے ہر فیصلے پر راضی ہونا سیکھو . توکل وہ نعمت جس سے دل بھی مطمئن اور منزل بھی آسان .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment