Thursday, 23 November 2017

اسمبلیوں کے ممبران کی مراعات

" اسمبلیوں کے ممبران کی مراعات "
وہ سب شاطر جو قوم کو طرح طرح کے خواب دکھا کر بیوقوف بنا رہے ہیں . کچھ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم لیکر آئے ہیں . ایک نیا پاکستان دیں گے . کچھ کہتے ہیں روٹی کپڑے اور مکان کی ضمانت ہم دیتے ہیں . کچھ کا اعلان تھا کہ قرضے کی بھیک کا کاسہ توڑ دیں گے . کچھ کہتے ہیں کہ وطن میں خلافت راشدہ کا دور لے کے آئیں گے . سب کے پاس اپنی اپنی بنسری اور اپنا اپنا راگ ہے . کرتوت یہ ہے کہ سب کے سب عوام کی رگوں سے خون نچوڑ نچوڑ کر پی رہے ہیں . عوام بھوکی رہے , ننگی رہے , قلاش رہے , انہیں کوئی سروکار نہیں . عوام ٹیکس دے گی اور یہ اپنی عیاشیاں مراعات کے نام پر جاری رکھیں گے . یاد رہے پاکستان میں سانس لینے والا ہر انسان ٹیکس ادا کر رہا ہے . جینے کا ٹیکس , پانی کا ٹیکس , سانس لینے کا ٹیکس . اور یہ ٹیکس سیاستدان , اسمبلیوں میں بیٹھے ممبران مراعات کے نام پہ ہڑپ کر جاتے ہیں . ایک محترم فرماتے ہیں کہ انکے امراء اسمبلی سے ملنے والی تنخواہ جماعت میں جمع کرا دیتے ہیں . کیا عوام کا فرض ہے کہ جماعت کیلئے وسائل ٹیکس سے ادا کرے . غریب سے لیا گیا تمام پیسہ , خواہ کسی بھی شکل میں وصول کر کے اپنی آسائش کا سامان کیا جائے , حرام ہے . صرف وہ مراعات جائز ہیں , جن کے برابر خدمات دی گئی ہوں . باقی سب حرام ہے . جبر ہے اور جبر سے لیا گیا ایک ایک پیسہ ذاتی استعمال پر قطعی جائز نہیں . یہی سبق ہے میرے اور آپکے دین کا .
جن کو عوام کی خدمت کا جنون ہوتا ہے . انہیں مراعات سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی . وہ اپنے وسائل بھی اسی خدمت پہ لگا دیتے ہیں . اسکی کئی ایک مثالیں موجود ہیں . انکے بنک بیلنس اور اثاثے نہیں ہوتے .
اے کاش ! قوم سمجھ جائے , کہ یہ سب مداری ہیں , بہروپئے ہیں , خون چوسنے والی جونکیں ہیں .
ازاد ھاشمی 

No comments:

Post a Comment