Thursday, 23 November 2017

بچی ہوئی ہڈیاں

" بچی ہوئی ہڈیاں "
ہم لوگ عجیب مزاج کے عادی ہو گئے ہیں . سڑک پہ بھیک مانگنے والے کی ہتھیلی پہ چند سکے رکھنے سے پہلے اسکا پورا معائنہ کرتے ہیں کہ آیا وہ ہماری خیرات کا مستحق ہے یا نہیں . کبھی نہیں سوچتے کہ آخر وہ کیا اسباب ہیں جو ایک انسان کو ہاتھ پھیلانے کی حالت تک لے آیا . اگر معاشرے کے مخیر اور متوسط لوگ سوچیں تو انکے ارد گرد صرف چند لوگ ہونگے جن کو مانگنے کا خبط ہوگا یا ضرورت ہو گی . ایک قصبے یا ایک شہر میں ان مانگنے والوں کا تناسب  ایک فیصد سے بھی کم بنے گا . آخر ہم اسقدر بے حس کیوں ہوگئے ہیں کہ سو انسان مل کر بھی ایک انسان کی لازم ضروریات کا بوجھ بھی نہیں اٹھا سکتے . گویا گدا گری کا اصل محرک معاشرہ ہے . میں ہوں آپ ہیں . جہاں تک پیشہ ور بھکاریوں کی بات ہے , اگر ہم لوگ اپنے اپنے حلقہ میں متحرک ہو کر ضرورت مند بھکاریوں کی ضروریات پورا کرنا اپنا فرض بنا لیں . تو پیشہ ور بھکاری از خود ختم ہو جائیں گے . ثواب کمانے کی ایک نئی روایت جنم لے رہی ہے کہ آپ اپنے گھر کا بچا ہوا کھانا " کھانا بینک " میں جمع کرا دیں . جہاں سے بھوکے افراد کھانا لیکر شکم سیری کریں گے . ایک بات تو بہتر ہے کہ کھانا ضائع نہیں ہوگا اور ضرورت مند تک پہنچ جائیگا . مگر اس سے بہتر ہے کہ ہر ضرورت مند کی کفالت لیکر ہم گھر گھر میں بندوبست کر دیں . اپنے دروازے ہر بھوکے پر کھول دیں , جہاں عزت اور احترام کے ساتھ , کسی کی عزت نفس کو مجروح کئیے بغیر شکم سیری کی سہولت مل جائے . ریسٹورنٹ کے باہر بھوکے لوگوں کی قطار گننے سے کہیں بہتر ہے کہ یہ بھوکے اپنے اپنے دستر خوان سجانے کے قابل ہو جائیں . ہمارے دین کی تعلیم ہے کہ جب خیرات کرو تو اپنی بہترین چیز سے خیرات کرو اور اسطرح خیرات کرو کہ داہنے ہاتھ سے دی گئی خیرات کا باہنے ہاتھ کو پتہ نہ چلے . پیشہ ور بھکاری اسوقت بنتا ہے جب اسکے عزت نفس مر جاتی ہے . اور اسکے ذمہ دار ہم ہیں . بچی ہوئی ہڈیاں بانٹنے سے ثواب تو مل جاتا ہو گا , مگر بھیک کی عادت نہیں روکی جا سکتی .
بیشتر اس سے کہ کوئی ضرورت مند ہاتھ پھیلانے ہر مجبور ہو جائے اسکی حاجت پوری کرنا اصل نیکی ہے . معاشرہ پر احسان ہے اور اللہ کی رضا کا حصول ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment