Thursday, 23 November 2017

ماں جی سے باتیں

" ماں جی سے باتیں "
ماں جی کو اللہ پاک جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے . آمین .
" ایک سال ہونے کو ہے آپ کو رخصت ہوئے . اس ایک سال کا ایک ایک دن , آپکی باتیں کرتا ہوں . کوئی نہ کوئی موضوع ڈھونڈھتا ہوں , جس میں آپ کا ذکر آ جائے . ایک بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ کو اتنی جلدی کیا تھی اس جہان سے رخصت ہونے کی . آپ کے دم سے میرے آنگن میں رونق تھی . میرا دل زندہ تھا . اللہ کی رحمتیں برستی تھیں . ایک سال ہونے کو ہے , وہ سب مجھے بھول گئے , جن کیلئے میری جان بھی حاضر تھی . آپ مجھے ہی کہا کرتی تھیں  کہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی لا پرواہی پر غصہ مت کیا کرو . انہیں کبھی نہیں کہتی تھیں کہ بڑے بھائی کا حال پوچھ لیا کرنا . آج ایک سال میں کئی بار موت  کو آنکھوں کے سامنے دیکھ چکا ہوں . نہ اعصاب باقی ہیں نہ ہمت ساتھ ہے . ماضی کیطرح بہادری بھی نہیں رہی . آپ کی وجہ سے سب کچھ برقرار تھا . اب کچھ باقی نہیں . لفظوں سے کھیلتا رہتا ہوں . بہلنے کا ایک ہی راستہ باقی رہ گیا ہے . پہلے آپ کے فون اور ڈانٹ ڈپٹ کا انتظار کرتا تھا . جی اداس ہوتا تھا , فون کر لیا کرتا تھا . دل بہل جاتا تھا  . اب نہ کسی فون کا انتظار ہوتا ہے نہ امید . بیماری زور پکڑتی ہے تو بستر پہ لیٹ جاتا ہوں . طبیعت بہتر ہوتی ہے تو مزدوری کرنے میں جت جاتا ہوں . اب تھکن بھی ہونے لگی ہے . دل بھی اداس رہتا ہے . آپ کو خواب میں دیکھا تو درخواست کی تھی کہ مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے . آپ ناراض ہوگئیں کہ یہاں اپنے فرائض پر نظر کرو . اور چلی گئیں . ماں جی ! بہت دن ہوگئے ہیں جی بھر کے رویا بھی نہیں . وہ کندھا ہی نہیں جس پر سر رکھ کے رو لیتا . مجھے تو ایسے لگتا ہے کہ تنہائی صرف میرے لئے تھی .
کبھی کبھی باجی خاور کی ہلکی پھلکی ڈانٹ سننے کو مل جاتی ہے . آپکا عکس دکھائی دے جاتا ہے . کئی روز تک دل بہل جاتا ہے . آپ کے کہنے پر کسی سے بھی نہ شکوہ کرتا ہوں نہ گلہ . سب کے سب اجنبی سے لگنے لگے ہیں . کسی کو مجھ سے کام باقی نہیں رہا . کسی کو میری ضرورت نہیں شاید . آپ کو اداس نہیں کرنا چاہتا . اور کچھ نہیں بولوں گا "
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment