Thursday, 23 November 2017

شہید کی بیوہ

" شہید کی بیوہ "
آج ایک تصویر نے سوچ اور غم کے سارے اوراق پلٹ ڈالے . یہ اکہتر کی ایک صبح کا دکھ تھا , جو اس تصویر میں نظر آیا . جنگ کا تیسرا روز تھا اور ہم پڈھانہ پر رات کو ہی مورچہ بند ہوئے تھے . سورج طلوع ہونے سے پہلے ایک گولہ مورچے کے اندر پھٹا  . جس میں ہمارا ایک ساتھی غضنفر شہید ہو گیا  . طلوع کے فوری بعد ڈاک ملی تو اس میں شہید غضنفر کی ماں کا خط تھا . لکھا تھا .
" بیٹا ! تم جانتے ہو , تم میرے اکیلے بیٹے ہو , ضد کر کے فوج میں گئے تھے مگر وعدہ کیا تھا کہ روز خط لکھا کروں گا . مجھے تو پتہ نہیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے . کئی دنوں سے خط کا انتظار کرتی رہی ہوں . یہ اس خط میں کچھ امام ضامن بھیج رہی ہوں . ایک اپنے بازو پہ باندھ لینا , باقی سب دوستوں کو دے دینا . اللہ حفاظت کرے گا . ہاں وہ تیری منگیتر بھی پوچھنے آتی ہے کہ خط آیا کہ نہیں "
وہ صبح , ہم سب کی آنکھیں بھیگ گئی تھیں . شہید کی ماں کہلانے سے ماں کی ممتا نہیں بہلتی . شہید  کی بیوہ کہلانے  سے بھی ارمانوں بھری آنکھیں خشک نہیں ہو جاتیں . اکہتر کو گزرے آج کئی سال ہوگئے مگر غضنفر کے امام ضامن آج بھی یاد ہیں . اسکی ماں کیسے بھولی ہو گی بیٹے کو . آج ایسے ہی ایک دکھ بھری اور پتھرائی ہوئی نگاہیں , تابوت کے شیشے سے اپنے شہید شوہر کو دیکھتے خشک تھیں . طوفان تھما ہوا تھا . تنہائی میں کتنا روئی ہو گی . کیا کیا وعدے تابوت کے مکین کو یاد کرائے ہونگے . بیٹی کو دیکھ دیکھ کر سینے بوجھ بڑھتا جا رہا ہو گا . اب زندگی بھر کسی فوجی کو دیکھے گی تو تابوت میں لیٹا ہوا شوہر یاد آئے گا . اکیلے ہی زندگی بھر اس کی یاد سے باتیں کیا کرے گی . مگر کبھی جواب نہیں ملے گا . چوڑیوں کی کھنکھناہٹ سے ڈرا کرے گی . مہندی کا رنگ بھول جائے گی . لوگ شہید کے نام سے منسوب کیا کریں گے تو تھوڑی دیر فخر کا بہلاوا غم کی شدت کم کر دیا کرے گا . اب نہ کوئی فرمائش ہو گی نہ کوئی ضد . یونہی ساری عمر بتا دے گی . بیٹی کے ہاتھوں پہ مہندی لگانے کے خوابوں پر جوانی سے گذر کر بڑھاپے میں چلی جائے گی .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment