" ڈکٹیٹر کون "
ڈکٹیٹر , وہ عام اصطلاح ہے جو خصوصی طور پر فوجی جرنیلوں کیلئے استعمال کی جاتی ہے . پہلے یہ سمجھنا لازم ہے کہ ڈکٹیٹر سے کیا مراد لی جاتی ہے . عام فہم لفظوں میں , جو شخص اپنی بات زور زبردستی منوائے . کسی دوسرے کی نہ سنے اور بے لگام ہو کر فیصلے کرتا رہے . قانون اور اصولوں کو خاطر میں نہ لائے , ڈکٹیٹر کہلاتا ہے .
جو لوگ فوج کے نظم و ضبط کے طریقوں سے اگاہ ہیں . وہ جانتے ہیں کہ فوج کا کوئی افسر طے شدہ ضوابط کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتا . آرمی چیف کو بھی اپنا فیصلہ سنانے سے پہلے ایک ضابطے سے گذرنا ہوتا ہے . کوئی فوجی , وہ اعلی افسر ہو یا ایک سپاہی اپنی اپنی حدود و قیود کا پابند رہتا ہے .
مارشل لاء کیوں لگے , سیاسی وزراء اعظم بار بار کیوں معطل ہوئے . یہ ایک الگ بحث ہے . مگر جو بھی فوجی حکمران آیا , وہ فوجی قواعد و ضوابط سے کبھی منحرف نہیں ہوا . رہ گیا ریاست کا دستور یا قانون تو وہ کبھی بھی فعال نہیں تھا . اس قانون اور دستور سے کبھی نہ انصاف ملا نہ عدل .
اگر ہم سیاسی سربراہان کی عملی زندگی دیکھیں تو وہ ہمیشہ ڈکٹیٹر بن کے رہے . بھٹو کسی کی نہیں سنتا تھا , تمام وزیر اور ممبران اسمبلی بھٹو کے سامنے دم نہیں مار سکتے تھے . اس حقیقت سے کون انکار کر سکتا ہے کہ بھٹو اپنے فیصلوں میں ہمیشہ آزاد رہا . بے نظیر کی کیفیت بھی چنداں مختلف نہیں تھی . زرداری کے بارے میں بھی یہی تاثر قائم ہے . اگر نواز شریف کو دیکھا جائے تو وہ پاکستان کو مغلیہ ریاست کیطرح استعمال کرتا رہا . جو من میں آیا کیا . جب قانون کو بڑے جتن سے متحرک کیا گیا تو اس نے قانون ماننے سے انکار کر دیا . پوری قوم کے فیصلے کرنے والے جج کرپٹ قرار دے دئے . اسٹیبلشمنٹ کا رونا رونے لگا . کیا اس خود سری کو کیا نام دیا جائے گا .
جو بھی سربراہ مملکت صرف اطاعت کو پسند کرے اور تنقید کرنے والے کو عبرت ناک بنا دے . اس سے بڑا ڈکٹیٹر کون ہو گا . سندھ , بلوچستان , پنجاب , پختونخواہ میں مقتدر سیاسی پارٹیاں کیا کرتی ہیں . اس سے کون اگاہ نہیں . کیا یہ خود سری فوجی حکمرانوں کے ادوار میں بھی قائم رہی .
فوجی حکمران بھی فرشتے نہیں تھے . ان میں بھی برائیاں تھیں . مگر انکے فیصلوں میں ایک وقار رہتا ہے .
طاقت کا بے جا استعمال فرعونیت کی علامت ہے . اگر یہ استعمال کمرزوروں پر ہو . اگر یہ استعمال مجرموں پر ہو تو عدل ہے . مارشل لاء میں اکثر گرفت عادی مجرموں پر رکھی گئی ہے .
ازاد ھاشمی
Thursday, 23 November 2017
ڈکٹیٹر کون
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment