Thursday, 23 November 2017

پاکستان کس نے لوٹا

"پاکستان کس نے لوٹا "
ایک دوست کی تحقیق جو درج ذیل ہے . اس سے اندازہ کرنا ممکن ہے کہ قوم کو سیاستدانوں نے کیا دیا اور فوجی حکمرانوں نے کیا دیا . قوم آنکھیں کھلی رکھتی تو ان پیشہ ور سیاستدانوں کا کردار واضع ہو جاتا . ملاحظہ فرمائیے .
قیام پاکستان سے ایوب خان کے مارشل لاء تک پاکستان پر کل قرضہ ۔۔۔۔ تقریباً 350 ملین ڈالر تھا , جو پاکستان کو اپنے قیام کے ساتھ ہی قرضہ لینے کی ضرورت پڑ گئی تھی۔

ایوب خان کے دور میں
پاکستان پر کل قرضہ تقریباً  170 ملین ڈالر تھا , کیونکہ ایوب خان نے تقریباً 180 ملین ڈالر  قرضہ ادا کر دیا تھا ۔

بھٹو کے دور  میں پاکستان پر کل بیرونی قرضہ 6341 ملین ڈالر تھا .
جنرل ضیاء الحق کے دور میں
کل بیرونی قرضہ 12913 ملین ڈالر
لیکن جنرل ضیاء مسلسل گیارہ سال تک روس جیسی سپر پاور کے خلاف جنگ کرتا رہا، ایٹمی پروگرام کی تکمیل کی اور ایف 16 طیارے خریدنے کے علاوہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ چھوٹے ڈیم بنائے۔ یوں بظاہر ان قرضوں کا جواز نظر آتا ہے۔ 
بے نظیر اور نواز شریف کے دور
میں کل بیرونی قرضہ  39000 ملین ڈالر  ہو گیا .
پرویز مشرف کے دور
میں کل بیرونی قرضہ  34000 ملین ڈالر  ہو گیا . قرضوں میں ریکارڈ کمی ہوئی۔
آصف زرداری کے دور
میں کل بیرونی قرضہ 48100 ملین ڈالر ہوگیا . آصف زرداری نے صرف پانچ سال میں 14100 ملین ڈالر کا قرضہ لے کر پاکستان کی تاریخ میں ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔
نواز شریف کے موجودہ دور
کل بیرونی قرضہ  تقریبا 84000 ملین ڈالر ہو چکا ہے .نواز شریف اب تک صرف چار سال کے قلیل عرصے میں 35900 ملین ڈالر کا کمر توڑ قرضہ لے چکے ہیں جو پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں لیے گئے  کل قرضے کے برابر ہے۔ بظاہر اس سوائے 700 ملین ڈالر کی لاگت سے بننے والے میٹرو کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔

یوں آمرانہ ادوار میں کل 6772 ملین ڈالر کا قرضہ لیا گیا جبکہ 5180 ملین ڈالر کا قرضہ چکتا کیا گیا۔ یوں آمروں نے پاکستان کو کل 1592 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔
جبکہ جمہوری حکمرانوں نے پاکستان کو کل 82408 ملین ڈالر کا مقروض کیا۔
جمہوری ادوار میں لیے گئے قرضوں کا محض سود ہی آمروں کے کل لیے گئے قرضوں سے زیادہ ہے۔ ابھی چند ماہ بعد پاکستان کو صرف سود کی مد میں 11000 ملین ڈالر ادا کرنے ہیں۔
اب بھی قوم جمہوریت کی دلدادہ ہے تو ایسی قوم پر .....
ازاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment