Thursday, 23 November 2017

سموسے بیچنے والا فلاسفر

" سموسے بیچنے والا فلاسفر "
مغرب زدہ نوجوان , عمر کا لحاظ کئے بغیر , پوری رعونت کے ساتھ , بابا جی پر برس رہا تھا .
" سموسے بیچو بڈھے فلسفہ مت پڑھاو . سارا دن پیٹ بھرنے کیلئے آگ پر بیٹھے رہتے ہو . یہ خوشحالی محنت سے آتی ہے محنت سے . مسجد میں ٹکریں مارنے سے آتی تو سارے ملا کروڑ پتی ہوتے . یہ سب ڈھکوسلے ہیں . اللہ کا تعلق اسکی عبادت کے سوا کچھ نہیں . اگر پیسہ ہے تو مسجد بنا دو , سارے نمازیوں کے سجدوں کا ثواب مل جاتا ہے . ایک حج کرلو , ساری گذشتہ عمر کے گناہ دھل جاتے ہیں . یہ ایک ایک سجدے کا رواج غریبوں کی ضرورت ہے . ہماری نہیں .. "
بابا جی بت بنے اس نوجوان کی باتیں سنے جا رہے تھے . ارد گرد سے لوگ بھی ایک ایک کر کے جمع ہو چکے تھے . نوجوان لوگوں کو دیکھ کر اور زیادہ مچل رہا تھا . بیہودگی بتا رہی تھی کہ اسکی تربیت میں بہت کمی رہ گئی ہے .
" بھائی ! بابا جی کی عمر کا خیال نہیں تو کم از کم اپنے مذیبی فرائض کا تو احترام کرو "
ایک صاحب نے لقمہ دیا . نوجوان اور پنک گیا اور اول فول بکنے لگا . بابا جی کا پیمانہ صبر بھی بھر چکا تھا .
" بس نوجوان . جو تم بول سکتے تھے تم نے بول لیا . سجدہ وہی کام آتا ہے جو تم خود کرتے ہو . نماز وہی قبول ہوتی ہے جو تم اللہ کے خوف سے پڑھتے ہو . بھیک اللہ سے مانگی  جائے تو اللہ خوش ہوتا ہے . مسجد بنا کر ثواب کی امید ,تجارت ہے . حج سے گذشتہ زندگی  کے گناہ اسی کے دھلتے ہیں , جسکا حج قبول ہو جاتا ہے . حج اسی کا قبول ہوتا ہے تو صدق دل سے توبہ کیطرف لوٹتا ہے . پیسوں سے اللہ کی خوشنودی کا خواب دیکھنا چھوڑو . اللہ کو عجز پسند ہے , تکبر نہیں . تیری میری اوقات کیا ہے . کبھی سوچا . تیرے میرے سب چاہنے والے , سانس چلنے تک ساتھ ہیں . سانس رکی تو منوں مٹی اوپر ڈال دیں گے . "
بابا جی کے بدلے تیور دیکھ کر نوجوان ٹھٹک گیا .
" تیرا باپ زندہ ہے . ماں زندہ ہے "
بابا جی نے سوال کیا . جواب نہیں میں تھا .
" تم نے اپنے ہاتھوں سے انکی نعشوں پر مٹی ڈالی ہو گی . اسکے بعد کی خبر کسے معلوم . انکے ساتھ کیا ہوا . ایسا ہی تیرے اور میرے ساتھ ہو گا . دولت کا نشہ اتار دے . یہ نشہ بد بختی ہے . مسجد میں ماری ہوئی کوئی ایک ٹکر بھی قبول ہو گئی تو مٹی کے نیچے اذیت سے بچ جاو گے . میرا آگ پہ بیٹھے رہنا , اگر دوزخ کی آگ سے بچا لے تو کوئی برا سودا نہیں . مجھے اتنا ہی ملتا رہے کہ کسی کے سامنے حاجت نہ رکھنی پڑے . میں خوش ہوں . بس اپنے رب کو خوش دیکھنا میری آرزو ہے . اللہ کے ہر مقبول بندے کی یہی آرزو ہوتی ہے "
نوجوان بولنے کیلئے الفاظ کی تلاش کرتا رہ گیا . سموسے بیچنے والا فلاسفر اپنے الفاظ سے اسے ہدایت کی راہ دکھا رہا تھا . اور سننے والے کتنے اپنی اصلاح کی راہ پا رہے تھے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment