Thursday, 23 November 2017

بیمار سیاستدان

" بیمار سیاست دان "
عجیب سی مضحکہ خیز صورت حال ہے . جتنے بھی سیاست کے کھلاڑی ہیں . سب کے سب بیمار ہیں . بیماری کی تشخیص کا وقت اور بھی شرمناک ہے کہ بیماری کا پتہ ہی اسی وقت چلتا ہے , جب کوئی گرفت آنے والی ہوتی ہے . اس سے پہلے وہ ہر میدان کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں .
بیماری کی تشخیص اور علاج , وہ  اس آقا سے کراتے ہیں , جن سے لاکھوں قربانیوں کے بعد آزادی حاصل کی تھی . قوم کو یاد ہو گا کہ قائد اعظم محمد علی جناح ٹی بی کے مرض کی آخری سٹیج پہ تھے . جسکا  قوم کو اسوقت پتہ چلا , جب آپ کو ازل نے بلا لیا . کیوں چھپائے رکھا . کیا مصلحت تھی , یہ ایک دوسری کہانی ہے . دنیا میں ایسے بیشمار قائدین گزرے ہیں , جو قوم کی خاطر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے مشن کو تکمیل تک لے گئے .
چلیں , سیاسی لوگ تو شعبدہ بازی میں ماہر ہوا کرتے ہیں . حیرانی ہے کہ فوج کا سپہ سالار بھی بیمار نکلا . وہ بھی اسوقت جب اسے یقین ہو گیا کہ شکنجہ تیار کیا جا رہا ہے .
سوال یہ ہے کہ ان تمام مریضوں کو , اگر کوئی یقین دلا دے کہ وہ اپنا کھیل کھل کر کھیلیں ,کوئی گرفت نہیں ہو گی تو  کل ہی سب کے سب ہٹے کٹے دکھائی دیں گے .
دل کی بیماری تو دو چار ماہ میں نہیں ہوتی . اسے ایک عرصہ لگتا ہے . وہ غرباء جن کے پاس وسائل نہیں ہوتے کہ چیک اپ کرا سکیں , ان کی بات مانی جا سکتی  ہے کہ انہیں خبر ہونے تک بہت دیر ہو جاتی ہے . علاج کے وسائل
نہ ہونے کے باعث لہسن اور ادرک کھانے لگتے ہیں , جب تمام شریانیں بند ہونے کے قریب ہوتی ہیں . مگر ان سیاستدانوں کو تو نزلہ زکام پر بھی ڈاکٹروں کے پینل چیک کرنے بھاگے آ جاتے ہیں . پھر ان سب کو بیماری سے بے خبری ناقابل فہم ہے . یہ تماشہ بذات خود صداقت پر سوال ہے . ایسے بیمار خصلت لوگوں کی تقلید کرنے والوں کی حماقت بھی مصدقہ ہے .
کیا قوم اس حقیقت پر غور کرے گی . اگر نہیں تو پوری دماغی بیماریوں کا شکار ہے .
ازاد ھاشمی

No comments:

Post a Comment