Wednesday, 17 April 2019

اللہ ، سائینس اور آسانیاں

" اللہ ،  سائنس اور آسانیاں "
سوشل میڈیا پہ ایک سوال اٹھایا گیا ہے

"ان کٹے پروں والے مذہبی خچروں سے یہ تو پوچھو ! کہ ان کی چوبیس گھنٹے کی زندگی میں وؤ کون سی ایک ایسی آسانی یا راحت ہے ! جو سائنس کی بجاۓ ان کا الله انھیں مہیا کرتا ہے ؟ کوئی ایک آسانی یا راحت جسے مسلمان ثابت بھی کر سکیں ؟ صرف ایک ! "

یہ لب و لہجہ کسی کافر ، ملحد یا مشرک کا نہیں ، بلکہ جس نے سوال کیا ہے ، اسکا نام ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی مسلم گھرانے سے تعلق رکھنے والا ناہنجار ہے ۔ وہ کون ہے ؟ یہ سوال کیوں اٹھایا گیا ؟ اور اس پر جن دوسرے لوگوں نے اسے شاباشی دی ہے ، وہ کون ہیں ؟  سمجھنا بہت آسان ہے کہ بد بخت لقمہ حرام اور نطفہ حرام کی تخلیق ہے ۔
موصوف کا علم بہت سطحی اور منفی ہے ۔اسے یہ سوال عیسائیوں اور یہودیوں سے پوچھنا چاہئیے تھا کیونکہ موجودہ  سائنسی ایجادات انکی تحقیق کی مرہون ہیں ۔ ان سے پوچھو کہ انہیں اس تحقیق کا ادراک کہاں سے ہوا ؟ کیا انہوں نے تمام ایجادات " فطرت " کی مدد سے کیں یا فطرت کی مدد کے بغیر؟ ان سے پوچھو کہ سورج کی روشنی ، ہواوں کے تسلسل کے بغیر کونسی مواصلاتی ترقی ممکن تھی ؟ ان سے پوچھو کہ قطب شمالی اور جنوبی کا تعین کیسے ہوا کہ اسکے بغیر کوئی مقناطیسی ایجاد ممکن ہی نہیں ۔ ان سے پوچھو کہ طب میں تمام ایجادات اور ادویات کے عناصر ترکیب کہاں سے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے پوچھو کہ جہاز کی اڑان میں پرندوں کی تکنیک استعمال ہوئی کہ نہیں ۔ ان سے پوچھو کہ جو بھی مشین بنتی ہے اسکے اجزاء قدرت کی تخلیق ہے کہ نہیں ؟
کیا سوال پوچھنے والا بتا سکتا ہے کہ  گندے خون کے ایک نجس قطرے سے انسان کیسے بنا ؟ سائنس سے یا اللہ کی رضا سے ؟ کیا بتا سکتا ہے کہ  سوچنا اور سوال کرنا کس  سائنس نے سکھایا ؟ کیا بتا سکتا ہے جسمانی ترکیب میں کونسی سائنس استعمال ہوئی اور کس نے کی ؟ کیا تیری تخلیق " اللہ"  نے کی یا کسی سائنس دان نے ؟ تیرا خون ،
دل ، دماغ اور اعضاء ماں کے پیٹ میں کس نے تخلیق کئے ؟
سائنس بتاتی ہے کہ پانی کی ترکیب آکسیجن اور ہائیڈروجن ہے ۔ اس ترکیب پر پانی بنانے والے کتنے کارخانے ہیں ، جن کا پانی پیتے ہو ؟ کیا یہ اللہ کی تخلیق نہیں جو تمہاری زندگی کا اہم جزو ہے ۔ آکسیجن کے بغیر  کتنی دیر زندہ رہ سکتے ہو ؟ اور یہ آکسیجن کس سائنسدان کی ایجاد ہے ؟ کیا یہ اللہ نے عطا نہیں کر رکھی ۔ ناہنجار نے سوال کرنے سے پہلے اتنا نہیں سوچا کہ انسان  ایک ایک سانس میں اللہ کی تخلیق سے استفادہ کرتا ہے ۔
یہ جتنے پھل کھائے جاتے ہیں اور یہ تمام اناج جس پر زندگی قائم ہے ، زمین سے اگائی جاتی ہیں یا کارخانوں میں مشینیں پیدا کرتی ہیں ؟ کیا سائنس کوئی ایک پھل بنانے میں کامیاب ہوئی ؟ سائنس میں جو بھی بنایا گیا ، تجارت کیلئے بنایا گیا ، سائنس میں تعمیر سے زیادہ تخریب پر توجہ دی گئی ۔ مگر اللہ نے انسان کی بہتری کیلئے ہر چیز کو پیدا فرمایا ۔
سائنس ، انسان کی بتدریج نظریاتی کشمکش ہے ، جو ایجادات کی صورت میں سامنے آئی اور ہر ایجاد کی رہنمائی فطرت سے لی گئی ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اپریل ٢٠١٩

Tuesday, 16 April 2019

واجب القتل

" واجب القتل "
ہمارے وطن میں بالعموم رحجان ہے کہ عام علمی سطح کا کوئی بھی شخص ، جو باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگے ، کچھ مولوی حضرات کی محفل میں بیٹھنے لگے ، اسکے مزاج میں تحمل اور بردباری کی بجائے متشدد رحجان جنم لینے لگتا ہے ۔ اسکے مزاج یا مسلک کے خلاف کوئی بھی حرکت ، انتہائی سزا کے لائق ہو جاتی ہے اور انتہائی سزا قتل ہے ۔  یعنی عام علمی سطح کا انسان ایسے قتل کو اپنا فرض سمجھنے لگتا ہے ۔  اسلام کی تعلیم تحمل اور برداشت کی تعلیم ہے ۔ ایسے کسی ایک قتل کے پیچھے اگر مذہبی تعصب ہے , تو یہ قتل انسانیت کا قتل ہے . جسے اسلام کی تعلیمات کے سراسر منافی مانا جاتا ہے . اور احکامات ربی میں ناجائز اور قابل تعزیر جرم ہے . ایسے قتل کی سزا , قانون ربی میں جہنم کا بد ترین درجہ ہے .
ایمان کا تقاضا ہے کہ  ہم اپنے عقائد کسی دوسرے پر لاگو کرنے کی کوشش نہ کریں . اور اس حد تک نہ چلے جائیں کہ کسی دوسرے کی جان لے لیں . یہ نہ تو دین کی خدمت ہے اور نہ ایمان کا حصہ .
یہاں اس اصول کو بھی ذہن میں رکھنا لازم ہے , کہ کسی بھی  دوسرے دین کے ماننے والے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ شعار اسلامی کا , قران پاک کا یا نبی پاک کی توہین کا مرتکب ہو . کسی مسلمان کے مذہبی جذبات کو بر انگیختہ کرنا بھی جرم ہے اور ناقابل معافی جرم ہے . ایسا فعل فساد ہے اور فساد کی راہ روکنا , جہاد ہے . جہاد کی حدود کا تعین واضع ہے . اپنے دین کی حفاظت نہ صرف ضروری ہے بلکہ فرض ہے . اب جو سلسلہ لبرل نے شروع کر رکھا ہے , اسے تحریر و تقریر کی آزادی کہنا سراسر غلط ہے , یہ مذہبی تعصب ہے . یہ فساد کی راہ ہے اور اسے روکنا , لازم ہے . کوئی بھی مذہب , عقیدہ یا مسلک اسکی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی بھی شخص  دوسرے کے مذہب یا عقیدہ کی  تضحیک کرے .
ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو تحریم و تکریم ہم سب کے دلوں میں اپنے عقائد کی  ہوتی ہے , دوسرے عقیدے کے لوگ بھی ایسی کی تعظیم اپنے اپنے عقیدے کی کرتے ہیں ۔ وہ نہ تو کسی بحث سے ختم ہو سکتی ہے , نہ کسی دباو سے . اللہ نے اسکا جو حل دیا وہ
"تمہارے لئے تمہاری راہ , میرے لئے میری راہ" ہے تو پھر یہ فساد کی باتیں کیوں کی جائیں . ایک لبرل اپنے آپ کو اتنا آزاد نہیں کر سکتا کہ وہ اللہ , اللہ کے رسول , قران اور اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے لگے . حکم ربی ہے کہ برائی کو ہاتھ سے روکو , یہ ایمان کا اعلی درجہ ہے , اگر ہاتھ سے نہیں روک سکتے تو زبان سے روکو , یہ ایمان کا کمزور پہلو ہے  , اگر زبان سے روکنے کی جرات نہیں , تو دل سے برا خیال کرو .
ایک شخص , جو مسلمانوں میں مذہبی اشتعال پھیلاتا ہے , اسے طاقت سے روکنا , ایمان کا اعلی درجہ ہے . بشرطیکہ وہ بار بار تنبیہہ سے باز نہ آئے ۔ 
ازاد ہاشمی