" اللہ ، سائنس اور آسانیاں "
سوشل میڈیا پہ ایک سوال اٹھایا گیا ہے
"ان کٹے پروں والے مذہبی خچروں سے یہ تو پوچھو ! کہ ان کی چوبیس گھنٹے کی زندگی میں وؤ کون سی ایک ایسی آسانی یا راحت ہے ! جو سائنس کی بجاۓ ان کا الله انھیں مہیا کرتا ہے ؟ کوئی ایک آسانی یا راحت جسے مسلمان ثابت بھی کر سکیں ؟ صرف ایک ! "
یہ لب و لہجہ کسی کافر ، ملحد یا مشرک کا نہیں ، بلکہ جس نے سوال کیا ہے ، اسکا نام ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی مسلم گھرانے سے تعلق رکھنے والا ناہنجار ہے ۔ وہ کون ہے ؟ یہ سوال کیوں اٹھایا گیا ؟ اور اس پر جن دوسرے لوگوں نے اسے شاباشی دی ہے ، وہ کون ہیں ؟ سمجھنا بہت آسان ہے کہ بد بخت لقمہ حرام اور نطفہ حرام کی تخلیق ہے ۔
موصوف کا علم بہت سطحی اور منفی ہے ۔اسے یہ سوال عیسائیوں اور یہودیوں سے پوچھنا چاہئیے تھا کیونکہ موجودہ سائنسی ایجادات انکی تحقیق کی مرہون ہیں ۔ ان سے پوچھو کہ انہیں اس تحقیق کا ادراک کہاں سے ہوا ؟ کیا انہوں نے تمام ایجادات " فطرت " کی مدد سے کیں یا فطرت کی مدد کے بغیر؟ ان سے پوچھو کہ سورج کی روشنی ، ہواوں کے تسلسل کے بغیر کونسی مواصلاتی ترقی ممکن تھی ؟ ان سے پوچھو کہ قطب شمالی اور جنوبی کا تعین کیسے ہوا کہ اسکے بغیر کوئی مقناطیسی ایجاد ممکن ہی نہیں ۔ ان سے پوچھو کہ طب میں تمام ایجادات اور ادویات کے عناصر ترکیب کہاں سے حاصل ہوتے ہیں ۔ ان سے پوچھو کہ جہاز کی اڑان میں پرندوں کی تکنیک استعمال ہوئی کہ نہیں ۔ ان سے پوچھو کہ جو بھی مشین بنتی ہے اسکے اجزاء قدرت کی تخلیق ہے کہ نہیں ؟
کیا سوال پوچھنے والا بتا سکتا ہے کہ گندے خون کے ایک نجس قطرے سے انسان کیسے بنا ؟ سائنس سے یا اللہ کی رضا سے ؟ کیا بتا سکتا ہے کہ سوچنا اور سوال کرنا کس سائنس نے سکھایا ؟ کیا بتا سکتا ہے جسمانی ترکیب میں کونسی سائنس استعمال ہوئی اور کس نے کی ؟ کیا تیری تخلیق " اللہ" نے کی یا کسی سائنس دان نے ؟ تیرا خون ،
دل ، دماغ اور اعضاء ماں کے پیٹ میں کس نے تخلیق کئے ؟
سائنس بتاتی ہے کہ پانی کی ترکیب آکسیجن اور ہائیڈروجن ہے ۔ اس ترکیب پر پانی بنانے والے کتنے کارخانے ہیں ، جن کا پانی پیتے ہو ؟ کیا یہ اللہ کی تخلیق نہیں جو تمہاری زندگی کا اہم جزو ہے ۔ آکسیجن کے بغیر کتنی دیر زندہ رہ سکتے ہو ؟ اور یہ آکسیجن کس سائنسدان کی ایجاد ہے ؟ کیا یہ اللہ نے عطا نہیں کر رکھی ۔ ناہنجار نے سوال کرنے سے پہلے اتنا نہیں سوچا کہ انسان ایک ایک سانس میں اللہ کی تخلیق سے استفادہ کرتا ہے ۔
یہ جتنے پھل کھائے جاتے ہیں اور یہ تمام اناج جس پر زندگی قائم ہے ، زمین سے اگائی جاتی ہیں یا کارخانوں میں مشینیں پیدا کرتی ہیں ؟ کیا سائنس کوئی ایک پھل بنانے میں کامیاب ہوئی ؟ سائنس میں جو بھی بنایا گیا ، تجارت کیلئے بنایا گیا ، سائنس میں تعمیر سے زیادہ تخریب پر توجہ دی گئی ۔ مگر اللہ نے انسان کی بہتری کیلئے ہر چیز کو پیدا فرمایا ۔
سائنس ، انسان کی بتدریج نظریاتی کشمکش ہے ، جو ایجادات کی صورت میں سامنے آئی اور ہر ایجاد کی رہنمائی فطرت سے لی گئی ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٧ اپریل ٢٠١٩
No comments:
Post a Comment