Wednesday, 19 December 2018

بیوپاری

" بیوپاری "
تجارت انبیاء کا پیشہ ہے اور ایماندار تاجر کیلئے جنت کی بشارت ہے ۔ یہاں موضوع " تاجر " نہیں ، بلکہ "بیوپاری " ہے ۔ بیوپاری معتبر بھی ہو سکتا ہے اور گھٹیا بھی ۔ اسکا انحصار پیشے اور جنس کے لین دین پر ہے کہ کوئی معتبر ٹھہرتا ہے یا نیچ ۔
سیاست کا لین دین " بیوپار " ہی رہا ہے ، جسے کبھی عوام کی خدمت کہا گیا ، کبھی وطن کی اور کبھی دین کی ۔ یہ وہ بیوپاری ہیں جنہوں نے ہمیشہ گھٹیا بیوپار کیا ، کبھی لوگوں کا اعتماد خریدا اور پھر عوام کی کمر پہ ایسا خنجر گھونپا کہ لوگ دردناک موت مرتے رہے ۔ ان بیوپاریوں نے وطن کے ایک ایک فرد کو بیچ ڈالا اور معتبر ہو کر اقتدار کی کرسی جھولتے رہے ۔ انہوں نے وطن کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے اقتدار کی سیج سجائی ۔ ان بیوپاریوں میں وہ بھی شامل ہیں ، جن کے کندھوں پر چاند ستارے سجے ہوئے تھے اور جنہوں نے وطن کے تحفظ کی قسم بھی کھا رکھی تھی اور جن کی چھاتی پر تمغے سجے ہوئے تھے ۔ وہ بھی وطن کے بہادر سپوتوں کو  فرض کے نام پہ دوسرے کی آگ میں جھونکتے رہے ۔  کسی کو نہیں پتہ کہ انہوں نے کیا کمایا اور قوم نے کیا گنوایا ۔
اب  نئے سیاسی بیوپاری ، اک نئے روپ میں ، ایک نئے بیوپار کے ساتھ کہ ایمان بیچو ، اسکے بدلے خوشحالی ملے گی ۔ ایک نئے اشتہار کے ساتھ کہ ایمان کی بات چھوڑو گے تو کافر امداد دیں گے ۔ کس کے ساتھ سودا ہوا ، کیا سودا ہوا ، کس کو فائدہ ملے گا ، یہ سب ابہام ہے مگر یہ واضع ہے کہ نقصان انکو ہو گا جو کہتے ہیں کہ ملک اسلام کے نام پہ حاصل ہوا ، یہاں قرآن کا قانون لاگو کرو ۔
آزاد ھاشمی
١٦ دسمبر ٢٠١٧

ہیرے اور سونا

" ہیرے اور سونا "
اسکی بوڑھی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت دیر تک رویا ہوگا ۔ لباس سے غربت جھانک رہی تھی اور چہرے سے تھکن کے آثار نمایاں تھے ۔ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا وہ ہر کسی کو بہت غور سے دیکھتا اور لمبی آہ بھر کر مسجد کی چھت کو گھورنے لگتا ۔ ہم جس دور میں رہتے ہیں ، اس دور میں لمبے لمبے سجدے اور پرسوز دعائیں مانگنے والے احساس کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ جس کندھے کے ساتھ کندھا لگا کے رکوع سجود کرتے ہیں ، سلام پھیرنے پر اسکے چہرے کی اذیت کو نہیں پڑھتے ۔ باجماعت نماز تو فرض ہی اسلئے تھی کہ ہم ساتھ کھڑے کا دکھ اور سکھ جان لیں ، ورنہ سجدہ تو تنہائی میں بھی فضیلت رکھتا ہے  اور خضوع و خشوع بھی ۔ نماز کی دعا سے پہلے وہ بوڑھا کھڑا ہو گیا ۔
" مولوی صاحب ! میں مانگنے والا بھکاری نہیں ہوں اور بندوں سے مانگ کر اللہ کی قدرت پر شک نہیں کرنا چاہتا ۔ ریٹائرڈ استاد ہوں ۔ اللہ نے میری جھولی میں تین بیٹیوں کی رحمت ڈال رکھی ہے ۔ تینوں شادی لائق ہیں ۔ تعلیم دے سکتا تھا ، وہ دی ہے ۔ رشتے آتے ہیں " وہ رونے لگا ۔
" سب کے سب میری خستہ حالت دیکھتے ہیں ، چلے جاتے ہیں پھر لوٹ کر نہیں آتے " وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔
" مولوی صاحب ! کیا تعلیم زیور نہیں ہے ، کیا کردار سونا نہیں ہوتا ؟ کیا اخلاق ہیروں سے کم ہوتا ہے ؟ سب ہے میری بیٹیوں کے پاس ۔ میں سکول ماسٹر کہاں سے لاوں جہیز ؟ کہاں سے لاوں "
وہ روتے ہوئے بیٹھ گیا ۔
" خدا کے واسطے لوگوں کو بتایا کرو ، جس نبیؐ کا کلمہ پڑھتے ہو اس نے اپنی بیٹی کو کیا دیا تھا ۔ بتایا کرو لوگوں کو ۔ مجھے صالح رشتے چاہئیں ، کوئی مالی مدد نہیں مانگتا ہوں "
کون جانے اللہ کب سن لے ۔
" بھائی ! دل چھوٹا مت کرو ۔ جس گھر میں سوال لے کر آئے ہو ، اگر پسند کرو تو اس گھر والا چاہتا ہے کہ میں تمہاری بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بنا کر اپنے گھر لے جاوں ۔ میرے تین بیٹے ہیں اور الحمدللہ ، صاحب روزگار ہیں "
بوڑھے استاد نے ہاتھاٹھائے ۔
" اے اللہ ! مجھے معاف کر دینا ، میرا صبر ٹوٹ گیا تھا ۔ تو نے میری سن لی "
اور اٹھ اس اللہ کے بندے کے بغلگیر ہوگیا
آزاد ھاشمی
١٨ دسمبر ٢٠١٨