" ہیرے اور سونا "
اسکی بوڑھی آنکھیں سوجھی ہوئی تھیں ۔ ایسے لگ رہا تھا کہ وہ بہت دیر تک رویا ہوگا ۔ لباس سے غربت جھانک رہی تھی اور چہرے سے تھکن کے آثار نمایاں تھے ۔ مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا وہ ہر کسی کو بہت غور سے دیکھتا اور لمبی آہ بھر کر مسجد کی چھت کو گھورنے لگتا ۔ ہم جس دور میں رہتے ہیں ، اس دور میں لمبے لمبے سجدے اور پرسوز دعائیں مانگنے والے احساس کی نعمت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ جس کندھے کے ساتھ کندھا لگا کے رکوع سجود کرتے ہیں ، سلام پھیرنے پر اسکے چہرے کی اذیت کو نہیں پڑھتے ۔ باجماعت نماز تو فرض ہی اسلئے تھی کہ ہم ساتھ کھڑے کا دکھ اور سکھ جان لیں ، ورنہ سجدہ تو تنہائی میں بھی فضیلت رکھتا ہے اور خضوع و خشوع بھی ۔ نماز کی دعا سے پہلے وہ بوڑھا کھڑا ہو گیا ۔
" مولوی صاحب ! میں مانگنے والا بھکاری نہیں ہوں اور بندوں سے مانگ کر اللہ کی قدرت پر شک نہیں کرنا چاہتا ۔ ریٹائرڈ استاد ہوں ۔ اللہ نے میری جھولی میں تین بیٹیوں کی رحمت ڈال رکھی ہے ۔ تینوں شادی لائق ہیں ۔ تعلیم دے سکتا تھا ، وہ دی ہے ۔ رشتے آتے ہیں " وہ رونے لگا ۔
" سب کے سب میری خستہ حالت دیکھتے ہیں ، چلے جاتے ہیں پھر لوٹ کر نہیں آتے " وہ ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔
" مولوی صاحب ! کیا تعلیم زیور نہیں ہے ، کیا کردار سونا نہیں ہوتا ؟ کیا اخلاق ہیروں سے کم ہوتا ہے ؟ سب ہے میری بیٹیوں کے پاس ۔ میں سکول ماسٹر کہاں سے لاوں جہیز ؟ کہاں سے لاوں "
وہ روتے ہوئے بیٹھ گیا ۔
" خدا کے واسطے لوگوں کو بتایا کرو ، جس نبیؐ کا کلمہ پڑھتے ہو اس نے اپنی بیٹی کو کیا دیا تھا ۔ بتایا کرو لوگوں کو ۔ مجھے صالح رشتے چاہئیں ، کوئی مالی مدد نہیں مانگتا ہوں "
کون جانے اللہ کب سن لے ۔
" بھائی ! دل چھوٹا مت کرو ۔ جس گھر میں سوال لے کر آئے ہو ، اگر پسند کرو تو اس گھر والا چاہتا ہے کہ میں تمہاری بیٹیوں کو اپنی بیٹیاں بنا کر اپنے گھر لے جاوں ۔ میرے تین بیٹے ہیں اور الحمدللہ ، صاحب روزگار ہیں "
بوڑھے استاد نے ہاتھاٹھائے ۔
" اے اللہ ! مجھے معاف کر دینا ، میرا صبر ٹوٹ گیا تھا ۔ تو نے میری سن لی "
اور اٹھ اس اللہ کے بندے کے بغلگیر ہوگیا
آزاد ھاشمی
١٨ دسمبر ٢٠١٨
Wednesday, 19 December 2018
ہیرے اور سونا
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment