" تکبر کے مریض "
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں ، کچھ لوگ مخصوص رحجان کو اپنی شناخت بنانے پر اصرار کرتے رہتے ہیں ۔ یہ رحجان اپنی طاقت کا گھمنڈ ، دولت کا نشہ اور دوسروں پر سبقت کی کوشش ہے ۔
ہم اگر اپنے اردگرد پر غور کریں تو تکبر کے بے شمار مریض بڑے دردناک انجام سے گزرے ہیں ۔ وہ جن کا ایک حکم ایک قانون بن جاتا تھا ، اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودتے نظر آتے ہیں ۔
ہمارے قریب کی مثالوں میں بھٹو ، قذافی ، صدام ، مجیب اور ایسے بےشمار نام موجود ہیں ۔ یہ تمام وہ لوگ ، جن کو کبھی وہم بھی نہیں تھا کہ انکے عروج کا سورج کبھی غروب بھی ہو گا ۔
نمرود ، شداد ، فرعون کے ساتھ جو ہوا ، وہ بھی تکبر کی بدترین سزا تھی ۔
اللہ کی پاک ذات کو عجز و انکساری پسند ہے ، ہر وہ شخص اللہ کے انعامات سے نوازا گیا ، جس نے عجز و انکسار کو معمول بنایا ۔ جس نے ہر انسان کو عزت دی ، وہ ابدی عزت و توقیر کا حقدار ٹھہرا ۔
جس نے اللہ کے بندوں کی بھلائی سوچی ، وہ بھلائی سے نوازا گیا ، جس نے انسانوں کی رسوائی میں خوشی تلاش کی ، اسکے گلے میں ذلت کا طوق ہی رہا ۔
اللہ سے دعا مانگنا بھی عجز ہے ، اور اکڑے رہنا تکبر ۔
آزاد ہاشمی
Wednesday, 8 March 2017
تکبر کے مریض
Tuesday, 7 March 2017
بیچارہ سویٹ ہارٹ
" بیچارہ سویٹ ہارٹ "
جیسے ہی بیگم نے آواز لگائی
" سویٹ ہارٹ "
اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ گرتے گرتے بچا ۔ چہرے پہ الجھن اور غصے نے قبضہ کر لیا ۔ یوں لگا جیسے سویٹ ھارٹ کوئی گالی ہے ۔ خیر ہمیں تو اس لفظ سے شناسائی ہی نہیں ۔
وہ بڑبڑا رہا تھا ، مگر بہت دھیمی آواز میں ۔ یہ ہمارے بچپن کے دوستوں کی باقیات میں سے ہیں ۔ عورت پر برتری کے گر بتاتے رہتے ہیں ۔
اتنے میں پھر وہی مترنم آواز ، لگا بھابھی بہت سلجھی ہوئی خاتون ہیں ۔
" جی ذرا ادھر آئیے ، آپ سے کچھ بات کرنا ہے "
اب تو محترم کے پاس کوئی عذر نہیں تھا ۔ جلدی جلدی اٹھے ۔
" جی بیگم آرہا ہوں ۔ تمہارے ہاتھ کی چائے کا لطف اٹھا لوں "
سب دوست رشک سے گفتگو کی معراج سے متاثر تھے ۔ کیا احترام ہے ایک دوسرے کا ۔ مگر یہ بھرم چند لمحوں میں ہی ٹوٹ گیا ۔ وہی شوہر کی بے بسی ، وہی بیوی کا اقتدار ۔ اگلی گفتگو وہی تھی ، جو سب سویٹ ہارٹ سنتے ہیں ۔ یہ سویٹ ھارٹ دراصل عدالت کی وہ آواز ہوتی ہے ۔
" ملزم فلاں فلاں ، جرم فلاں فلاں حاضر ہو "
عدالت کا تو کوئی ضابطہ ہوتا ہے ، ملزم کو صفائی کا سچا جھوٹا موقع دیا جاتا ہے ۔ مگر سویٹ ہارٹ کی عدالت میں ، صفائی کا موقع نہیں ملتا ۔ یہ معمول ہے کہ عدالت جو چاہے سوچ لے ، وہی قانون ہے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
ٹوٹی کمر والے دہشتگرد
" ٹوٹی کمر والے دہشتگرد "
سرگوشیوں میں لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ وہی دہشتگرد ہیں ، جن کی کمر توڑدی گئی تھی ، یا کوئی دوسرے ۔ مخمصے کی بات یہ ہے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑنے کی خوشخبری ایک ذمہ دار ملکی سلامتی کے محافظ نے کہی ۔ جو واحد ہیرو افسر تھا ، جس پر ہر کوئی یقین کر بیٹھا تھا کہ اللہ نے مسیحا بھیج دیا ہے ۔ جو بھی بات کرے گا ، پتھر پہ لکیر ہو گی ۔
میڈیا کے بڑے بڑے شیر بھی لومڑیاں بن کر رات دن ، مسیحا کی تعریف میں جٹے رہتے تھے ۔
ابھی تو گلاب کے وہ پھول بھی خشک نہیں ہوئے ، جو الوداعی تقاریب پہ پہنائے گئے ۔ کہ دہشت گردوں نے کروٹ بدل لی ۔ اور سارا بھرم ختم کر دیا ۔ واضع کر دیا کہ یہ سب سیاسی بیان تھے ۔ کچھ بھی نہیں ہوا تھا ۔
ہمیں ایک بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری سلامتی کے محافظ ہوں ، ہماری پولیس کے کرتا دہرتا ، ہماری عدلیہ کے سارے ستون ، عقلمند ایجینسیوں کے سارے سربراہ , سیاسی پنڈت ، جاگیر دار اور بڑے بڑے سرمایہ دار ، سب کے سب رشتہ داریوں کی ایک ہی لڑی میں پروے ہوئے ہیں ، جہاں کسی ایک کو زد پڑتی ہے ، دوسرا اسکی مدد کو آپہنچتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو دوسرے کی گردن پھلانگ کر بڑی کرسی پر آبیٹھتے ہیں ۔ جو اپنے اقتدار پر انصاف نہیں کرتے وہ وطن سے خلوص کی جو بھی بات کریں گے ، جھوٹ ہی کہلائے گی ۔ یہ کھیل اس لئے جاری ہے کہ کوئی بھی اس پر معترض نہیں ۔ کوئی کلیہ قانون موجود نہیں ۔ عوام تو ایک ریوڑ ہے ، بھیڑوں کا ریوڑ ۔ بس ۔
بھیڑیں تو کٹتی رہتی ہیں ، کٹتی رہیں گی ۔
جن کے ہاتھ میں اقتدار کی چھری ہے ، وہی دہشت ہیں ، تمام بھیڑوں کے لئے ۔
ازاد ہاشمی
اللہ کا شکر ادا کرو
" اللہ کا شکر ادا کرو "
" بابا جی ! زندگی کی کشا کشی نے مار کے رکھ دیا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں "
میری بات سن کر بابا جی نے زور کا قہقہہ لگایا ۔
" پگلے اللہ خوش ہو گیا اور تو پریشان ہونے لگا ہے . اللہ چاہتا ہے کہ تو اسکے قریب ہو جائے ۔ تو اسے یاد کرے ۔ تو اس سے رو رو کے مانگے ، وہ تیری دعائیں سنے اور پھر تجھ پر اپنی رحمتوں کی بارشیں کردے ۔ "
میں بابا جی کا منہ تک رہا تھا
" یہ جو مالی فروانی ، اسباب اور وسائل سے مالا مال لوگ ہیں ۔ انکے مال کو مت دیکھا کر ، انکے اعمال کو دیکھا کر ۔ انکے کردار پر نظر دوڑا کر دیکھ ۔ اگر اللہ سے دور ہیں ، تو یہ مال و دولت اللہ کا غضب ہے ۔ ایک دن انکے گلے کا طوق بن جائے گا ۔
جا اللہ سے جا کر اسکی رضا پر راضی ہونے کا اقرار کر ۔ جا اسکا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے پریشانی دے کر اپنے پاس بلایا ۔ "
" اللہ نے جس سے محبت کی ، اسے آزمایا اور پھر دنیا کو اسکے قدموں میں ڈال دیا ۔ اطمینان کی وہ دولت عطا کر دی ، جسکا وہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ گمراہوں سےکوئی دلچسپی نہیں اللہ پاک کو ، اسی لئے انکی لگامیں ڈھیلی کر دیتا ہے ۔ "
" جا شکر کر اللہ کا . جا کے شمار کر ان نعمتوں کو جن سے تجھے نواز رکھا ہے ، یقین کر ان انعامات کا جن کی عطآ کرنے والا ہے ۔ "
بابا جی بات سمجھ بھی آرہی تھی اور دل کا بوجھ بھی کم ہو رہا تھا ۔
ازاد ہاشمی
Monday, 6 March 2017
روتا کیوں ہے
" کیوں روتا ہے "
آج ماں خواب میں آکے پوچھتی ہے ۔
" کیوں روتا ہے میرے لئے ۔ میں لمبی نیند سونا چاہتی تھی ۔ اسلئے یہاں آگئی ہوں ۔ دیکھ میری صحت بھی ٹھیک ہو گئی ہے ۔ اب میں بیمار بھی نہیں ہوتی ۔ بھوک بھی نہیں لگتی ، پیاس بھی نہیں ۔ تو روئے گا تو میرا دل تڑپے گا ، کل بھی تیری ماں تھی آج بھی ماں ہوں ۔ اپنا خیال رکھ ۔ دیکھ کمزور ہوتا جا رہا ہے "
" امی جان ! میرا بڑا گھر چھوٹا سا مکان بن کر رہ گیا ہے ۔ آپ کے نام سے سب اسے بڑا گھر کہتے تھے ۔ آپ کی دعائیں میرے بد خواہوں کے سامنے ڈھال تھیں ۔ اب بھی انتظار کرتا ہوں کوئی فون کر کے پوچھے گا ، اپنی ایک تصویر بھیج ، دیکھنے کو دل چاہتا ہے ۔ اب کوئی نہیں پوچھتا ، کوئی نہیں کہتا ، یہ کیا حال بنا لیا ہے ۔ رو لیتا ہوں بہل جاتا ہوں ۔ کچھ روز سکون سا مل جاتا ہے ۔ پھر انتظار کرنے لگتا ہوں ، آپ کے فون کا ، پیاری سی ڈانٹ سننے کو پھر من چاہنے لگتا ہے . "
" تجھے ساری عمر عقل نہیں آئے گی ، تو روئے گا تو میرا دل پریشان رہے گا ۔ مائیں مر کے بھی زندہ ہی رہتی ہیں ، ہر وقت اولاد کو دیکھتی ہیں ۔ کبھی غافل نہیں ہوتیں ۔ دیکھ اپنے چھوٹوں سے غافل نہیں ہونا ۔ انہیں تیری بہت ضرورت ہے ۔ میں آتی رہوں گی "
آزاد ہاشمی
الحدوللہ
" الحمدوللہ "
" بیٹا ! خوشی کا اصل مرکز دل اور ضمیر کا سکون ہے ۔ وہ شخص کیا خوش رہے گا ، جسکا دل دولت کی ہوس سے لتھڑا ہوا ہو ۔ جسکی زبان دوسروں کو آزار دیتی ہو ۔ جو صرف اپنی پرستش کرتا ہو ۔ جسکے خون میں حرام کمایا ہوا لقمہ شامل ہو ۔ جو اللہ سے زیادہ دنیا کو خدا مانتا ہو ۔ خوشی کی تلاش میں نکلنے سے بہتر ہے ، خوشیاں بانٹنا شروع کرو ۔ دل مطمئن ہو گیا تو خوشی مل گئی "
بابا جی ، پسینے میں بھیگے ہوئے تھے ۔
" بیٹا ! رزق حلال میں ایک عجیب سا نشہ ہوتا ہے ۔ جو انسان کو دنیا کی فکروں سے آزاد کر دیتا ہے ۔ آسانیاں تلاش کرنے سے مشکلات راستے روکتی ہیں ۔ دوسروں کی مشکلات دور کرو ، آسانیاں خود مل جاتی ہیں ۔ کوشش کرو کہ تمہارے لئے دعا کرنے والے ہاتھ زیادہ سے زیادہ ہوتے رہیں ۔ اسکے لئے خوشیاں بانٹو ۔ دوسروں کو آزار مت دو ۔ اگر دکھ دو گے تو سکھ نہیں پا سکو گے ۔ سکھ بانٹو سکھ "
بابا جی کی بات سن رہا تھا ۔ مگر آج کی دنیا میں مقام حاصل کرنے کیلئے دولت کی ریل پیل ضروری ہے ۔ اس سے انکار تو حقیقت پسندی نہیں ۔
" پتہ ہے ، دولت کیا ہے ۔ اللہ کی رضا دولت ہے ، خزانہ ہے خزانہ ۔ اللہ کی رضا تلاش کرنے میں لگ جاو ۔ دنیا غلام ہو جائے گی ۔ پر خلوص دوست ، پاکباز بیوی ، صالح اولاد ، اور تمہارے لئے دعا کرنے والے ہاتھ ، تمہارا اثاثہ ہوتے ہیں ۔ علم اور عمل دولت ہے ، جسے نہ لٹنے کا ڈر نہ کھونے کا غم ۔
دونوں کو خرچ کرو ، اضافہ ہوتا رہے گا "
" الحمدوللہ ، میں تو اسی طرح سوچتا ہوں ، سو خوش ہوں "
بابا جی کی باتیں دل کو لگتی ہیں ۔ کاش میں بھی یوں سوچنے لگوں
آزاد ہاشمی