" بیچارہ سویٹ ہارٹ "
جیسے ہی بیگم نے آواز لگائی
" سویٹ ہارٹ "
اسکے ہاتھ سے چائے کا کپ گرتے گرتے بچا ۔ چہرے پہ الجھن اور غصے نے قبضہ کر لیا ۔ یوں لگا جیسے سویٹ ھارٹ کوئی گالی ہے ۔ خیر ہمیں تو اس لفظ سے شناسائی ہی نہیں ۔
وہ بڑبڑا رہا تھا ، مگر بہت دھیمی آواز میں ۔ یہ ہمارے بچپن کے دوستوں کی باقیات میں سے ہیں ۔ عورت پر برتری کے گر بتاتے رہتے ہیں ۔
اتنے میں پھر وہی مترنم آواز ، لگا بھابھی بہت سلجھی ہوئی خاتون ہیں ۔
" جی ذرا ادھر آئیے ، آپ سے کچھ بات کرنا ہے "
اب تو محترم کے پاس کوئی عذر نہیں تھا ۔ جلدی جلدی اٹھے ۔
" جی بیگم آرہا ہوں ۔ تمہارے ہاتھ کی چائے کا لطف اٹھا لوں "
سب دوست رشک سے گفتگو کی معراج سے متاثر تھے ۔ کیا احترام ہے ایک دوسرے کا ۔ مگر یہ بھرم چند لمحوں میں ہی ٹوٹ گیا ۔ وہی شوہر کی بے بسی ، وہی بیوی کا اقتدار ۔ اگلی گفتگو وہی تھی ، جو سب سویٹ ہارٹ سنتے ہیں ۔ یہ سویٹ ھارٹ دراصل عدالت کی وہ آواز ہوتی ہے ۔
" ملزم فلاں فلاں ، جرم فلاں فلاں حاضر ہو "
عدالت کا تو کوئی ضابطہ ہوتا ہے ، ملزم کو صفائی کا سچا جھوٹا موقع دیا جاتا ہے ۔ مگر سویٹ ہارٹ کی عدالت میں ، صفائی کا موقع نہیں ملتا ۔ یہ معمول ہے کہ عدالت جو چاہے سوچ لے ، وہی قانون ہے ۔
شکریہ
ازاد ہاشمی
Tuesday, 7 March 2017
بیچارہ سویٹ ہارٹ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment