" تکبر کے مریض "
ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں ، کچھ لوگ مخصوص رحجان کو اپنی شناخت بنانے پر اصرار کرتے رہتے ہیں ۔ یہ رحجان اپنی طاقت کا گھمنڈ ، دولت کا نشہ اور دوسروں پر سبقت کی کوشش ہے ۔
ہم اگر اپنے اردگرد پر غور کریں تو تکبر کے بے شمار مریض بڑے دردناک انجام سے گزرے ہیں ۔ وہ جن کا ایک حکم ایک قانون بن جاتا تھا ، اپنے ہاتھوں سے اپنی قبر کھودتے نظر آتے ہیں ۔
ہمارے قریب کی مثالوں میں بھٹو ، قذافی ، صدام ، مجیب اور ایسے بےشمار نام موجود ہیں ۔ یہ تمام وہ لوگ ، جن کو کبھی وہم بھی نہیں تھا کہ انکے عروج کا سورج کبھی غروب بھی ہو گا ۔
نمرود ، شداد ، فرعون کے ساتھ جو ہوا ، وہ بھی تکبر کی بدترین سزا تھی ۔
اللہ کی پاک ذات کو عجز و انکساری پسند ہے ، ہر وہ شخص اللہ کے انعامات سے نوازا گیا ، جس نے عجز و انکسار کو معمول بنایا ۔ جس نے ہر انسان کو عزت دی ، وہ ابدی عزت و توقیر کا حقدار ٹھہرا ۔
جس نے اللہ کے بندوں کی بھلائی سوچی ، وہ بھلائی سے نوازا گیا ، جس نے انسانوں کی رسوائی میں خوشی تلاش کی ، اسکے گلے میں ذلت کا طوق ہی رہا ۔
اللہ سے دعا مانگنا بھی عجز ہے ، اور اکڑے رہنا تکبر ۔
آزاد ہاشمی
Wednesday, 8 March 2017
تکبر کے مریض
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment