" اللہ کا شکر ادا کرو "
" بابا جی ! زندگی کی کشا کشی نے مار کے رکھ دیا ہے ۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں "
میری بات سن کر بابا جی نے زور کا قہقہہ لگایا ۔
" پگلے اللہ خوش ہو گیا اور تو پریشان ہونے لگا ہے . اللہ چاہتا ہے کہ تو اسکے قریب ہو جائے ۔ تو اسے یاد کرے ۔ تو اس سے رو رو کے مانگے ، وہ تیری دعائیں سنے اور پھر تجھ پر اپنی رحمتوں کی بارشیں کردے ۔ "
میں بابا جی کا منہ تک رہا تھا
" یہ جو مالی فروانی ، اسباب اور وسائل سے مالا مال لوگ ہیں ۔ انکے مال کو مت دیکھا کر ، انکے اعمال کو دیکھا کر ۔ انکے کردار پر نظر دوڑا کر دیکھ ۔ اگر اللہ سے دور ہیں ، تو یہ مال و دولت اللہ کا غضب ہے ۔ ایک دن انکے گلے کا طوق بن جائے گا ۔
جا اللہ سے جا کر اسکی رضا پر راضی ہونے کا اقرار کر ۔ جا اسکا شکر ادا کر کہ اس نے تجھے پریشانی دے کر اپنے پاس بلایا ۔ "
" اللہ نے جس سے محبت کی ، اسے آزمایا اور پھر دنیا کو اسکے قدموں میں ڈال دیا ۔ اطمینان کی وہ دولت عطا کر دی ، جسکا وہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ گمراہوں سےکوئی دلچسپی نہیں اللہ پاک کو ، اسی لئے انکی لگامیں ڈھیلی کر دیتا ہے ۔ "
" جا شکر کر اللہ کا . جا کے شمار کر ان نعمتوں کو جن سے تجھے نواز رکھا ہے ، یقین کر ان انعامات کا جن کی عطآ کرنے والا ہے ۔ "
بابا جی بات سمجھ بھی آرہی تھی اور دل کا بوجھ بھی کم ہو رہا تھا ۔
ازاد ہاشمی
Tuesday, 7 March 2017
اللہ کا شکر ادا کرو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment