Monday, 6 March 2017

الحدوللہ

" الحمدوللہ "
" بیٹا ! خوشی کا اصل مرکز دل اور ضمیر کا سکون ہے ۔ وہ شخص کیا خوش رہے گا ، جسکا دل دولت کی ہوس سے لتھڑا ہوا ہو ۔ جسکی زبان دوسروں کو آزار دیتی ہو ۔ جو صرف اپنی پرستش کرتا ہو ۔ جسکے خون میں حرام کمایا ہوا لقمہ شامل ہو ۔ جو اللہ سے زیادہ دنیا کو خدا مانتا ہو ۔ خوشی کی تلاش میں نکلنے سے بہتر ہے ، خوشیاں بانٹنا شروع کرو ۔ دل مطمئن ہو گیا تو خوشی مل گئی "
بابا جی ، پسینے میں بھیگے ہوئے تھے ۔
" بیٹا ! رزق حلال میں ایک عجیب سا نشہ ہوتا ہے ۔ جو انسان کو دنیا کی فکروں سے آزاد کر دیتا ہے ۔ آسانیاں تلاش کرنے سے مشکلات راستے روکتی ہیں ۔ دوسروں کی مشکلات دور کرو ، آسانیاں خود مل جاتی ہیں ۔  کوشش کرو کہ تمہارے لئے دعا کرنے والے ہاتھ زیادہ سے زیادہ ہوتے رہیں ۔ اسکے لئے خوشیاں بانٹو ۔ دوسروں کو آزار مت دو ۔ اگر دکھ دو گے تو سکھ نہیں پا سکو گے ۔ سکھ بانٹو سکھ "
بابا جی کی بات سن رہا تھا ۔ مگر آج کی دنیا میں مقام حاصل کرنے کیلئے دولت کی ریل پیل ضروری ہے ۔ اس سے انکار تو حقیقت پسندی نہیں ۔
" پتہ ہے ، دولت کیا ہے ۔ اللہ کی رضا دولت ہے ، خزانہ ہے خزانہ ۔ اللہ کی رضا تلاش کرنے میں لگ جاو ۔ دنیا غلام ہو جائے گی ۔ پر خلوص دوست ، پاکباز بیوی ، صالح اولاد ، اور تمہارے لئے دعا کرنے والے ہاتھ ، تمہارا اثاثہ ہوتے ہیں ۔ علم اور عمل دولت ہے ، جسے نہ لٹنے کا ڈر نہ کھونے کا غم ۔
دونوں کو خرچ کرو ، اضافہ ہوتا رہے گا "
" الحمدوللہ ، میں تو اسی طرح سوچتا ہوں ، سو خوش ہوں "
بابا جی کی باتیں دل کو لگتی ہیں ۔ کاش میں بھی یوں سوچنے لگوں
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment