Monday, 6 March 2017

روتا کیوں ہے

" کیوں روتا ہے "
آج ماں خواب میں آکے پوچھتی ہے ۔
" کیوں روتا ہے میرے لئے  ۔ میں لمبی نیند سونا چاہتی تھی ۔ اسلئے یہاں آگئی ہوں ۔ دیکھ میری صحت بھی ٹھیک ہو گئی ہے ۔ اب میں بیمار بھی نہیں ہوتی ۔ بھوک بھی نہیں لگتی ، پیاس بھی نہیں ۔ تو روئے گا تو میرا دل تڑپے گا ، کل بھی تیری ماں تھی آج بھی ماں ہوں ۔ اپنا خیال رکھ ۔ دیکھ کمزور ہوتا جا رہا ہے "
" امی جان ! میرا بڑا گھر چھوٹا سا مکان بن کر رہ گیا ہے ۔ آپ کے نام سے سب اسے بڑا گھر کہتے تھے ۔ آپ کی دعائیں میرے بد خواہوں کے سامنے ڈھال تھیں ۔ اب بھی انتظار کرتا ہوں کوئی فون کر کے پوچھے گا ، اپنی ایک تصویر بھیج ، دیکھنے کو دل چاہتا ہے ۔ اب کوئی نہیں پوچھتا ، کوئی نہیں کہتا ، یہ کیا حال بنا لیا ہے ۔  رو لیتا ہوں بہل جاتا ہوں ۔ کچھ روز سکون سا مل جاتا ہے ۔ پھر انتظار کرنے لگتا ہوں ، آپ کے فون کا ، پیاری سی ڈانٹ سننے کو پھر من چاہنے لگتا ہے . "
" تجھے ساری عمر عقل نہیں آئے گی ،  تو روئے گا تو میرا دل پریشان رہے گا ۔ مائیں مر کے بھی زندہ ہی رہتی ہیں ، ہر وقت اولاد کو دیکھتی ہیں ۔ کبھی غافل نہیں ہوتیں ۔ دیکھ اپنے چھوٹوں سے غافل نہیں ہونا ۔ انہیں تیری بہت ضرورت ہے ۔ میں آتی رہوں گی "
آزاد ہاشمی

No comments:

Post a Comment