" ٹوٹی کمر والے دہشتگرد "
سرگوشیوں میں لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ وہی دہشتگرد ہیں ، جن کی کمر توڑدی گئی تھی ، یا کوئی دوسرے ۔ مخمصے کی بات یہ ہے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑنے کی خوشخبری ایک ذمہ دار ملکی سلامتی کے محافظ نے کہی ۔ جو واحد ہیرو افسر تھا ، جس پر ہر کوئی یقین کر بیٹھا تھا کہ اللہ نے مسیحا بھیج دیا ہے ۔ جو بھی بات کرے گا ، پتھر پہ لکیر ہو گی ۔
میڈیا کے بڑے بڑے شیر بھی لومڑیاں بن کر رات دن ، مسیحا کی تعریف میں جٹے رہتے تھے ۔
ابھی تو گلاب کے وہ پھول بھی خشک نہیں ہوئے ، جو الوداعی تقاریب پہ پہنائے گئے ۔ کہ دہشت گردوں نے کروٹ بدل لی ۔ اور سارا بھرم ختم کر دیا ۔ واضع کر دیا کہ یہ سب سیاسی بیان تھے ۔ کچھ بھی نہیں ہوا تھا ۔
ہمیں ایک بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری سلامتی کے محافظ ہوں ، ہماری پولیس کے کرتا دہرتا ، ہماری عدلیہ کے سارے ستون ، عقلمند ایجینسیوں کے سارے سربراہ , سیاسی پنڈت ، جاگیر دار اور بڑے بڑے سرمایہ دار ، سب کے سب رشتہ داریوں کی ایک ہی لڑی میں پروے ہوئے ہیں ، جہاں کسی ایک کو زد پڑتی ہے ، دوسرا اسکی مدد کو آپہنچتا ہے ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو دوسرے کی گردن پھلانگ کر بڑی کرسی پر آبیٹھتے ہیں ۔ جو اپنے اقتدار پر انصاف نہیں کرتے وہ وطن سے خلوص کی جو بھی بات کریں گے ، جھوٹ ہی کہلائے گی ۔ یہ کھیل اس لئے جاری ہے کہ کوئی بھی اس پر معترض نہیں ۔ کوئی کلیہ قانون موجود نہیں ۔ عوام تو ایک ریوڑ ہے ، بھیڑوں کا ریوڑ ۔ بس ۔
بھیڑیں تو کٹتی رہتی ہیں ، کٹتی رہیں گی ۔
جن کے ہاتھ میں اقتدار کی چھری ہے ، وہی دہشت ہیں ، تمام بھیڑوں کے لئے ۔
ازاد ہاشمی
Tuesday, 7 March 2017
ٹوٹی کمر والے دہشتگرد
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment