Saturday, 14 July 2018

ایمان کیسے

" ایمان کیسے "
سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
" یہ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ۔ البتہ یہ کہو کہ ہم نے تسلیم کیا ۔ اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ ہاں اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا ۔ یقینا اللہ غفور و رحیم ہے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا واضع اعلان ہے کہ ایمان لانے کا دعویٰ اس وقت تک مکمل نہیں ، جب تک اللہ اور اسکے حبیبؐ کی اطاعت کے معیار کو پورا نہ کیا جائے ۔ اعراب ، یعنی عرب کے دیہاتی ، ارکان عبادت کو پورا کرتے تھے ، اسلام لانے کی ساری شرائط پر من و عن عمل کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہارے سارے نیک اعمال کا صلہ ملے گا ، مگر یہ سب ایمان نہیں کہلاتا ۔ ایمان اسی وقت کہلائے گا ، جب تم لوگ اللہ کی اطاعت اور رسولؐ کی اطاعت کو پورا کرو گے ۔ اطاعت کسی تحقیق ، کسی تفصیل میں جائے بغیر اپنے عقل و شعور کو الگ رکھتے ہوئے ، تسلیم کرنے اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے ۔  کیوں ، کیا اور کیسے جیسا کوئی سوال اطاعت کی نفی ہے ۔ یہی وہ  کمزوری تھی جو اعراب کے مزاج کا حصہ تھی ۔ یہی وہ کمزوری ہے جو آج ہمارے مزاج میں داخل ہے ۔ اللہ نے حکم دیا کہ آپس میں تفرقہ بازی کو فروغ مت دو ، سود اللہ سے جنگ ہے ، شیطان سے دوستی نہ کرو ، اور کتنے ہی ایسے حکم ہیں ،  جن کو ہم نے سنا مگر اطاعت نہیں کی ، مصلحت اور ضرورت کے تحت اپنے راستے ترتیب دے لئے ، تو کیا ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم اہل ایمان ہوگئے ؟ ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ جولائی ٢٠١٨

مقروض بچے

" مقروض بچے "
ایک جائزہ نظر سے گذرا ہے کہ پاکستان کا ہر بچہ ایک لاکھ ستر ہزار روپے کا مقروض ہے ۔ سوال یہ ہے کہ جس قوم کا ہر بچہ مقروض ہے اس اندھی قوم کو ہر پانچ سال میں انتخابات کی آگ میں کودنے کا شوق کیوں ختم نہیں ہوتا ۔ ہر پانچ سال بعد کھربوں روپیہ اس آگ میں جھونک دیا جاتا ہے ۔ وطن کے یہ خدمتگار ، قوم اور وطن کیلئے فساد ، انارکی اور ہیہجان کی کیفیت پیدا کرنے کے علاوہ کیا کرتے ہیں ۔ قانون تو انگریز بنا کر چلا گیا ، وہی چلتا رہا ہے اور وہی چلتا رہے گا ، پھر یہ سینکڑوں جونکیں کیا کرتی ہیں ۔ جس ملک کا بچہ بچہ مقروض ہے ، اس ملک کے سربراہوں کو چھینک آجائے تو لندن سے ادھر علاج نہیں ہو پاتا ۔ جس ملک کا صدر ، جو کسی بھی اعتبار سے ملک کی کوئی خدمت نہیں کرتا ، کروڑوں کھا جاتا ہے ، اسمبلی ممبران پانچ پانچ لاکھ تنخواہ اور لاکھوں دیگر مراعات کی مد میں کھا جاتے ہیں ۔ کس اہلیت کے تحت ، کس خدمت کے بدلے ۔ مقروض قوم کے بچے ، بوڑھے حتی کہ خواتین مہینوں دھرنے دئیے بیٹھے رہتے ہیں ، ایسی قوم کا مقروض ہونا کونسا تعجب ہے ۔ جب قومیں شعور سے عاری ہو جاتی ہیں تو وہ فضولیات کا شکار ہو جاتی ہیں اور جب فضولیات کی عادت پختہ ہو جائے تو پھر افلاس گھر کر لیتی ہے ۔ اور جب قوموں کو شعور آجاتا ہے تو ایک لاکھ ستر ہزار کا قرضہ اتارنا مشکل نہیں ہوتا ۔ اگر انتخابات پر کھربوں روپے اڑانے کی بجائے یہی قوم کی ہمدردی کا راگ الاپنے والے سیاستدان ، قوم کا قرض اتارنے کیلئے دے دیں اور اپنی انتخابی مہم میڈیا پر ایک تقریر تک محدود کر دیں ، تو قوم کا کتنا بوجھ ہلکا ہو جائے گا ۔ غیر ضروری اخراجات اور مراعات کو لینے کا رحجان ختم ہو جائے تو کیا یہ قرضہ ادا کرنا مشکل ہوگا ؟
سیاستدان قوم کے شعور کو سلب کر کے اپنی کامیابی کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ کیونکہ کوئی با شعور اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنے بچوں کے حلق سے نوالہ چھین کر کسی کتے کے آگے ڈال دیا جائے ۔ انتخابات پر خرچ ہونے والا سارا پیسہ قوم کا ہے ، وطن کا ہے ، جو سیاستدان خرچ کر کے پھر قوم کے بچے بچے کا خون نچوڑ کر پورا کرتے ہیں ۔ دانشوروں کو چاہئیے کہ قوم کو شعور دیں  اور انتخابات کی عیاشی ، اسمبلی ممبران اور حکمرانوں کی عیاشی کا احتساب کریں ۔ وگرنہ قرضہ بڑھتا رہے گا ۔ یاد رہے مقروض قومیں رفتہ رفتہ اپاہج ہو جاتی ہیں پھر بیساکھیاں انکا مقدر بن کر رہ جاتی ہیں ۔
آزاد ھاشمی
١٤ جولائی  ٢٠١٨

Friday, 13 July 2018

ماسٹر حنیف

" ماسٹر حنیف "
بچپن سے لڑکپن تک ہم  دوسرے گاؤں کے ایک مڈل سکول  میں ہم جماعت تھے - پھر وقت خشک پتوں کی طرح کسی کو کہیں کسی کو کہیں اور لے گیا - بچپن اور لڑکپن کی یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں -
لمبے عرصے کے بعد , جب ہم جوانی کی دہلیز سے  باہر نکل رہے تھے , گاؤں جانے کا اتفاق ہوا - جیسے  ہی تانگے سے اترا , جو اچھا لگا وہ چند بچے میدان میں بیٹھے پڑھتے نظر اے - ایک کرسی پہ استاد , نہ کوئی چھت , نہ سایہ , نہ دیوار -
سکول کی لگن نے اپنی طرف کھینچ لیا - استاد محترم کی عظمت کو سلام کرنے کو دل چاہا - یہ عظیم شخص تو حنیف ڈوگر ہے - میری پہلی نظر نے ماضی کی یادوں کے دریچے کھول دیے -
" ایک سال ہوا ہے میں نے یہ سکول کھولا ہے - یہ میری پہلی کلاس , یہ دوسری , تیسری , چوتھی اور یہ پانچویں -"
ایک ہی جگہ پانچ قطاروں میں پانچ کلاسیں - کسی میں پانچ بچے کسی میں دس -
" جب دھوپ ہوتی ہے میرا یہ سکول اس دیوار کے سائے میں سج جاتا ہے - اور جب بارش ہوتی ہے تو افضل بیگ نے اجازت دے رکھی ہے اپنا برآمدہ استعمال کرنے کی "
میں ابھی تک مبہوت ہوۓ اسکے چہرے کی خوشی کا جائزہ لے رہا تھا
" یہ سب بچے غریبوں کے ہیں - چندہ نہیں دے سکتے , کتابیں نہیں خرید سکتے , مگر تعلیم تو انکا بھی حق ہے "
وہ بتا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا -
" یہ سب تو ٹھیک ہے. یہ بتا کہ تجھے کیا ملتا ہے "
میرا سوال سن کر وہ زور سے ہنسا -
" تم شہروں میں جا بسنے والے لوگ کیا جانو , سچی خوشی کیا ہوتی ہے - مجھے خوشی ملتی ہے خوشی "
وہ بولتا رہا اور میں سوچتا رہا - اسکا قد میری سوچ سے بلند تھا اور میں اسکے سامنے شکست خوردہ بچہ - میں سوچتا رہا , یہ ماسٹر حنیف کس دور کا انسان ہے -
آج اسی سکول کے آنگن میں اسی استاد کے شاگرد اسکی جلائی ہوئی شمع کو سنبھالے بیٹھے ہیں -
میں سلام کرتا ہوں تیری عظمت کو -
تیری جیت کو -
الله تجھے سلامت رکھے -
شکریہ
آزاد ہاشمی
13 جولائی 2018

Thursday, 12 July 2018

ڈرتا ہوں

ڈرتا ہوں
حال دل سنانے سے ڈرتا ہوں
تم ہر بات کو  تماشا بنا دیتے ہو
جو بھی ہوک اٹھتی ہے
دبا لیتا ہوں
جو بھی خلش ہوتی ہے
چھپا لیتا ہوں
تمہیں فرصت  نہ ملی
کہ سن لیتے مجھکو
اب خود سے کہتا ہوں
خود کو سنا لیتا ہوں
عادت سی ہوگئی ہے تنہائی کی
یاد بھی نہیں
کہ تم سے شناسائی تھی
سوچا نہیں تھا تمہیں
یوں بھول پاوں گا
لاکھ چھیڑو راگ پرانے اب تم
محبت کا ہر راگ بھلا بیٹھا ہوں
کیا بہلائیں گی اب اٹھکیلیاں تیری
خود سے نالاں ہوں
خود سے خفا بیٹھا ہوں
جو بے چین رکھتی تھیں خواہشیں مجھکو
ان سب سے دامن چھڑا بیٹھا ہوں
آزاد ھاشمی
١١  جولائی ٢٠١٨




سیاست عبادت یا بہکاوہ

" سیاست عبادت یا بہکاوہ "
اکثر سیاستدان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم سیاست عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ۔ شاید اس خیال کے پیچھے یہ سوچ ہوتی ہے کہ سیاست سے اللہ کے بندوں کی بہتری کا پہلو تلاش کیا جانا مقصود ہوتا ہے ، اسلئے یہ عبادت ہے ۔
ہر وہ عمل جو اللہ کے حکم کی اطاعت میں کیا جائے ، یقینی طور پر عبادت ہے ۔ کیونکہ عملی طور پر خود کو اللہ کا " بندہ " مان کر اللہ کی رضا کیلئے جو بھی قدم اٹھایا جائے گا ۔ یہی عبدیت ہے ۔ سیاستدان اپنی کرسی کیلئے جو بھی جتن کرتا ہے اور جو بھی خرچ کرتاہے ، اسکا عشر عشیر بھی کسی مستحق کی ہتھیلی میں نہیں رکھتا ۔ جبکہ حکم ربی یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ بھی کرو ۔ کیسے خرچ کرو ، کس کس پر خرچ کرو ، وہ بھی واضع کر دیا ۔
کیا اسکی اطاعت ہوتی ہے ؟
قرآن پاک میں ریا کار کی عبادت بھی قبولیت نہیں پاتی ، کیونکہ وہ عبادت اللہ کی نہیں ، اپنی اغراض اور اپنی خواہشات کی کرتا ہے ۔ سیاستدان کی ساری توجہ اقتدار پر ہوتی ہے ، عوام کی بہبود محض ایک جھوٹ ہوتا ہے ، جس کی بیساکھی سے وہ اقتدار کے حصول کو آسان بنانے کے جتن کرتا ہے ۔
یہ کسی بھی طور عبادت نہیں ، یہ ایک دھوکہ ہے جو عوام کو دیا جاتا ہے ، یہ ایک بہکاوہ ہے جو اپنی ذات کو دیا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨

Wednesday, 11 July 2018

جو ایمان لائے ہیں

" جو ایمان لائے ہیں "
اللہ سبحانہ تعالیٰ نے سورہ شوریٰ میں اہل ایمان کی کچھ خوبیاں اور عادات بیان فرمائی ہیں ۔
آئیے ! بحیثیت مسلمان اپنا اپنا محاسبہ کریں کہ ہم اللہ کی اطاعت کے کس درجے پر کھڑے ہیں ۔ فرمایا کہ اہل ایمان
١۔  اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں
٢ ۔ تمام کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں
٣۔ جب غصہ آتا ہے تو در گذر سے کام لیتے ہیں
٤ ۔ جنہوں نے اپنے رب کی بات مانی  ہے اور نماز قائم کی ہے ۔
٥ ۔ اور انکے معاملات آپس میں مشورے سے طے ہوتے ہیں
٦  ۔ اور ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
٧ ۔ اور جب ان پر کوئی زیادتی ہوتی ہے تو اپنا دفاع کرتے ہیں ۔
اگر ان تمام احکامات ربی پر عمل ہو جائے تو کیا بہت سارے مسائل از خود حل نہیں ہو جاتے ؟
کیا ہم اپنے رب کی رضا کیلئے ان احکامات کو اپنی زندگی پر آسانی سے لاگو کر سکتے ہیں ۔ یقینی طور پر جواب " ہاں " میں ہوگا ۔
اگر ہم اس پیغام کو عام کریں اور کسی ایک فرد کی اصلاح میں کامیاب ہو جائیں ، تو کیا ہماری عاقبت نہیں سنور جائیگی ؟
آئیے اللہ کے حکم کو ان تک پہنچائیں ، جن کو معلوم نہیں ۔ سیاست پر سر کھپانے سے کہیں بہتر ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨

وطن کو آگ مت لگاو

" وطن کو آگ مت لگاو "
سیاستدان ، عدلیہ اور ملکی
ایجینسیاں ، کچھ اسطرح میدان میں اتر آئی ہیں کہ انارکی کی آگ بری طرح سے بھڑکتی نظر آ رہی ہے ۔ لٹیرے اس ملک کو چند سالوں سے نہیں لوٹ رہے بلکہ پاکستان بنتے ہی اسکا آغاز ہوگیا تھا ۔ کون ایسا کرسی پہ بیٹھنے والا ہے ، جسکا دامن کرپشن کے داغ سے پاک ہے ۔ کونسا ایسا ادارہ ہے ، جس نے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا ۔ ہر کوئی اپنی مراعات کے چکر میں ملک کو لوٹتا رہا ہے اور لوٹتا رہے گا ۔ کیونکہ ہمارا کلچر اسکا عادی ہو گیا ہے ۔ میں اپنا ناجائز کام کروانے کیلئے  رشوت دیتا ہوں ، خود کو ایماندار کہتا ہوں ۔ حالانکہ برائی کا محرک میں ہوں ۔ ہم غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں اور جب تک اپنے نشانے کو غدار بنا نہیں دیتے ، چین سے نہیں بیٹھتے ۔ بلوچوں کے پیچھے لگے ، ان کو سنے بغیر مجبور کر دیا کہ وہ پہاڑوں پہ چڑھ جائیں ۔ اور اپنے ہی وطن کو توڑنے پر آمادہ ہو جائیں ۔ مشرقی پاکستان میں بھی یہی کیا کہ بنگالیوں کو غدار کہا ، اور اسوقت غدار کہتے رہے جب تک وہ ہم سے الگ نہیں ہوگئے ۔ پٹھانوں کے گھر بار اجاڑ دئیے ، انکو اتنا ستایا کہ انہوں نے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ خون بھی پٹھانوں کا بہے ، گھر بھی پٹھانوں کے اجڑیں ، دہشت گردی کی مہر بھی پٹھانوں پہ لگائی جائے ۔ پٹھان امیدوار پر خودکش دھماکہ بھی اور انہیں بولنے پر ملک دشمنی کا سرٹیفیکیٹ بھی ۔ یہ فساد کیطرف مائل کرنا نہیں تو کیا ہے ؟ نواز شریف کو سزا سنائی ، انکی بیٹی کو جیل میں ڈالا جائیگا ، بیٹوں کو دوسرے ملک میں ہراساں کیا جائے گا ، کیا سب کچھ ایک ساتھ کرنا ، فساد پر مائل کرنا نہیں تو کیا ہے ؟ زرداری نے کرپشن کی ، جیل کاٹی ، سرخرو ہوا ، پانچ سال ملک کا صدر رہا ، پانچ سال تک دوسری حکومت رہی ، اب انتخابات سے چند روز پہلے احتساب کا دورہ پڑ جانا ، پیپلز پارٹی کو فساد پر آمادگی کیطرف لانا نہیں تو کیا ہے ؟ اگر جمہوریت کی بات تھی تو الطاف حسین جمہوریت کے طریقے سے طاقت میں آیا تھا ، اسکی سننے میں تامل کیوں ہوا ، اور غداری کا طوق پہنا کر باہر بھیج دیا ، وہاں وہ پوری طرح باغی ہو گیا ۔
مجھے کسی سے بھی نہ وابستگی ہے اور نہ ہمدردی ، کہنا یہ ہے کہ یہ موزوں وقت بھی نہیں تھا، موزوں طریقہ بھی نہیں ۔ اگر آمدن سے زاید اثاثے قابل گرفت ہیں تو کتنے فوجی ، کتنے بیوروکریٹ ، کتنے گورنمنٹ ملازم ،  کتنے مولوی اور کتنے سیاستدان اس گرفت میں آتے ہیں ۔  حتی کہ عمران خان بھی اس گرفت سے باہر نہیں ۔
یہ احتساب ہو ، ضرور ہو ، کڑا احتساب ہو اور سب کا ہو ۔ مگر تحمل اور بردباری سے کہ ملک میں فساد کی آگ نہ لگے ۔ سب کو کھلی عدالت میں سنا جائے ، تاکہ قوم کو ابہام نہ ہو ۔بہتر ہوتا ہے کہ اپنے بھائیوں اور ہم وطنوں پر شب خون نہ مارے جائیں ، اپنے ہی لوگوں پر فاتح نہ بنا جائے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨

جماعت اگر چاہے

" جماعت اگر چاہے "
ہم زمانہ طالبعلمی سے دیکھتے آئے ہیں کہ چھوٹے بڑے واقعات میں جلوس اور احتجاجی تحریکوں کے تمغے سب سے زیادہ جماعت نے حاصل کئے ۔ قائدین کی ایک آواز اور جلوس سڑکوں پہ ۔ یہ طرہ امتیاز ہمیشہ جماعت کے ہاتھ میں رہا ۔ انکے کارکنوں کے دامن پہ کبھی کرپشن کی ایک چھینٹ بھی دکھائی نہیں دی ۔ انتہائی منظم جماعت کہ اسکی مثال نہیں ملتی ۔ اخلاق میں بے مثال ، گفتگو میں ہمیشہ فاتح ، تقاریر میں درختوں کو بھی قائل کرنے کا ہنر ۔ گویا سیاست کے میدان میں انکے پائے کا کوئی دوسرا لیڈر نہیں ۔  پھر کیا وجہ کہ لوگ انہیں اس قابل کیوں نہیں سمجھتے کہ انہیں کم از کم ایک بار ووٹ دے کر اقتدار کا شوق تو پورا کروا دیں ۔ عوام کو انکی سچائی ، سادگی ، اور حب الوطنی کیوں نظر نہیں آتی ۔ میں نے اکثر جماعت کے اکابرین سے سنا ہے کہ لوگ انہیں ووٹ ہی نہیں دیتے تو وہ اسلامی نظام کیسے لائیں ۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ جو جماعت اتنی منظم ہے ، باکردار ہے ، اور کچھ نہیں تو پورے پاکستان میں دس بیس لاکھ تو مخلص کارکن ہونگے ۔ جو اکابرین کی آواز پر سروں پہ کفن باندھ سکتے ہیں ۔ کیا دس بیس لاکھ لوگ سو سو روپیہ چندہ دینے کیلئے تیار نہیں ہونگے ۔ کیا انکے ایک کارکن کے دو تین مخلص دوست نہیں ہونگے ۔ اگر ہیں تو ملک میں معاشی انقلاب چھ ماہ میں آجائے گا ۔ شعور کیلئے ملک کے ہر کونے میں سکول کھل سکتے ہیں ، غربت کا بوریا باندھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی ۔ پھر پچھلے ستر سال سے جماعت جمہوریت کی بیساکھی سے اقتدار کے پیچھے کیوں بھاگ رہی ہے ۔ لوگوں کو عملی کارکردگی دکھائیے ، لوگ کندھوں پہ بٹھا کے کرسی پر بٹھا دیں گے ۔ آواز دے کے تو دیکھیں کہ جو اسلام کا نظام چاہتے ہیں ، جمہوریت سے الگ ہو کر ہمارے ساتھ آجائیں ، ایک ریفرنڈم تو کروا کر دیکھیں ۔ یہ سب ایک انتخاب میں الٹ پلٹ ہو جائے گا ۔ امن سے ہو جائے گا ۔ نہ کوئی خون ریزی ، نہ کوئی دھرنا ، نہ کوئی احتجاج ۔
یہ زمین پر بیٹھ کر کھانا ، سادہ سے کپڑے پہننا ، آج کے دور میں کسی کو متاثر نہیں کرتا ، لوگ اسے مکاری کا نام دیتے ہیں ، سیاست کہتے ہیں ۔ اسلئے ووٹ لینے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہونے کا امکان مفقود ہے ۔ جانتا ہوں اب جماعت کے سارے ترجمان ، تاویلیں دیں گے اور اس پر غور نہیں کریں گے ۔
ازاد ھاشمی
10جولائی 2017

Tuesday, 10 July 2018

اسلام میں آداب محفل

"اسلام میں آداب محفل "
اللہ تعالیٰ نے فرمایا!
" گفتگو کے دوران بدتمیزی نہ کیا کرو
لوگوں کے ساتھ آہستہ بولا کرو‘ اپنی آواز نیچی رکھا کرو,دوسروں کا مذاق نہ اڑایا کرو."
معاشرت کا جو حسن اسلام نے پیش کیا ، وہ کسی دوسرے مذہب کا خاصا نہیں ۔ آج جو قومیں مہذب کہلاتی ہیں ، اگر غور کیا جائے یہی وہ آداب مجلس ہیں ، جن کو ان لوگوں نے اپنا رکھا ہے ۔ ان آداب کا خیال رکھنے سے آپ کی ہر بات مدلل ہو جاتی ہے اور آپ کا ما فی الضمیر آسانی سے سمجھ آجاتا ہے ۔ آپ کی گفتکو آپ کی شخصیت کا تعارف ہوتی ہے ۔ اگر ہم دیانتداری سے جائزہ لیں ، اپنے علماء کو سنیں ، دانشوروں کی گفتگو دیکھیں ، سیاستدانوں کے مذاکرے دیکھیں تو اللہ کے ان تمام احکامات کے متضاد ہیں ۔ اسلام کی تمام تعلیمات کو ہم نے پس پشت ڈال رکھا ہے ۔ یہی وہ فقدان ہے جو ہمیں متشدد روئیے کے لوگوں کی فہرست میں لاتا ۔ اپنی بات منوانے کیلئے چیخ چیخ کر بات کرنا ، اپنی علمیت کا زعم اور رعب رکھنے کیلئے دوسروں کی تضحیک کرنا ، مخالف مکتبہ فکر کو نئے نئے نام اور القاب سے نوازنا ، ہماری روز مرہ کی عادات کا حصہ بن چکا ہے ۔ یہ نا صرف بد تہذیبی ہے بلکہ اللہ کے حکم سے سرتابی ہے ۔ اور اللہ کے ہر حکم سے سرکشی گناہ ہے ۔ اگر اس پر غور کیا جائے تو دن میں کتنی بار انجانے میں ، لاعلمی کے باعث اور بے خبری میں ہم اللہ کے ان احکامات سے سرکشی کرتے ہیں ۔ بلکہ یہ  وہ تمام ناپسندیدہ عادات ہیں جو ہمارے معمولات زندگی کا حصہ بن چکی ہیں ۔ آئیے ان احکامات    ربی کو  دوسروں تک پہنچائیں ، یہ بھی تبلیغ ہے ، یہ بھی کار خیر ہے اور یہ بھی ہمارے فرائض کا حصہ ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٠ جولائی ٢٠١٨

Monday, 9 July 2018

زراعت کیلئے

اک مٹی کا گھڑا چالیس دنوں تک تین سے چار فٹ کے احاطے کو تر وتر رکھتا ھے.اس تکنیک کو  ایگریکلچر کی تعلیم" clay pot piture permaculture exp "کا عنوان دییتا ہے
تیس یا پچاس روپے کا کمہار سے ایک گھڑا  لے کر پانی کا بھر کر گردن گردن تک اسکو مٹی میں برابر کردیں. اور پھر گھڑے کے دائرے کے چار سب اطراف میں چار نیم کے پودے لگا  دیں.(.یا قطار میں )چالیس دن بعد گھڑا دوبارہ بھردیں. یہ دیسی ڈرپ ایریگیشن سسٹم پودے کو اپنی ضرورت کا پانی اسکی جڑ کی چاہت تک دیتا رہے گا. یہاں تک کہ وہ تنا بنانے لگے.چھ ماہ میں صرف پانچ مرتبہ گھڑے کو پانی سے بھریں. صحراؤں میں ، سڑک کنارے. یا وہ جگہیں جہاں پانی کمیاب ھے. یا وہ جگہ کہ جہاں آپ پودے خرید کرلگانے کی ذمہ داری تو اٹھا سکتے ہیں مگر پانی دینے کی دیکھ بھال آپ کے بس سے باہر کا کام ھے.جو سب سے بڑی مصیبت ھے. فٹ پاتھ کنارے صحن میں گلی میں محلے میں. قطاروں میں  چار فٹ کے فاصلے میں پانی سے بھرے گھڑے دباتے جائیں اور پودے لگاتے جائیں.

درخت لگائیں۔ یا اسے شئیر کریں جزاک اللہ

Sunday, 8 July 2018

لندن کے غلام

" لندن کے غلام "
ہم آزاد ہوگئے ۔ ہزاروں گھر بار لٹے ، ہزاروں عصمتیں تار تار ہوئیں ، ہزاروں بلبلاتے بچے برچھیوں سے چھیدے گئے ، ہزاروں گردنیں کٹیں ۔ پھر بھی ایک خوشی کا احساس تھا کہ ہمارے گلوں سے غلامی کا طوق اتر گیا ۔ اب نہ کوئی اذان دینے سے روکے گا ، نہ گائے کے ذبح پر جھگڑا ہوگا ۔ ہمارے اپنے حکمران ہونگے ، ہماری اپنی سوچ ہوگی ۔ پاک جگہ ملی ہے پاک لوگ مل جل کر رہیں گے ۔ زمین پر اپنی جنت بنائیں گے ۔ اب بھارت کے وہ گاوں ، شہر جو کبھی اپنے تھے ، اب وہ سب غیر کی زمین بن گئے ۔
ابھی بھی ہم سال ان سفاکیوں پر نوحہ نہیں کرتے بلکہ خوشی مناتے ہیں ۔ آزادی کی خوشی ۔ اپنے وطن کی خوشی ۔
ایک خواب تھا جس نے ہمارے جذبوں میں حریت کی آگ بھر دی تھی ۔ اس خواب کی تعبیر دیکھنے کو کئی نسلیں جوان ہوگئیں ، کئی مٹی اوڑھ کر سو گئیں ۔ نہ خواب پورے ہوئے ، نہ ہم آزاد ہوئے اور نہ ہمیں ہمارا وطن ملا ۔ پہلے ہم انگریز کی رعایا تھے ۔ وہ بدیشی تھا ، ہمارے مذہب اور تہذیب کا دشمن تھا ۔ اب ہم اسی بدیشی حکمران کے غلاموں کی رعایا ہیں ۔ پہلے بھی حکم لندن سے آتے تھے اور حکمران بھی لندن سے ۔ اب بھی حکم لندن سے آتے ہیں اور حکمرانوں کا فیصلے بھی لندن سے ۔ آج جتنے اہم ترین جرنیل تھے ، سب کے گھر لندن میں اولاد لندن میں ۔ بڑے بڑے جاگیردار ، سیاستدان ، بیوروکریٹ اور صنعتکار سب کے گھر لندن میں ، بچے لندن میں اور سرمایہ لندن میں ۔
کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ پہلے ہم براہ راست انگریز کے غلام تھے اور اب انکے غلاموں کے غلام ۔ تو کہاں ہے وہ آزادی جو ہر سال دھوم دھام سے مناتے ہیں؟ کیا یہ خود فریبی نہیں ۔ کیا یہ خود سے دھوکہ دہی نہیں ؟؟
ہم کو کب ہوش آئے گا اور کب جاگیں گے ۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ۔ شاید اب مزید دیر کی گنجائش نہیں رہی ۔ کیا ہم کو ان تمام کا احتساب کرتے ہوئے ، سوال کرنے کا حق بھی نہیں کہ بھائی ، قوم کو کب تک دھوکے میں رکھو گے ۔ جب تمہارے بچوں کیلئے یہاں کی تعلیم موزوں نہیں ، جب تمہارے لئے یہاں کی طبی سہولتیں مناسب نہیں ، تو ساری قوم کیلئے کیسے ۔ جن کے ٹیکس سے یہ عیاشی فرما رہے ہو ، ان کے حقوق کہاں ہیں ؟
جب تک قوم نے انکو گریبانوں میں جھانکنے پر مجبور نہ کیا ، یہ سب جمہوریت ، مارشل لاء ، قومی حکومت ڈھونگ ہے ۔ جب تک قوم نے خود احتساب نہ کیا ، حالت بد سے بدتر ہوتی رہے گی ۔
ہمیں خود بھی لندن کے سحر سے نکلنا ہو گا اور قائدین کو بھی نکالنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
٨ جولائی ٢٠١٨