" سیاست عبادت یا بہکاوہ "
اکثر سیاستدان بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم سیاست عبادت سمجھ کر کرتے ہیں ۔ شاید اس خیال کے پیچھے یہ سوچ ہوتی ہے کہ سیاست سے اللہ کے بندوں کی بہتری کا پہلو تلاش کیا جانا مقصود ہوتا ہے ، اسلئے یہ عبادت ہے ۔
ہر وہ عمل جو اللہ کے حکم کی اطاعت میں کیا جائے ، یقینی طور پر عبادت ہے ۔ کیونکہ عملی طور پر خود کو اللہ کا " بندہ " مان کر اللہ کی رضا کیلئے جو بھی قدم اٹھایا جائے گا ۔ یہی عبدیت ہے ۔ سیاستدان اپنی کرسی کیلئے جو بھی جتن کرتا ہے اور جو بھی خرچ کرتاہے ، اسکا عشر عشیر بھی کسی مستحق کی ہتھیلی میں نہیں رکھتا ۔ جبکہ حکم ربی یہ ہے کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے وہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ بھی کرو ۔ کیسے خرچ کرو ، کس کس پر خرچ کرو ، وہ بھی واضع کر دیا ۔
کیا اسکی اطاعت ہوتی ہے ؟
قرآن پاک میں ریا کار کی عبادت بھی قبولیت نہیں پاتی ، کیونکہ وہ عبادت اللہ کی نہیں ، اپنی اغراض اور اپنی خواہشات کی کرتا ہے ۔ سیاستدان کی ساری توجہ اقتدار پر ہوتی ہے ، عوام کی بہبود محض ایک جھوٹ ہوتا ہے ، جس کی بیساکھی سے وہ اقتدار کے حصول کو آسان بنانے کے جتن کرتا ہے ۔
یہ کسی بھی طور عبادت نہیں ، یہ ایک دھوکہ ہے جو عوام کو دیا جاتا ہے ، یہ ایک بہکاوہ ہے جو اپنی ذات کو دیا جاتا ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨
Thursday, 12 July 2018
سیاست عبادت یا بہکاوہ
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment