" وطن کو آگ مت لگاو "
سیاستدان ، عدلیہ اور ملکی
ایجینسیاں ، کچھ اسطرح میدان میں اتر آئی ہیں کہ انارکی کی آگ بری طرح سے بھڑکتی نظر آ رہی ہے ۔ لٹیرے اس ملک کو چند سالوں سے نہیں لوٹ رہے بلکہ پاکستان بنتے ہی اسکا آغاز ہوگیا تھا ۔ کون ایسا کرسی پہ بیٹھنے والا ہے ، جسکا دامن کرپشن کے داغ سے پاک ہے ۔ کونسا ایسا ادارہ ہے ، جس نے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کیا ۔ ہر کوئی اپنی مراعات کے چکر میں ملک کو لوٹتا رہا ہے اور لوٹتا رہے گا ۔ کیونکہ ہمارا کلچر اسکا عادی ہو گیا ہے ۔ میں اپنا ناجائز کام کروانے کیلئے رشوت دیتا ہوں ، خود کو ایماندار کہتا ہوں ۔ حالانکہ برائی کا محرک میں ہوں ۔ ہم غداری کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں اور جب تک اپنے نشانے کو غدار بنا نہیں دیتے ، چین سے نہیں بیٹھتے ۔ بلوچوں کے پیچھے لگے ، ان کو سنے بغیر مجبور کر دیا کہ وہ پہاڑوں پہ چڑھ جائیں ۔ اور اپنے ہی وطن کو توڑنے پر آمادہ ہو جائیں ۔ مشرقی پاکستان میں بھی یہی کیا کہ بنگالیوں کو غدار کہا ، اور اسوقت غدار کہتے رہے جب تک وہ ہم سے الگ نہیں ہوگئے ۔ پٹھانوں کے گھر بار اجاڑ دئیے ، انکو اتنا ستایا کہ انہوں نے سوچنا شروع کر دیا ہے کہ خون بھی پٹھانوں کا بہے ، گھر بھی پٹھانوں کے اجڑیں ، دہشت گردی کی مہر بھی پٹھانوں پہ لگائی جائے ۔ پٹھان امیدوار پر خودکش دھماکہ بھی اور انہیں بولنے پر ملک دشمنی کا سرٹیفیکیٹ بھی ۔ یہ فساد کیطرف مائل کرنا نہیں تو کیا ہے ؟ نواز شریف کو سزا سنائی ، انکی بیٹی کو جیل میں ڈالا جائیگا ، بیٹوں کو دوسرے ملک میں ہراساں کیا جائے گا ، کیا سب کچھ ایک ساتھ کرنا ، فساد پر مائل کرنا نہیں تو کیا ہے ؟ زرداری نے کرپشن کی ، جیل کاٹی ، سرخرو ہوا ، پانچ سال ملک کا صدر رہا ، پانچ سال تک دوسری حکومت رہی ، اب انتخابات سے چند روز پہلے احتساب کا دورہ پڑ جانا ، پیپلز پارٹی کو فساد پر آمادگی کیطرف لانا نہیں تو کیا ہے ؟ اگر جمہوریت کی بات تھی تو الطاف حسین جمہوریت کے طریقے سے طاقت میں آیا تھا ، اسکی سننے میں تامل کیوں ہوا ، اور غداری کا طوق پہنا کر باہر بھیج دیا ، وہاں وہ پوری طرح باغی ہو گیا ۔
مجھے کسی سے بھی نہ وابستگی ہے اور نہ ہمدردی ، کہنا یہ ہے کہ یہ موزوں وقت بھی نہیں تھا، موزوں طریقہ بھی نہیں ۔ اگر آمدن سے زاید اثاثے قابل گرفت ہیں تو کتنے فوجی ، کتنے بیوروکریٹ ، کتنے گورنمنٹ ملازم ، کتنے مولوی اور کتنے سیاستدان اس گرفت میں آتے ہیں ۔ حتی کہ عمران خان بھی اس گرفت سے باہر نہیں ۔
یہ احتساب ہو ، ضرور ہو ، کڑا احتساب ہو اور سب کا ہو ۔ مگر تحمل اور بردباری سے کہ ملک میں فساد کی آگ نہ لگے ۔ سب کو کھلی عدالت میں سنا جائے ، تاکہ قوم کو ابہام نہ ہو ۔بہتر ہوتا ہے کہ اپنے بھائیوں اور ہم وطنوں پر شب خون نہ مارے جائیں ، اپنے ہی لوگوں پر فاتح نہ بنا جائے ۔
آزاد ھاشمی
١٢ جولائی ٢٠١٨
Wednesday, 11 July 2018
وطن کو آگ مت لگاو
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment