Sunday, 8 July 2018

لندن کے غلام

" لندن کے غلام "
ہم آزاد ہوگئے ۔ ہزاروں گھر بار لٹے ، ہزاروں عصمتیں تار تار ہوئیں ، ہزاروں بلبلاتے بچے برچھیوں سے چھیدے گئے ، ہزاروں گردنیں کٹیں ۔ پھر بھی ایک خوشی کا احساس تھا کہ ہمارے گلوں سے غلامی کا طوق اتر گیا ۔ اب نہ کوئی اذان دینے سے روکے گا ، نہ گائے کے ذبح پر جھگڑا ہوگا ۔ ہمارے اپنے حکمران ہونگے ، ہماری اپنی سوچ ہوگی ۔ پاک جگہ ملی ہے پاک لوگ مل جل کر رہیں گے ۔ زمین پر اپنی جنت بنائیں گے ۔ اب بھارت کے وہ گاوں ، شہر جو کبھی اپنے تھے ، اب وہ سب غیر کی زمین بن گئے ۔
ابھی بھی ہم سال ان سفاکیوں پر نوحہ نہیں کرتے بلکہ خوشی مناتے ہیں ۔ آزادی کی خوشی ۔ اپنے وطن کی خوشی ۔
ایک خواب تھا جس نے ہمارے جذبوں میں حریت کی آگ بھر دی تھی ۔ اس خواب کی تعبیر دیکھنے کو کئی نسلیں جوان ہوگئیں ، کئی مٹی اوڑھ کر سو گئیں ۔ نہ خواب پورے ہوئے ، نہ ہم آزاد ہوئے اور نہ ہمیں ہمارا وطن ملا ۔ پہلے ہم انگریز کی رعایا تھے ۔ وہ بدیشی تھا ، ہمارے مذہب اور تہذیب کا دشمن تھا ۔ اب ہم اسی بدیشی حکمران کے غلاموں کی رعایا ہیں ۔ پہلے بھی حکم لندن سے آتے تھے اور حکمران بھی لندن سے ۔ اب بھی حکم لندن سے آتے ہیں اور حکمرانوں کا فیصلے بھی لندن سے ۔ آج جتنے اہم ترین جرنیل تھے ، سب کے گھر لندن میں اولاد لندن میں ۔ بڑے بڑے جاگیردار ، سیاستدان ، بیوروکریٹ اور صنعتکار سب کے گھر لندن میں ، بچے لندن میں اور سرمایہ لندن میں ۔
کیا یہ ستم ظریفی نہیں کہ پہلے ہم براہ راست انگریز کے غلام تھے اور اب انکے غلاموں کے غلام ۔ تو کہاں ہے وہ آزادی جو ہر سال دھوم دھام سے مناتے ہیں؟ کیا یہ خود فریبی نہیں ۔ کیا یہ خود سے دھوکہ دہی نہیں ؟؟
ہم کو کب ہوش آئے گا اور کب جاگیں گے ۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ۔ شاید اب مزید دیر کی گنجائش نہیں رہی ۔ کیا ہم کو ان تمام کا احتساب کرتے ہوئے ، سوال کرنے کا حق بھی نہیں کہ بھائی ، قوم کو کب تک دھوکے میں رکھو گے ۔ جب تمہارے بچوں کیلئے یہاں کی تعلیم موزوں نہیں ، جب تمہارے لئے یہاں کی طبی سہولتیں مناسب نہیں ، تو ساری قوم کیلئے کیسے ۔ جن کے ٹیکس سے یہ عیاشی فرما رہے ہو ، ان کے حقوق کہاں ہیں ؟
جب تک قوم نے انکو گریبانوں میں جھانکنے پر مجبور نہ کیا ، یہ سب جمہوریت ، مارشل لاء ، قومی حکومت ڈھونگ ہے ۔ جب تک قوم نے خود احتساب نہ کیا ، حالت بد سے بدتر ہوتی رہے گی ۔
ہمیں خود بھی لندن کے سحر سے نکلنا ہو گا اور قائدین کو بھی نکالنا ہو گا ۔
آزاد ھاشمی
٨ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment