" جماعت اگر چاہے "
ہم زمانہ طالبعلمی سے دیکھتے آئے ہیں کہ چھوٹے بڑے واقعات میں جلوس اور احتجاجی تحریکوں کے تمغے سب سے زیادہ جماعت نے حاصل کئے ۔ قائدین کی ایک آواز اور جلوس سڑکوں پہ ۔ یہ طرہ امتیاز ہمیشہ جماعت کے ہاتھ میں رہا ۔ انکے کارکنوں کے دامن پہ کبھی کرپشن کی ایک چھینٹ بھی دکھائی نہیں دی ۔ انتہائی منظم جماعت کہ اسکی مثال نہیں ملتی ۔ اخلاق میں بے مثال ، گفتگو میں ہمیشہ فاتح ، تقاریر میں درختوں کو بھی قائل کرنے کا ہنر ۔ گویا سیاست کے میدان میں انکے پائے کا کوئی دوسرا لیڈر نہیں ۔ پھر کیا وجہ کہ لوگ انہیں اس قابل کیوں نہیں سمجھتے کہ انہیں کم از کم ایک بار ووٹ دے کر اقتدار کا شوق تو پورا کروا دیں ۔ عوام کو انکی سچائی ، سادگی ، اور حب الوطنی کیوں نظر نہیں آتی ۔ میں نے اکثر جماعت کے اکابرین سے سنا ہے کہ لوگ انہیں ووٹ ہی نہیں دیتے تو وہ اسلامی نظام کیسے لائیں ۔
میں حیران ہوتا ہوں کہ جو جماعت اتنی منظم ہے ، باکردار ہے ، اور کچھ نہیں تو پورے پاکستان میں دس بیس لاکھ تو مخلص کارکن ہونگے ۔ جو اکابرین کی آواز پر سروں پہ کفن باندھ سکتے ہیں ۔ کیا دس بیس لاکھ لوگ سو سو روپیہ چندہ دینے کیلئے تیار نہیں ہونگے ۔ کیا انکے ایک کارکن کے دو تین مخلص دوست نہیں ہونگے ۔ اگر ہیں تو ملک میں معاشی انقلاب چھ ماہ میں آجائے گا ۔ شعور کیلئے ملک کے ہر کونے میں سکول کھل سکتے ہیں ، غربت کا بوریا باندھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں رہتی ۔ پھر پچھلے ستر سال سے جماعت جمہوریت کی بیساکھی سے اقتدار کے پیچھے کیوں بھاگ رہی ہے ۔ لوگوں کو عملی کارکردگی دکھائیے ، لوگ کندھوں پہ بٹھا کے کرسی پر بٹھا دیں گے ۔ آواز دے کے تو دیکھیں کہ جو اسلام کا نظام چاہتے ہیں ، جمہوریت سے الگ ہو کر ہمارے ساتھ آجائیں ، ایک ریفرنڈم تو کروا کر دیکھیں ۔ یہ سب ایک انتخاب میں الٹ پلٹ ہو جائے گا ۔ امن سے ہو جائے گا ۔ نہ کوئی خون ریزی ، نہ کوئی دھرنا ، نہ کوئی احتجاج ۔
یہ زمین پر بیٹھ کر کھانا ، سادہ سے کپڑے پہننا ، آج کے دور میں کسی کو متاثر نہیں کرتا ، لوگ اسے مکاری کا نام دیتے ہیں ، سیاست کہتے ہیں ۔ اسلئے ووٹ لینے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر ہونے کا امکان مفقود ہے ۔ جانتا ہوں اب جماعت کے سارے ترجمان ، تاویلیں دیں گے اور اس پر غور نہیں کریں گے ۔
ازاد ھاشمی
10جولائی 2017
Wednesday, 11 July 2018
جماعت اگر چاہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment