" ایمان کیسے "
سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ۔
" یہ اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ۔ البتہ یہ کہو کہ ہم نے تسلیم کیا ۔ اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ۔ ہاں اگر تم اللہ اور رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا ۔ یقینا اللہ غفور و رحیم ہے "
اللہ سبحانہ تعالیٰ کا واضع اعلان ہے کہ ایمان لانے کا دعویٰ اس وقت تک مکمل نہیں ، جب تک اللہ اور اسکے حبیبؐ کی اطاعت کے معیار کو پورا نہ کیا جائے ۔ اعراب ، یعنی عرب کے دیہاتی ، ارکان عبادت کو پورا کرتے تھے ، اسلام لانے کی ساری شرائط پر من و عن عمل کرتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ تمہارے سارے نیک اعمال کا صلہ ملے گا ، مگر یہ سب ایمان نہیں کہلاتا ۔ ایمان اسی وقت کہلائے گا ، جب تم لوگ اللہ کی اطاعت اور رسولؐ کی اطاعت کو پورا کرو گے ۔ اطاعت کسی تحقیق ، کسی تفصیل میں جائے بغیر اپنے عقل و شعور کو الگ رکھتے ہوئے ، تسلیم کرنے اور اس پر عمل کرنے کا نام ہے ۔ کیوں ، کیا اور کیسے جیسا کوئی سوال اطاعت کی نفی ہے ۔ یہی وہ کمزوری تھی جو اعراب کے مزاج کا حصہ تھی ۔ یہی وہ کمزوری ہے جو آج ہمارے مزاج میں داخل ہے ۔ اللہ نے حکم دیا کہ آپس میں تفرقہ بازی کو فروغ مت دو ، سود اللہ سے جنگ ہے ، شیطان سے دوستی نہ کرو ، اور کتنے ہی ایسے حکم ہیں ، جن کو ہم نے سنا مگر اطاعت نہیں کی ، مصلحت اور ضرورت کے تحت اپنے راستے ترتیب دے لئے ، تو کیا ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ہم اہل ایمان ہوگئے ؟ ہمیں اپنا احتساب کرنا ہوگا ۔
آزاد ھاشمی
١٤ جولائی ٢٠١٨
Saturday, 14 July 2018
ایمان کیسے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment