Sunday, 15 July 2018

سب کو ایک جماعت کیوں نہیں بنایا

" سب کو ایک جماعت کیوں نہیں بنایا "
"اور اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا ۔ لیکن وہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے ۔ اور جو ظالم لوگ ہیں انکا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ کوئی مددگار " (سورہ الشوریٰ ٨ )
اللہ سبحانہ تعالیٰ کے پاک کلام کا اعزاز ہے ، کہ اہم ترین مسائل سے بہت آسان الفاظ میں پردہ اٹھا دیا جاتا ہے ۔ اللہ نے اس آیت مبارکہ میں فرمایا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ایک جماعت بنا ڈالتا ۔ مگر ایسا کیوں نہیں ہوا ۔ کیونکہ اللہ پاک اپنے اس کرم سے صرف اسی کو نوازتا ہے ، جسے وہ چاہتا ہے ۔  جو اسکی اطاعت کرتا ہے ، جو اسکی رضا پر راضی رہتا ہے ، اور جو اسکے احکامات پر پابند رہتا ۔  جو ایسا نہیں کرتا اسے اللہ سبحانہ تعالیٰ کھلا چھوڑ دیتا ہے ، کیونکہ اللہ کے احکامات سے سرتابی ایسا عمل ہے جو ظلم کے زمرے میں آتا ہے ۔ ظالموں کو بے لگام چھوڑ دینا ، انکے اعمال کی سزا ہے ۔ ظالم جنگل کے درندوں کیطرح ہوتے ہیں ،  جس میں ایک طاقتور دوسرے کمزور کو چیر پھاڑ دیتا ہے ۔  کمزور ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بجائے ظالم کے ظلم اور مظلوم کو ظلم کا شکار ہوتے دیکھتے رہتے ہیں ۔ نہ کوئی نگہبانی کرتا ہے اور نہ کوئی مدد گار ہوتا ہے ۔ ایسی ہی کیفیت کیطرف اشارہ ہے کہ انسان ٹولیوں میں اسلئے بٹ گیا کہ وہ ظالم ہو گیا ۔  اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انکو بے یار و مددگار چھوڑ دیا ۔ اب طاقتور ، کمزور کے بخئے ادھیڑ رہا ہے اور کمزور مل کر تماشا دیکھ رہے ہیں ۔
جب مجھے اس آیت مبارکہ پر غور کرنے کی سعادت حاصل ہوئی تو بدن میں عجیب سی سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔ یقین ہوگیا کہ ہماری تفریق کا سبب تو واضع ہے ، اللہ نے ہم مسلمانوں کو یوں بے یارومددگار چھوڑ دیا ، ہماری بیشمار دعاوں اور التجاوں کے باوجود ہماری مدد کو نہ آنا ، تو کھلا اشارہ ہے کہ ہم ظالم ہو گئے ہیں ۔ تفریق کا یہ عالم کہ مسالک کے نام پر ، زبان کے نام پر ، سیاست کے نام پر ،  ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ، غربت اور امارت کے امتیاز سے ہم ایک ایک ہو کر جی رہے ہیں ۔ یہ تو بڑا ظلم تھا ، جس وجہ سے اللہ کی نصرت سے محروم ہوگئے ہیں ۔
اللہ کی نصرت حاصل کرنے کیلئے ، لازم ہے کہ اس منزل کیطرف مڑ جائیں ، جہاں اللہ کی رضا شامل ہوتی ہے ۔
آزاد ھاشمی
١٥ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment