" بھونکنا کتے کی خصلت ہے "
ہم اشرف المخلوقات کیوں ہیں ؟ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے انسان کو شعور دیا ، صحیح اور غلط کی تمیز بخشی اور حدود مقرر کر دیں کہ گفتگو کیسے کرنی ہے ، دوسرے انسان کو اخلاقیات کی حدود کے اندر رہ کر کیسے برتاو کرنا ہے ۔
صحیح اور غلط کی تمیز ، اپنے اور دوسرے کے حقوق پر پابند رہنے کا وصف صرف انسان کو ملا ۔
آج یہ دیکھ کر کہ خود کو تعلیم یافتہ ، مہذب اور باشعور سمجھنے والا یہی انسان ، اخلاقیات کی پستی کے اس مقام پر پہنچ گیا ہے ۔ کہ اسی نوے سال کی بوڑھی ماں کو ، محض سیاسی وابستگی کی بناء پر " گشتی " کہنے پر بضد ہے ۔ وہ بھول گیا کہ جانوروں میں رشتوں کا کوئی تقدس نہیں ہوتا ۔ مگر انسانوں میں یہی تقدس اسے اشرف المخلوقات بناتا ہے ۔ ایک سیاسی لیڈر اس قدر کردار سے عاری ہے کہ عوام کو مخالف سیاسی خیا لات رکھنے والوں کو " گدھا " کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ۔ کتا بھی بھونکتے ہوئے ، خیال رکھتا ہے کہ کس پر بھونکنا ہے اور کس پر نہیں ۔ سانپ بھی معصوم بچے کو آزار نہیں پہنچاتا ۔ کیا ایسی تقاریر اور ایسی تحاریر ، جس میں دوسروں کی تحقیر کی حد پھلانگ دی جائے ۔ بیٹی ، ماں اور بہن کی تمیز ختم ہو جائے ۔ یہ تو اشرف المخلوقات کا مقام نہیں ۔ بھونکنا تو کتے کی فطرت ہے ، انسان کی نہیں ۔
کیا ایسے لوگوں پر واہ واہ کرنا قرین قیاس ہے یا تھو تھو کرنا؟ بھونکتے کتے کو چپ کرانے کا جتن کرنا چاہئیے یا اسے مزید بھونکنے کی ترغیب دینی چاہئیے ؟
یہ کونسا سیاسی منشور ہے ، جس میں مخالف نظریات والے گدھے ہو جاتے ہیں اور مخالفین کی ماوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو " گشتیاں " کہا جانے لگے ۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے کہ یہ رحجان رکنا چاہئیے یا اسے جاری رکھنے پر اسکا ساتھ دیا جائے ؟
آزاد ھاشمی
١٧ جولائی ٢٠١٨
Monday, 16 July 2018
بھونکنا کتے کی خصلت ہے
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment