Friday, 20 July 2018

تمہارا لیڈر جیت گیا

" تمہارا لیڈر جیت گیا "
چند روز بعد بہت سارے قسمت کے دھنی ہونگے ، جن کے لیڈر جیت جائیں گے ۔ مٹھائیاں تقسیم ہونگی ، بھنگڑے ڈالے جائیں گے ، ہار پہنائے جائیں گے ۔ ان گھروں میں بھی عید جیسی خوشی ہوگی ، جن کے بچے صبح اٹھ کر کسی ورکشاپ پر گاڑیوں کی کالک منہ پہ ملنے کو نکلتے ہونگے ۔ وہ لوگ بھی پھولے نہیں سمائیں گے ، جن کا چولہا اسی روز جلتا ہے ، جس روز مزدوری مل جاتی ہے ۔ بیماری میں دوائی کو ترسنے والے بھی ایسے ناچیں گے جیسے لاٹری نکل آئی ہو ۔ کئی اسلئے بھی چہک رہے ہونگے کہ اس بار انکا ایم اے پاس بیٹا کہیں نہ کہیں کلرک تو لگ ہی جائے گا ۔ جس سے انکی قسمت کے دروازے کھل جائیں گے ۔ کئی بدقماش بغیر سلوٹ کے لباس میں اکڑ کر باہر نکلیں گے ، کہ اب انکی غنڈہ گردی پر پکڑنے کی کسی تھانیدار کو جرات نہیں ہوگی ۔ چھابڑی لگانے والے قہقہے لگائیں گے کہ اب اسکی چھابڑی کو ہٹانے کوئی نہیں آئے گا ۔
ان سب خوش بخت کارکنوں کو بہت بہت مبارک ہو ۔
ان سب کو مبارک ہو ، جن کی برادری کا آدمی اسمبلی کی کرسی پہ بیٹھ گیا ۔ بھاڑ میں گیا نظریہ ، تف ہو کردار کی فکر پر ، اچھا ہوا ضمیر ہار گیا اور امید جیت گئی ۔
کردار سے کیا لینا دینا ۔ ایسے امیدوار کا ہارنا ہی بہتر تھا ، جس کو ایمانداری ، اللہ کا خوف ، غریب پروری کا خبط ہو ۔ جو صرف جائز کام کیلئے مدد کرے ، ایسے امیدوار کا ہار جانا ہی بہتر تھا ۔ آخر معاشرے میں حق گوئی چاہنے والے ہوتے ہی کتنے ہیں ۔ اصل ضرورت تو ہوتی ہی بدقماشوں کو ہے ، جن کی عمر تھانوں اور کچہریوں میں گذرتی ہے ۔ شریف آدمی کا کیا لینا دینا ، کون جیتا ، کون ہارا ۔ اصل خوشی تو انکی بنتی ہے ، جنہوں نے بجلی چوری کرنی ہے ، بنکوں سے قرضے معاف کروانے ہیں ، پچھلے مقدمے ختم کرانے ہیں ، ٹھیکے لینے ہیں ، چھوٹے چھوٹے گلی محلے کے الیکشن لڑنے ہیں ۔ شرفاء کو دھونس میں رکھنا ہے ۔ ایم این اے کی تصویر گھر میں لگانی ہے ، تاکہ ثواب بھی ملے اور ضرورت کے وقت کام بھی آئے ۔
کچھ ایسے بھی بغلیں بجائیں گے ، جن کو زعم ہے کہ انکا لیڈر نظریاتی ہے ۔ اب کے ملک میں خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی ۔ مجرم کالے پانی کی سزا پائیں گے ۔ انکا جذبہ تو چند ماہ بڑے زور شور سے چلے گا ۔ پھر یہ دانشور کندھے پہ تنقید کا کلہاڑا رکھ لیں گے ۔ ندامت سے دامن بچا کر بولنا شروع کریں گے کہ " ہم تو پہلے ہی جانتے تھے ، یہ لیڈر خبیث تھا ۔ جو ہار گیا وہ اچھا تھا "
کیا ہوا ، اللہ کے دین کے متوازی نظام جیت گیا ۔ اسلام کا تعلق تو مسجد تک ہے ، حج ، روزے ، نماز اور زکوٰة کا نام اسلام ہے ۔ اصل تو جمہوریت ہے ، جس سے دین اور دنیا روشن ہو جاتی ہے ۔
چلو ! ہم کیوں دماغ کی چٹنی بنائیں ۔ ہم بھی منافقت کی سیڑھی پہ کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ جو جیت گیا مبارک ہو ۔ جو ہار گیا " بہت برا ہوا " دونوں خوش ۔ ہم پہلے بھی منافقت کے ساتھ تھے ، جمہوریت کی کشتی میں سوار تھے ۔ اللہ تو کریم ہے ، دو چار بار معافی مانگیں گے ، معاف کر دے گا ۔ مگر ممبر صاحب کی دشمنی ٹھیک نہیں ۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، کہیں یتیم ہی نہ کر دئیے جائیں ۔ اسی میں عافیت ہے کہ جیتنے والے کی خوشی میں بھنگڑہ ڈال لیں ۔
آزاد ھاشمی
٢٠ جولائی ٢٠١٨

No comments:

Post a Comment