Tuesday, 17 July 2018

میری قبر پہ لکھوا دینا

" میری قبر پہ لکھوا دینا "  
ناداں تھا
مر گیا ہے ، چاہت کی سیاحی میں
دوسروں کے درد میں
رہا ہے بیمار اکثر
خلوص کے مرض نے
  لی ہے  جان اسکی
ہر کسی کے درد کو
بانٹنے کا مرض بھی لاحق تھا اسکو
لکھوا دینا
اس سیارے کی مخلوق نہیں تھا یہ
پتھر کے زمانے کی باتیں  کیا کرتا تھا
جاہل تھا
کچھ بھی تو نہیں جانتا تھا
محبت کو ایمان بنائے بیٹھا تھا
دو لمحے جو ہنس لیتا تھا اس سے
اس کو اپنا ہی مان  لیتا تھا
جو سنا  یقین کر لیا اس نے
لاکھ سمجھاو کہ
زو معنے ہیں لفظ یہاں پہ
خنجر  ہیں آستینوں میں 
مطلب کے ہیں سب رشتے ناطے
نہ سنتا تھا نہ مانتا تھا 
لکھوا دینا
یہی سوچتے چلا گیا ہے دنیا سے
کہ اک روز بدلے گا نظام دنیا 
اک روز کھلیں کے محبت کے گلاب
اک روز فضاوں میں خوشبو ہوگی
اک روز چھائے گا چاہت کا خمار
اک روز جینے کا مزہ آئے گا
لکھوا دینا
جو یہاں سویا ہے 
کوئی نہیں  تھا اسکا
نہ کوئی نام تھا اسکا
نہ کوئی پہچان تھی اسکی
نہ کوئی پریتم تھا اسکا
نہ کوئی جان تھی اسکی
کسی اور نگر سے آیا تھا
کسی اور نگر کو چلا گیا
آزاد ھاشمی
١٨ جولائی ٢٠١٨


No comments:

Post a Comment